ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ……زمانے کے انداز بدلے گئے

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ………


علامہ اقبال نے کم و بیش سو سال پہلے یہ بات کہی تھی
زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے ساز بدلے گئے
100سال بعد یہ ’’تبدیلی ‘‘نمایاں ہو کر سانے آگئی ہے لگتا ہے شاعر نے اپنے دور سے زیادہ ہمارے دور کی بات کی تھی یہی وجہ ہے کہ شاعر کو صاحب الہام اور تلمیذ الرحمن کے القابات دیئے گئے ہیں چاند تاروں پر کمند ڈالنے کا ذکر سائنسدانوں سے پہلے شاعر وں نے کیا تھا سائنس فکشن کو افسانوی ادب کا الگ شعبہ قرار دیا جاتا ہے یہ افسانوی ادب کا وہ حصہ ہے جس میں ادیبوں اور تخلیق کاروں نے سائنسی ایجادات منظر عام پر آنے سے پہلے ان ایجادات کا تصور پیش کیا اور اس کو کہانی کے انداز میں پیش کیا اگر چہ علامہ اقبال کے زمانے میں کمپیوٹر ایجاد نہیں ہوا تھا ۔فیس چہرے کو اور بک کتاب کو کہا جاتا تھا ان کو ملا کر فیس بک کاایک لفظ کسی نے بھی نہیں لکھاتھا اسکے باوجود شاعر نے آج کے دورکا نقشہ راگ اور ساز کے استعاروں میں پیش کیا ہے اکیسویں صدی میں معاشرے کا نقشہ ایسا بدل گیا ہے کہ جانی ہوئی صورت پہچانی نہیں جاتی پہلے آدمی اپنے نام سے اور اپنے کام سے پہچانا جاتا تھا آج کل آدمی اپنی گاڑی اور اپنے بنگلے سے پہچانا جاتاہے آپ حیات آباد ،گل بہار ،اسلام آباد ،لاہور یا کسی اور سٹی میں کسی شخصیت کا ذکر کرینگے تو اس کا حوالہ گاڑی یا بنگلہ ہوگا وہ کارنر والی کوٹھی میں رہتاہے کالے رنگ کی مرسیڈیزیا سفید رنگ کی ہنڈا سوک اس کے پاس ہے وغیرہ وغیرہ پہلے آدمی کی پہچان اسکے حسب نسب ،اس کی قابلیت ،اس کے کام اور اس کے کارناموں کی وجہ سے ہوتی تھی اب آدمی کی پہچان زمین پر نہیں ہوتی فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے ہوتی ہے ٹوئیڑا کاؤنٹ کے ذریعے ہوتی ہے پہلے عزیز رشتہ دار ،دوست احباب مل بیٹھ کر تبادلہ خیال کرتے تھے ایک دوسرے کا حال پوچھتے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے تھے ایک شہر سے دوسرے شہر میں ایک دوسرے کو خط لکھتے تھے اب ایسا نہیں ہے موبائل سیٹ ،کمپیوٹر ،ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ کے ذریعے فیس بک پر جاتے ہیں فیس بک پر اپنا حال بتاتے ہیں کہ اس وقت کیا ہو رہاہے اس کو سٹیٹس اپ ڈیٹ کہا جاتا ہے یہ آپ کے صاحب حیثیت اور معاشرے میں معزز ہونے کی علامت ہے آپ نے افطاری کیا فیس بک پر تصویر دیدی ،آپ نے سحری کھایا فیس بک پر تصویر آگئی بچہ اسکول جارہاہے فیس بک پراس کی تصویر دیدی کھوار کے شاعر محبوب الحق حقی نے ایک نظم میں اس فیشن پر لطیف پیرایے میں طنز کیا ہے
تہ ژرو پورو کی اریر تو فیس بُکہ دیت
تہ نن شیتوکی اریرتو فیس بُکہ دیت
(بچی نے چہرے پر کریم لگایا تم فیس بک پر لے جاؤ تمہاری ماں دودھ بلونے لگے تم فیس بک پر لے جاؤ )یہ رجحان اس قدر وبائی صورت اختیا ر کر چکاہے کہ دستر خواں پر کھانا لگ جائے تو بسم اللہ سے پہلے فیس بک کے لئے تصویر بنالی جاتی ہے قندیل بلوچ کے ساتھ مفتی عبدالقوی مذطلہّ العالی کی سیلفی بھی اسی خبط ااور جنون کا نتیجہ ہے پی ٹی آئی کا علماء ونگ فیس بک پر جس قدر فعال نظر آتا ہے زمیں پر اس دسواں حصہ بھی نظر نہیں آتاآج کل فیس بک پر فیس بک کلچر کے بارے میں قیاس آرائیاں آرہی ہیں ایک ستم ظریف نے لکھا ہے کہ آنے والا دور فیس بک کا دور ہوگا زندہ لوگوں کے علاوہ مرحومین کو بھی فیس بک کے حوالے سے یاد کیا جائے گا اب تک کسی کی وفات پر تعزیت کرنے والے کہتے تھے مرحوم یا مرحومہ میں بڑی خوبیاں تھیں بہت ملنسار تھا ،وضعدار تھا ،مہمان نواز تھا ہر ایک کے غم اور خوشی میں شریک ہوتا تھا غریبوں کے ساتھ ہمدردی کرتاتھا مرنجاں مرنج اور باغ و بہار شخصیت کا مالک تھا چند سال بعد کسی کی وفات پر تعزیت کا نیا اسلوب دریافت کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اللہ بخشے مرحوم یا مرحومہ کی خوبیوں کا کوئی شمار نہیں تھا۔ان کوچھینک بھی آتی فیس بک پر سٹیٹس اپ ڈیٹ کرتا تھا گھر پر بلی بچہ یا مرغی انڈہ دے اس کی تصویر فیس بک پر ہمارے ساتھ شیر کرتا تھا گاؤں میں کوئی واقعہ ہوجاتا تو سب سے پہلے اس کی خبر مرحوم یا مرحومہ کو ہوتی تھی انکی بنا ئی ہوئی تصویر فیس بک پر آجاتی تھی مثلاًقصائی کی دکان پر دو کتے کھڑے ہو کر دم ہلارہے ہیں اور قصائی کو تک رہیے ہیں اس منظر کی تصویر مرحوم یا مرحومہ سے پہلے کوئی فیس بک پر شیئر نہیں کر سکتا تھا مرحوم یا مرحومہ کا یہ بھی کمال تھا کہ سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھنا ان کا خاص وطیرہ تھا جہاں امیر فیس بک پر ان کا فرینڈ ہوتا وہاں نا دار ،غریب ،گونگا،بہر ا،لنگڑا اورلولا ان کے ساتھ ٹیگ ہوتا تھا مساوات کا یہ نمونہ انہوں نے صدقہ جاریہ کے طور پر فیس بک پر یا د گار چھوڑا ہے مرزا غالب نے مرنے کے بعد اپنے گھر کا یہ نقشہ کھینچا تھا
چند تصویر بتاں ،چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا
انکے زمانے میں فیس بک کی نعمت ایجاد نہیں ہوئی تھی محض چندتصویرں اور چند خطوط پر ان کو اکتفا کرناپڑا اگر مرزا غالب موجودہ دور میں زندہ ہوتے تو لاکھوں کی تعداد میں حسنیوں کے خطوط ان کی ٹائم لائن پر ہوتے اورلاکھوں بتوں کی تصویریں ان کی ٹائم لائن پر جلوہ دکھاتیں ان کے گھر سے اس قبیل کا سامان نکالنے کے لئے ہمیں ان کے مرنے کا انتظار نہ کرنا پڑتا مرزا غالب کے زمانے میں سیلفی کا رواج نہیں آیا تھا مصوری ان کی مجبوری تھی اور یہ مہ رخوں سے ملاقات کا ذریعہ تھی
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لئے ہم مصّوری
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چا ہیے
اب فیس بک کی نعمت آگئی ہے اب الٹی گنگابہتی ہے مہ رخوں کے ساتھ ملاقات کے لئے مصّوری نہیں سیکھی جاتی بلکہ سیلفی کی صورت میں مہ رخوں کے ساتھ تصویر بنانے کے لئے ملاقات کا اہتمام کیا جاتا ہے مفتی عبدالقوی مد ظلہ کا قول ہے کہ آجا با لما ! میری محبوبہ آجا ! عید کے چاند سے پہلے تیرا مکھڑا دیکھنا چا ہتا ہوں تاکہ ایک سیلفی ہو جائے مرزا غالب آج کے دور میں ہوتے تو ان کے وارے نیارے ہوتے سیانے کہتے ہیں کہ آج کل ہمارے بچے ٹیکسٹ بک کو چھوڑ کر فیس بک پر توجہ دے رہے ہیں ایک زمانہ ایسا آئے گا جب ٹیکسٹ بک کی جگہ فیس بک ہی رہ جائے گا کلاس روم کے اندر فیس بک ہوگا گھر میں بھی فیس بک ہوگا استاد ہوم ورک فیس بک پر دے گا طالب علم فیس بک پر استاد کو بتائے گا کہ میری گرل فرینڈ لائن پر ہے میرے پاس ہوم ورک کے لئے وقت نہیں ہے ماں فیس بک پر بیٹی کو پیغام دے گی ذرا دیکھ کے آ کچن کا دروازہ بندہے یا نہیں ؟ بیٹی جواب میں فیس بک پر مختصر پیغام بھیجے گی کہ میرا بوائے فرینڈ لائن پر ہے بہت مصروف ہوں خود ہی کچن کا دروازہ چیک کر لو گے تو تمہارے ہاتھ میلے نہیں ہونگے زمانے کے انداز واقعی بدلے گئے مجھے اورنگ زیب عالمگیر اور ان کی چہیتی ہو نہار بیٹی زیب النساہ مخفی کے زمانے پر ترس آتا ہے صو بیدار عاقل خان اور دیگر چاہنے والوں نے اپنے کلام کے ذریعے مخفی سے ملاقات اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کی تمنا کا ذکر کیا زیب النسا مخفی ان سے مل نہیں سکتی تھی سماجی پاپندیاں تھیں سخت گیر باپ کا خوف دامن گیر تھا غزل کے مطلع میں انہوں نے ایک بات کہی
بلبل از گل بگزر د چوں در چمن بیند مرا
بُت پرستی کے کند چوں بر ہمن بیند مرا
پھر مقطع میں انہوں نے اپنا پتہ چاہنے والوں کو دیدیا کہ مجھ سے کہاں ملاقات ہو سکتی ہے
منم مخفی چوں بوئے گل در برگ گل
ہر کہ دیدن میل دارد در سخن بیند مرا
(میں پھول کی پتی میں خوشبو کی طرح پنہاں ہوں جس کو مجھ سے ملنے کا اشتیاق ہو میرے کلام میں مجھ سے ملے )زیب النساہ مخفی اگر آج کے دور میں ہوتی تو فیس بک پر آسانی سے عشاق کو دستیاب ہوتی جدید ٹیکنالوجی نے آج ہمیں فیس بک کی صورت میں کتنی بڑی نعمت دی ہے ہمارا پورا سماجی ڈھانچہ زمین سے اوپر جا کر ہوا میں معلق ہوگیا ہے بقول حالی ؔ ’’نہ ہاتھ باگ پر نہ پاہے رکاب میں ‘‘

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق