ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدابصحرا…..کنٹینر، بس اور کشتی

……….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……..



نامور قانون دان ،پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سپریم کورٹ با ر ایسوسی اشن کے سابق صدر بیر سٹر اعتزازا حسن سینیٹر کی حیثیت سے ایک بیاں میں کہا ہے۔ کہ اگر پارلیمانی کمیٹی میں پانامہ پیپرز کے حوالے سے ٹی او آرز کے معاملے پر حکومتی پارٹی نے لچک نہیں دکھا ئی تو عیدکے بعد ہم بھی عمران خان کے کنٹینر میں جمع ہونگے۔ حکومت او راسمبلیوں کے خلاف تحریک میں کنٹینر پر طاہرالقادری اور شیخ رشید احمد کے ہمراہ بیرسٹر اعتزاز احسن بھی کھڑے ہونگے۔ عمران ن خان کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر حکومت کے خلاف تحریک چلائنگے۔ 1977ء میں زولفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف ائیرمارشل اصفرخان نے اپوزیشن جماعتوں کو لیکر ایسی تحریک چلائی تھی۔اور مارشل لاء لگو اکر مٹھائیاں تقسیم کی گئی تھیں ۔یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کے لئے شہرت پانے والی قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگر نے اپوزیشن کی طرف سے مارشل لاء کی حمایت میں وکلاء کو سڑکوں پر لانے کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء ایسی کسی تحریک کا حصہ نہیں بنینگے ۔جو جمہو ری اقدار اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہو ۔خا تون قانون دان نے مردانہ وار بیان میں کہا ہے کہ وکلا ء اپو زیشن کے لئے کر ایے کے ٹٹو کا کرداد کبھی ادا نہیں کر ینگے ۔خو د بیر سٹر اعتزاز احسن نے 2006ء میں فو جی ڈکٹیڑکے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چو ہدری کی حمایت کی تھی ۔سپر یم جو ڈیشنل کو نسل میں پیشی کے لئے آتے جا تے وقت جسٹس افتخار محمد چو ہدری کو اپنی گاڑی میں لیجا تے تھے۔اور گا ڑی خود چلا تے تھے ۔اخبار نو یسوں کے ایک سوال کے جواب میں بیر سٹر اعتزاز احسن نے کہا تھا۔ کہ اب ایک جج کے خلاف ڈکٹیٹر نے مقدمہ کیا ہے۔اس کی گاڑی کا ڈرائیور بن گیا ہوں ۔اگر ڈکٹیٹر نے سپریم کو رٹ کے تمام ججوں کے خلاف قدم اٹھا یا تو ان کوبس میں بیٹھا کر اس بس کی ڈرائیونگ بھی میں خود کر ونگا۔ پشاور میں وکلا ء سے خطاب کر تے ہو ئے ۔بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا تھا۔کہ تم اگر وردی والے ہو تو وکلا ء نے بھی کالے کوٹوں کو وردی بنا لیا ہے ۔اب ھم بھی وردی والے ہیں ۔زمانے کی ستم ظریفی کو دیکھئے کہ ڈکٹیٹر کے خلاف کا لے کو ٹوں کو وردی بنا نے والا قانون دان اس کنٹینر پر سوار ہو نے جارہا ہے ۔جو مارشل لاء لگو انے کے لئے اراستہ کیا جا رہا ہے ۔اس کنٹینر پر جمہو ریت کے لئے جدو جہد کی تاریخ اور ایسا پس منظر رکھنے والا کو ئی سیا ستدان یا سیاسی کا رکن نظر نہیں آئے گا ۔قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والا کو ئی سیا سی کارکن اس کنٹینر پر نہیں ہو گا ،یہاں تک کہ لطیف کھو سہ اور فاروق ایچ نا ئیک اس کنٹینر کے قریب سے نہیں گز رینگے ۔اپنی سہو لت کے لئے ھم اس کنٹینر کو بگھی یا کشتی قرار دیتے ہیں ۔اس بگھی یا کشتی میں بابائے کنٹینر طا ہر القادری اور عمران خان کے ساتھ شیخ رشید احمد کا نظر آنا فطری بات ہے ۔ڈو بتے کو تنکے کا سہا را بھی بہت ہو تا ہے ۔بیر سٹر اعتزاز احسن کا ما ضی قا نون اور جمہو رت کے لئے جدو جہد میں گزرا ہے ۔ان کا مستقبل بھی ایسی سیا سی جدوجہد کے لئے وقف ہو گا ۔جو ڈکٹیٹروں کے خلاف عوامی حقوق اور جمہو ریت کی جدو جہد کہلا ئے گی۔اب جس کشتی میں بیرسٹر اعتز سٹر از احسن سوار ہونے جا رہے ہیں ۔یہ کشتی ڈکٹیٹر شپ کے سا حل پر لنگر انداز ہو نے جا رہی ہے ۔اس کشتی میں پاوں رکھنے کے بعد اپنے ما ضی سے کس طرح انصاف کر سکینگے اور مستقبل کا راستہ کس طرح صاف کر ینگے ؟یہ سوالیہ نشان ہے میں عمران خان کا یہ بیان دلچسپی کے سا تھ پڑھا ہے کہ بلا ول کے سا تھایک کنٹینر پر کھڑا ہو نے کے لئے تیار ہوں ۔گھسا پٹا پرانا لطیفہ ہے ایک نو جوان سے پو چھا گیا ،تمہاری شادی کا کیا پروگرام ہے ؟نو جوان نے کہا آدھا کام ہو گیا ہے پو چھا گیا آدھے کا م سے کیا مراد ہے ۔نو جوان نے برجستہ کہا میں نے لڑکی کو پسند کر لیا ہے ۔لڑکی میرے سا تھ شادی پر رضا مند نہیں ۔قبلہ وکعبہ عمران خان تو بلاول بھٹو زرداری کے سا تھ ایک کنٹینر پر کھڑا ہو نے کے لئے تیار ہیں مگر ابھی تک بلا ول بھٹو زرداری کا بیان نہیں آیا ۔ان کے پا وں میں نا نا ذولفقار علی بھٹو اور ماں جی محتر مہ بے نظیر بھٹو کی جمہو ری جدو جہد کی بیڑیاں ہیں اُن کے ہا تھو ں میں پاکستان پیپلز پا رٹی کی طو یل جمہو ری جد وجہد کی زنجیریں ہیں ۔وہ کسی کنٹینر پر سوار ہو نے سے پہلے سو بار سو چینگے کہ یہ کس کا کنٹینر ہے ۔اس کی منزل کیا ہے؟وہ اپنے ابا جی سے پو چھنیگے ۔وہ میثاق جمہو ریت کی دستا ویز نکالینگے ۔اُس پر ماں جی کے دستخطوں کو چو مینگے ۔اور پھر ڈکٹیٹر والے کنٹینر پر جا نے یا نہ جا نے کا فیصلہ کر ینگے ۔غا لب گماں یہ ہے کہ بلا ول اس کنٹینر کے قریب بھی نہیں جا ئینگے جس پر کھڑے ہو کر عمران خان امپا ئیر کی انگلی اُٹھنے کا انتظار کر والے ہیں ۔اب با با ئے کنٹینر شیخ الاسلام طاہر القادری اپنی اننگز ختم کر چکے ہیں ۔دوسرے کھلا ڑیوں میں کو ئی اوپنز،کو ئی فا سٹ بو لر ،کو ئی آل راونڈ ر نظر نہیں آتا۔اس منظر نامے کا ایک اور رخ بھی ہے ۔خدا نخواستہ خاکم بدہن آج یا کل اگر ملک میں پا نچواں ما رشل لاء آیا ۔تو اس کے خلاف اسمبلیوں کی بحا لی کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکٹھانے والوں میں پہلا نمبر بیرسٹراعتزاز احسن کا ہو سکتا ہے ۔سپریم کو رٹ کے سامنے آئین کی بحالی ،اسمبلیوں کی بحالی اور جمہوری حکو مت کی بحالی کے لئے بیر سٹر اعتزاز احسن نے ہی دلائل دینے ہو نگے ۔اگر وہ طاہر القادری والے کنٹینر پر جا بیٹھے ۔تو کل عدالت میں کس منہ سے آئین کی بحالی کا مطا لبہ لیکر جا ئینگے اور آئین کی بحالی کے لئے کیا دلا ئل دینگے ۔ہو سکتا ہے اپنے پورے سیا سی کیر ئیر کو خیر باد کہہ کر شریف الدین پیرزادہ ، اے کے بر وہی اور احمد رضا قصوری کی طرح مارشل لاء کی وکالات کر تے ہو ئے سپریم کو رٹ میں دلائل کیاانبار لگادیں پانامہ پیپرز اور ٹی او آرز کو سپریم کورٹ میں لہرا کر مارشل لاء ایڈمنسٹر یٹر کو ائینی چھتری اورقا نو نی جو از فراہم کرنے کے لئے “مائی لارڈرز”کو امادہ کر تے ہو ئے نظر آئیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنی عمر بھر کی نیکنامی کو یوں سر بازار رسوا ہو تے ہو ئے نہ دیکھ سکیں ۔اور اپنا کیرئیر ہی ختم کرکے گھر بیٹھ جائیں جی ہاں! بیرسٹر اعتزاز احسن کی زبان سے مارشل لاء والے کنٹینر کی حمایت والا بیاں اچھا نہیں لگتا۔اس پر نامور شاعر پروین شاکر کا مصرعہ صادق آتا ہے” بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی”

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق