اے ایم خان

پس وپیش ……معیشت کی سیاست

……اے ایم خان چرون،چترال…..


گزشتہ چند دِنوں سے پہلے کی طرح چترال میں بحث معیشت سے سیاست تک ہوتی ہے جسے میں صرف معیشت کے تنا ظرمیں دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ معیشت کی سیاست
(politics of economics) یورپ میں اہمیت صنعتی انقلاب کے بعد لے لی، جسے بعد میں ماہرین سیاست میں معاشیات کے کردار کو دیکھ کر اِصطلاح ’’معاشی سٹیٹ کرافٹ‘‘ کو بھی متعارف کر دی۔معیشت کی سیاست موجودہ دور میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، جس کی مثال اِن دِنو ں برطانیہ میں ہور ہی ہے۔
آج چترال کی حالت بہت بہتر ہوتی ، جب ہمارے پاس ا یک بھی ذریعہ معاش ہوتی جس سے پوری چترال مستفید ہو سکے۔ ہاں اب لواری ٹنل بننے کے بعد کچھہ ایسے قدرتی وسائل ہو سکتے ہیں جن کی مارکیٹ ہو سکتی ہے۔ اب جو مارکیٹ ہمارے پاس ہے اُس کا کیا حال ہوا ہے کہ ہم معدنیات کی تجارت میں آس لگائے بیٹھے ہیں۔ بہرحال چترال میں معدنیات کے علاوہ پانی سے بجلی کی پیداوار ، پھلوں کی پیداوار، دستکاری کے اشیاء اور سیاحت کی انڈسٹری زیادہ فائدہ مند اب بھی ہوسکتا ہے۔
پچھلے روز برطانوی عوام28 ممالک پر مشتمل یورپین یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ لینے کیلئے ریفرنڈم میں ووٹ ڈال دی، اگر یہ ریفرنڈم جسے ’’ برطانوی انخلاء‘‘ یعنی (Brexit) کا نام دیا گیا ،کا تانا بانا بھی معاشیات سے منسلک ہے ، جس میں برطانیہ یورپین یونین میں ،جرمنی اور فرانس کے بعد زیادہ معاشی حصہ ڈالنے والا ، اور کم فائدہ لینے والا ملک رہ چُکا ہے۔ اور دوسری بات ’’آزادی‘‘ کی جسکا دائرہ بھی معیشت اور سیاسی آزادی سے منسلک کیا جاتا ہے جسے برطانیہ کا ایک پارٹی یوکپ(UKIP) کئی سالوں سے یہ کیس لڑ رہی ہے ۔ اِس پارٹی کا لیڈر Nigel Farage پہلا شخص تھا جمعرات کے روز برطانوی وزیراعظم کو جانے کیلئے کہتے ہوئے کہا کہ اب برطانیہ کیلئے ’’بریکذٹ وزیراعظم ‘‘ کی ضرورت ہے۔ اور اِس بات پر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمروں نے باقاعدہ اپنے سبکدوشی کا اعلان کیا یہ کہتے ہوئے کہ ’’میں سوچتا ہوں کہ یہ صحیح نہیں ہوگا کہ میں اِس ملک کا کیپٹن رہ کر ملک کو اُس کے منزل کی طرف لے جاؤں‘ ‘ ۔ یعنی کیمرون کا اِس طرح بات کرنے کا مقصد : ایک،کہ برطانوی عوام اور اُس کے نمائندے اب وہ نہیں چاہتے ہیں جو وہ چاہتا ہے۔ یعنی وہ یورپین یونین کا ممبررہنا چاہتا ہے ، اور دوسرے پارٹی اور نمائندے نہیں چاہتے ۔ دوسرا، وہ اب عوامی رائے اور پارلیمانی اکثریتی رائے کی نمائندگی نہیں کر تا ۔یعنی اب اِس تبدیلی کی وجہ سے اُس کا حکومت میں رہنے کا سیاسی اور اخلاقی حق کمزور ہوگیا ہے۔یہ جمہوریت کا حُسن ہوتا ہے۔
چترال کے معاشیات پر بات کرتے ہوئے برطانوی معاشی اور سیاسی تبدیلی کا ذکر کرنا صرف اُس بات کی تجدید کرنا کہ معیشت سیاست کو چلاتی ہے۔ اگر چترال میں وسائل آسانی سے مل جاتے جس سے صوبائی اور وفاقی حکومت کو فائدہ ہوتا تو شاید اُس پر بہت پہلے کا م ہوچُکا ہوتا۔ اِس بار بچت میں چترال کو کم فنڈ دینے پر کچھہ سرکلز میں بات ہورہی ہے ، جسکا حکومت کے پاس ایک بڑا جواب ہوسکتا ہے کہ چترال سے حکومت کو کیا ذریعہ آمدن مل رہی ہے کہ اِتنی فنڈ ایک ضلع کو؟
چترال میں قابل کاشت زمیں کا رقبہ تقریباً 3 فیصد ہے ، اور باقی پہاڑی بنجر علاقوں پر مشتمل ہے۔ چترال میں زمیں نہ ہونے کی وجہ سے دریائے چترال بغیر کسی فائدے کے بہہ کر جارہی ہے، اور جب یہ براستہ افعانستان سے جب دوبارہ پاکستان میں داخل ہوتا ہے تو وارسک ڈیم میں اِس پانی سے بجلی پیدا ہوتی ہے ، جوکہ مالاکنڈ ڈویژن سے ہوتا ہوا چترال میں پہنچ جاتا ہے۔ چترال کو مالاکنڈ سے جو بجلی ملتی ہے دراصل یہ پانی کی رائلٹی (Royalty) ہے جسے ہم روشنی اور دوسرے ضروریا ت کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ پانی کوئی سونا نہیں اُگلتا،اگر… تو اب چترال میں ہر کوئی سونا کا کاروبار کرتا۔ یہ کاروبار بھی چترال میں چند مہاجر کرتے آرہے ہیں۔چترال کے پانی سے چند علاقوں کیلئے نہر بنائے گئے ہیں جس میں بمباغ بھی ہے ، لوگ سال میں تین دفعہ اُس نہر کی صفائی کرتے ہیں ، اور ایک صفائی پندرہ دِنوں پر محیط ہوتا ہے۔ چترال کے تین فیصد زمیں کے کچھ علاقے جسے یہ دریا نے دریا برباد کردی۔ چپٹری، مستوج، سارغوز، آوی لشٹ، جنال کوچ، شوگرام، ریشن، گرین لشٹ اور دوسرے کئی علاقے اب تک اِس دریا کے نذر ہوگئے ہیں۔یہاں چترال میں جو کچھہ ہے وہ بہا لے جاکر اگر پشاور کے قریب مچنی اور گردو نواح کے علاقے میں فصل اچھا ہوا تو ہمارا کیا یعنی کہوار میں ’’ چھترارو رویا ن کیہ غورموتہ گویا‘‘۔ دریائے چترال بہت فاصلہ طے کرنے کے دوران پتھرون کے آپس میں ٹکراؤ سے ریت اور علاقوں کی کٹا ئی سے مٹی پانی سے شامل ہوجاتا ہے ، جسے الوویم (alluvium) کہاجاتاہے ۔ یہ ایک خاص قسم کا زمین ہوتی ہے جوفصل کیلئے بہت ذرخیز ہوتا ہے، یہ بھی چترال سے باہر کے علاقوں میں بن جاتا ہے۔
چترال معاشی اعتبار سے کوئی خاص اہمیت کا حامل نہیں کیونکہ اُس کے وسائل کو نکالنے اور مارکیٹ تک پہنچانے میں خرچہ اُس کے فائدے سے زیادہ آجائے گا، اِسی لئے اُس پر کام بھی ہو نہیں ہو رہا۔ ہاں چترال بجلی کی پیداوار، پھل ،دستکاری کے اشیاء ، اور سیاحت کیلئے ایک مارکیٹ ہے اور بن بھی سکتا ہے ۔ ٹورزم ایک بہترین انڈسٹری ہے جس کو ترقی دینے کے ساتھ چترال میں پھلوں اور دستکاری کے چیزوں کو فروغ دیا جائے تو لوگ اُس سے زیادہ فائد ہ اُٹھا سکتے ہیں۔ہاں اگر گرم چشمہ ، ارکاری اور دوسرے علاقوں میں آلو، ٹماٹراور بینز کی پیداوار کو دیکھا جائے ، تو اُن کی نوعیت مختلف ہے۔ اِس قسم کا کام دوسر ے علاقوں میں بھی ہوسکتا ہے۔ فصلون کے پیداوار کیلئے ضروری آب و ہو ا، پانی ، زمیں ، بیج اور لوگوں کی بات ہوتی ہے اور خصوصاً اُس علاقے میں ایسے چند ایک لوگ جو علاقے کیلئے ایسے کام کئے ہیں جن میں اِسلام الدین کا ذاتی نوکری (self-employment) پر زور، اور اسرار آحمد کا علاقائی انٹاپرنیورز (entrepreneurs) کو فروغ دینے کا صلہ ہے۔ گوکہ دونوں کا کام ایک طرح ، ایک نے معاشرے کو اگاہی دی، دوسرے نے مختلیف اسٹیک ہولڈرز کی تعاؤ ن سے کام ذاتی نوکری پر کام کرکے دیکھایا، جنکا ذکر نہ کیا جائے تو نااِنصافی ہوگی۔ دوسرے علاقو ں میں بھی یہ کام ہوسکتے ہیں،ایسے دوسرے لوگوں کو آگے آنیکی ضرورت ہے۔
بیشک کئی ایک معدنیات چترال میں دستیاب ہیں لیکن ابھی تک کسی نے بھی اِس کی کوالٹی،اُس کو نکالنے اور مارکیٹ تک پہنچانے کی بات نہیں کی ہے، اور خصوصاً انجنیرز ،معاشیات اور مارکیٹنگ کے ماہر یں کا رائے اِس سے متعلق قوی ہوسکتا ہے ۔ کسی نے بھی اُس تناظرمیں بات نہیں کی کہ یورینیم جس جہگے میں نکلتا ہے اُس کی کوالٹی کسطرح ہے ، کہاں ملتا ہے،مقدار کتنی ہے، اور وہاں سے اُس کو نکالنے میں حکومت یا کسی کمپنی کا خرچہ کتنا آسکتا ہے، اور اِس پر کمپنی کا وقت کتنا لگ سکتا ہے، اور کمائی کتنی ہوگی، تب کوئی انوسٹر اُس پر توجہ دے سکتا ہے۔ اب چترال کی معاشی ترقی میں پرکٹیکل کام کرنیکی زیادہ ضرورت ہے بجائے رہیٹورک پر انحصار کرنے کے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق