ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دریائے چترال اور معدنیات کی دولت

………..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضیؔ ……


میرے تو لفظ بھی کو ڑی کے نہیں
تیرا نقط بھی سند ہے۔۔حد ہے
تیری ہر با ت ہے سر آنکھوں پر
میری ہر با ت ہی رد ہے ۔۔حد ہے
چترال کا پشا ور سے ایک شکو ہ ہے اور شکو ہ بجا ہے ۔میرا دریا جب وادی پشاور میں داخل ہو تا ہے تو اس کو دریا ئے چترال کی جگہ دریا ئے کا بل کا نام دیا جا تا ہے ۔حا لا نکہ اس دریا کا منبع چترال ہے ۔475 کلو میٹر چترال میں بہنے کے بعدوادی کنٹر اور ننگر ہار سے ہو کر وادی پشا ور میں دا خل ہو تا ہے۔کا بل کی صورت بھی اس دریا نے نہیں دیکھی ۔پھر بھی پشاور میں اس کو دریا ئے کا بل کا نام گیا ۔
خا مہ انگشت بد ندان ہے اسے کیا کہیئے نا طقہ سر بگر بیاں ہے اے کیا کہیئے

پشا ور میں مشہور مقو لہ ہے “زمین سو نا اگلتی ہے” مگر یہ نہیں کہا جا تا کہ سو نا کہا ں سے آتا ہے ؟آتش نے کیا بات کہی:
زیر زمین سے جو آتاہے سوز ربکف قارون نے راستے میں لٹا یا خزانہ کیا
پشاور میں کسی کو معلوم نہیں کہ دریا کا بل کو چترال میں سورموغ کہا جا تا ہے ۔کھوار میں سوروم سو نے کو کہتے ہیں اور اوغ پانی کا نام ہے ۔سو رموغ کے معنی ہیں “سونا لیکر آنے والا پا نی ” جب پشاور اس دریا کو دریا ئے چترال تسلیم کر ے گا تب جا کر معلوم ہو گا کہ زمین جو سو نا اگلتی ہے وہ قارون کے خزانے سے نہیں چترال کے پہا ڑوں سے آتا ہے ۔دریا ئے چترال اس بات کی گو اہی دیتا ہے کہ گندھارا تہذیب چترال اور پشا ور کہ مشترک تہذیب ہے ۔جب دریا ئے با ڑہ پشاور کے وسط سے گزرتا تھا۔تب بھی دریا ئے چترال وادی پشاور کو سیراب کر تا تھا ۔دوسری صدی قبل از مسیح میں گندھارا سلطنت کے راجہ کنشکا ((Kanishka نے دریا ئے چترال کے منبع تک پہنچے کا ارادہ کیا تو ننگر ہار اور کنٹر کے راستے قشقارپہنچا ،یہ چترال کا وہ نام ہے جو پر ش پور اور پشکلا وتی میں زبان زد عام تھا ،اس کی شہرت شمال میں کا شغر ،یا رکند ، سمر قند اوربخارا تک تھی ۔دریا ئے چترال کے دونوں کناروں پر ارندو چٹر بٹ سے لیکر 475 کلو میٹر شمال میں بر وغیل قرمبرہ تک چٹا نوں پر لکھے ہو ئے کتبے اور بد ھا کے مجسمے اس دور کی یا دگار ہیں ۔دریائے چترال کے ساتھ سا تھ گندھارا سلطنت بھی تا ریخ کی مشترکہ یادگار ہے ۔جو پشاور اور چترال کی قربتوں کی یا د دلا تا ہے ۔فرغا نہ کا با دشاہ ایک بار گر میاں گزارنے با دغیس گیا ۔رود کی با دشاہ کے ہمراہ تھا ۔ دریا ئے آموکے کنا رے ان کو فر غانہ کی یاد آئی تو بے سا ختہ ان کی زبان سے نکلی ۔
بو ئے جو ئے مو لیاں آید ہمی یاد یار مہربان آید ہمی
آب جیحو ں از نشا ط روئے دوست خنگ مارا تا میاں آید ہمی
یہی کیفیت پشاور میں دریائے کا بل کے کنا رے چترال کا خواب دیکھنے والے چترالی کی ہو تی ہے ۔بو ئے جو ئے مو لیاں کی جگہ اس کو سنو غر ،ریشن، کوغذی اور ایون کی خو شبو آتی ہے اور دریا ئے کا بل میں منہ ہا تھ دھو تے ہو ئے وہ اس پا نی میں اپنے محبوب کے لب ورخسار اور گیسوئے تا بدار کی خو شبو کو محسوس کر تا ہے ۔چترال اگر فرغا نہ ہے تو پشاور اس کا باد غیس ہے ۔مجھے نا گمان اور نو شہرہ کلا ں میں دریائے کا بل کے کنا رے چترال کی دولت پا نی میں بہتی ہو ئی نظر آئی ہے یہ معدنیات کی دو لت ہے ۔اس میں 73 اقسام کے دھا توں اور 28 اقسام کے جو اہرات اپنے ذرّوں کے نور بکھیر تے ہو ئے نظر آتے ہیں ۔یہ دریا ئے چترال کی فیا ضی ہے جو پہا ڑوں کے خزانوں سے میدانوں کا دامن بھر دیتا ہے اور مرد کو ہستانی کا رشتہ بندہ صحرائی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ دریائے چترال پہا ڑوں سے صرف سو نا بہا کر نہیں لے جا تا ، موجودہ دور میں دنیا کی سب سے بڑی ضرورت اور پا کستان کا سرمایہ افتخار یعنی جو ہری ٹیکنالوجی کا سب سے اہم دھات یو رینیم کو بھی اپنے سا تھ بہا کر لے جا تا ہے ۔ دریا ئے چترال کا لیبا رٹری ٹیسٹ اس با ت کا ثبوت دیتا ہے۔ کہ یو رینیم اس کے اجزامیں جزو اعظم ہے ۔اس وجہ سے ڈاکٹر اے کیو خان اور ڈاکٹر ثمر مبا رک مند کو دریائے چترال سے محبت ہے ۔ایٹمی ری یکٹر کی ایک اور ضرورت انٹی منی یعنی سر مے کا پتھر بھی دریا ئے چترال میں اپنا جلوہ دکھا تاہے ۔یہ وہ پتھر ہے جو محبوب کو تیر کمان اور پاک فوج کو میزائل کے ہتھیار عطا کر تا ہے ۔امر یکی اور چینی ما ہرین کو یو رنییم اور انٹی منی کے ذخا ئر نے دریا ئے چترال کا ایسا گرویدہ بنا یا ہے کہ دونوں ان کے طواف میں دن رات لگے ہو ئے ہیں ۔تا ہم دریا ئے چترال ان کو راستہ نہیں دیتا ۔یہ وہ دریا ہے جو یا قوت اور ہیرے جواہرات،زمرد اور ابرق (Mica) کے کا نوں سے گز رتا ہے، سنگ مرمر کو تر اشتا اور عقیق و زہر مرہ کو نکھار تا ہوا آگے بڑھتا ہے ۔اس کے جھر نوں میں فولاد کی طاقت ،اس کے آبشا روں میں ہیرے کا حسن اور اس کے لہروں میں زمردکی رنگینی ہو تی ہے ۔
چترال کو پشا ورسے کئی نسبتیں ہیں۔قصہ خوانی میں با زار ٹینگر ان کے اندر اونی پٹی کی دکا نوں کی قطار اوران دکا نوں میں سجا ئے ہو ئے مال کی ایک جھلک آپ کو ٹو پیوں، وا سکٹوں اور رنگ بر نگے چغوں ، شالوں کی جو بہا ر دکھاتا ہے اس کی گو اہی بھی دریائے چترال کے پا س محفوظ ہے ۔دریا ئے چترال نے قیمتی اون سے لدے ہو ئے بھیڑوں کو دھو نے کا منظر اپنی آنکھوں میں با رہا محفوظ کیا ہے۔ دریا ئے چترال نے دستکا ر مردوں اور عو رتوں کو با رہا دیکھا کہ اونی پٹی کے حسن کو اس دریا کے پا نی سے نکھارنے کے لئے لا رہے ہیں ۔اس پا نی کی آب سے چمک دے کر کو چہ و با زار میں سجا رہے ہیں ۔ چترال کی تہذیب و ثقافت کا سفیربھی دریا ئے چترال ہی ہے ۔ورنہ یہ پہا ڑ نہ سر کتے ہیں نہ بو لتے ہیں۔شا عر نے فر یاد کی ہے۔
خدا یا میرا ایک کا م کر دے ان پہا ڑوں کو ذرا اذن سفر دے
خدا نے پہا ڑوں کو اذن سفر نہیں دیا ۔تا ہم دریا ئے چترال کو ایسا اذن سفر دیا کہ پہا ڑوں کاسینہ چیر کر نکلتا ہے اور چترال کی خو شبو کو لیکر پشا ور کی وا دی کو معطر کر دیتا ہے۔اہل نظر کہتے ہیں کہ ہند کو اور کھوار میں جو حلا وت اور مٹھا س مشترک ہے وہ بھی دریا ئے چترال کی وجہ سے ہے ۔اس دریا کے پا نی سے جو زمین سیراب ہو تی ہے ۔ وہ حلا وت اور مٹھاس سے بھر پو ر ہو تی ہے۔ یہ ایسی مٹھاس ہے جو زبان پر چڑھے تو الفاظ کو بھی حلا وت اور مٹھا س بخشتی ہے ۔سروں اور نغموں کو حلاوت اور شیر ینی سے بھر دیتی ہے ۔چترال کے شا عر میجر (ریٹائرڈ) احمد سعیدنے دریا ئے چترال کی آب بیتی ایک نظم میں کہی ہے۔
تھکے ماندے مسافر کو
شفیق و مہرباں ماں کی طرح
ہر گھڑی ہر ساعت ہر آں
ٹھنڈی ٹھنڈی ، میٹھی میٹھی لوریاں دے کر
تھکاؤٹ کو مٹاتی ہے، مسافر کو سلاتی ہے
میری دھرتی ، میری ماں
تیرے بیٹے
تیرے دھقان اور مزدور بیٹے
تیرے شاعر اور تیرے فنکار بیٹے
تیرے افسر ، تیرے رہبر ، سبھی بیٹے تیرے
ہر ایک پیر و جواں
ازل سے تا ابد ، ہر آں
سینہ سپر، مثل کمال
تن من لٹانے کیلئے ہر دم
مستعد تیار رہتا ہے۔
تو میری جنت ارضی ہے فردوس بریں ہے۔
یہ وادی میرے رازوں کی امیں ہے۔
چترال کے قدرتی وسا ئل کا اگر کو ئی آئینہ ہے تو دریا ئے چترال ہے۔ یہ ایسا منرل وا ٹر ہے ۔جو سیہوں جیحوں ،دجلہ وفرات اور نیل وراوی سے بڑھ کر ہے ۔گنگا جمنا سے بلند تر ہے ۔اس دولت کو چترال نے پشاور پر نچھا ور کر دیا ہے ۔جو اب میں پشاور نے منی چترال یا اسلا م آباد با زار کوٹین گر ان کے اندر قصہ خوانی میں جگہ دی ہے۔جہاں ہند کواور کھوار جڑواں زبانوں کے طور پر بو لی جا تی ہیں ۔میرا احمد بلبل کی ہند کو اور احسان طا لب کی کھوار یک جان دو قا لب کی صورت سدا یا دوں میں رہیں گی۔دریائے چترال ہما رے لئے آب روان کبیر ہے ۔جس کے کنا رے میں ہم دونوں بیتے زمانوں کے خواب دیکھتے ہیں ۔اور اختر شیرانی کی زبان مستعار لیکر دیس سے آنے والے مسافر سے پو چھتے ہیں ۔
کیا شام کواب بھی جا تے ہیں احباب کنا ر دریا پر
وہ پیٹرگھنیرے اب بھی ہیں شاداب کنا ر دریا پر
اور پیا ر سے آکر جھا نکتا ہے مہتا ب کنا ردریا پر
او دیس سے آنے والے بتا
چترال کو پشا ور سے بجا طور پر شکو ہ ہے ، میرے دریا کو تم نے دریا ئے کابل کا نام کیوں دیا ؟یہ دریا میری دولت کو تمہا ری مٹی پر نچھاور کر تا ہے۔ تم اس کو کابل کہہ کر پکارتے ہو ۔میرے خیال میں شکوہ بجا ہے ۔مگر چترال کی مثال سا غر صدیقی کے شہید ناز کی طرح ہے۔
شہید ناز کی تر بت پہ حسرتیں
بجھا سا اک دیا ہے دو سو گوار پھول

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق