مشہود شاہد

(لبِ آئینہ ) صادق اور امین

…………مشھو د شاہد shahidchitrali@yahoo.com……..


کسی بھی معاشرے کے عروج اور زوال کے پیچھے وہ سوچ اور سوچ کے نتیجے میں جنم لینے والے عوامل کارفرما ہوتے ہیں کہ جو اس معاشرے کے افراد کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کے اندر پائے جاتے ہیں۔یہ انسانی سوچ ہی ہوتی ہے کہ جو کسی بھی معاشرے کو عروج کی بلندیوں سے بھی ہمکنار کراتی ہے اور زوال کی پستیوں میں بھی پھینک دیتی ہے ۔خالقِ کائنات نے انسانی سوچ کے اندر متاثر کرنے کی عجیب سی کشش رکھی ہے ۔ یہ ہمارے روز مرّہ کا عام مشاہدہ ہے کہ ہم کسی بھی فرد کے بارے میں جیسا خود سوچتے ہیں اکثر اسی طرح کی سوچ ، رویّہ اور بھرتاؤ اُس کا ہماری طرف ہوتا ہے ۔صداقت اور امانت انسانی کردار کے دو ایسے پہلو ہیں کہ جو انسانی سوچ سے نکل کر اُس کے اعمال اور کردار کا حصّہ بن جاتے ہیں اور پھر اس معاشرے میں پھیل جاتے ہیں ۔کوئی بھی معاشرہ مختلف باہم اور متصادم سوچ ،رویّوں اور نظریات کے ایک مرکّب کا نام ہے جو کہ اپنے اندرموجود اکثریتی سوچ کے حامل افراد کا آئینہ دار ہوتا ہے۔معاشرے میں جس مثبت اور منفی سوچ اور رویّوں کے حامل افراد کی اکثریت ہوگی معاشرے کی تصویر بھی ویسی ہی نظرآئے گی۔اچھی اور مثبت سوچ کے حامل افراد کا معاشرہ سماجی ، معاشرتی ، معاشی اور اخلاقی اقدار کے عروج کا ضامن ہوگا ورنہ ان رویوں کی عدم موجودگی کی صورت میں معاشرہ بالکل ہی مختلف اور متضاد تصویر پیش کرے گا۔بات ہو رہی تھی صداقت اور امانت کی یا بالفاظِ دیگر صادق اور امین کی۔ یہ دو لفظ لکھنے میں جتنے آسان اور سادہ ہیں سمجھنے اور پرکھنے میں اتنے ہی ثقیل اور مشکل ہیں کیونکہ بیشترا لفاظ اور رویّے معاشرے کے کسی خاص یا کُچھ خاص پہلوؤں اور شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں لہٰذا ان کا اثر بھی معاشرے کے اُن خاص پہلوؤں تک محدود رہتا ہے لیکن صداقت اور امانت دو ایسی صفات ہیں کہ جن کا اثر من حیث القوم معاشرے کے سارے عوامل اور بہ حیثیتِ فرد ذاتی زندگی کے گذرنے والے ہر دن ، لمحے اور موڑ پہ مسلّم ہوتا ہے ۔اجتماعی اور انفرادی زندگی کا کوئی بھی شعبہ یا پہلو ایسا نہیں ہے کہ جس پہ یہ اپنے مثبت اور منفی اثرات مرتّب نہ کرتے ہوں۔مطلب کہ چاہے نجی زندگی ہو یا پھر معاشرتی ، معاشی پہلو ہوں یا پھر سماجی اقدار اگر صداقت اور امانت ہے تو سب کچھ ہے ورنہ کچھ بھی نہیں ۔
ہمارے آقائے دو عالم ؐ کی زندگی بلاشبہ حسنِ اخلاق کا بہترین نمونہ تھی اور خالق کائنات نے آپ کی زندگی کی ہر صبح وشام کو خلقِ عظیم کے جوہر سے آراستہ کرکے قیامت کی آخری صبح تک آنے والے ہر انسان کے لئے مشعلِ راہ بنایا۔آپؐ نے نبوّت سے پہلے چالیس سال کی زندگی گزاری۔آ پ کے اخلاق،آپ کی معاشرت،تجارت،معاملات اورسیاست سب کے سامنے آفتاب کی طرح عیاں اورتابندہ تھی۔اہلِ عرب نے جو فصاحت اور بلاغت میں اپنی مثال آپ تھے آپؐ کی زندگی کے 40 سالوں کو صرف دو الفاظ میں پرودیا تھا اور آپ کو صادق اور امین کا خطاب دیا تھایہاں تک کہ اعلانِ نبوّت کے بعداگر چہ آپؐ کے جانی دشمن ہوگئے تھے لیکن پھر بھی آپؐ کی صداقت اور امانت داری پہ اتنا بھروسہ تھا کہ آپؐ کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے تھے لہٰذا بہ حیثیتِ مسلمان اور امّتِ محمّدؐ کے ہمارے لئے بھی حکمِ شریعت ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں صداقت اور امانت کا دامن مضبوطی سے تھامیں ۔ صرف انہی دو پاکیزہ صفات کے اندر ہمارے تمام تر معاشرتی ، معاشی ، اخلاقی اور سیاسی و سماجی مسائل کا حل موجود ہے ۔سیاست سے یاد آیا کہ پچھلے دنوں ہماری ایک بڑی سیاسی جماعت کے ترجمان نے جانے انجانے میں ایک بہت ہی اچھی مگر دلچسپ بات کہی جس کا خلاصہ تھا کہ ” وزیراعظم اب صادق اور امین نہیں رہے اس لئے اسے مستعفی ہونا چاہئے ” ۔ یہ بیان پڑھ کر مُجھے کافی ہنسی آئی اور دیر تک ہنستا رہا جس کی دو وجوہات تھیں پہلی یہ کہ اس بیان سے ظاہر ہوتا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے یہی وزیراعظم صادق و امین برقرار نہیں رہ سکے باقی ہماری تاریخ میں جتنے بھی وزرا ء اعظم ، صدور اور دیگر ایڈمنسٹریٹر آئے تھے وہ سارے کے سارے صداقت اور امانت کے اعلٰی ترین درجوں پہ فائض تھے بدقسمتی سے صرف یہ صداقت اور امانت سے عاری وزیراعظم پہلی بار ہمارے نصیب میں آئے ہیں ۔میرے ہنسنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ فرض کریں اگر ہمارے موجودہ وزیر اعظم مستعفی بھی ہوتے ہیں تو اُن کے بعد ہمارے ہاں صادق اور امین سیاستدانوں کی ایک نہ ختم ہونے والی لائن لگی ہے کہ جن کے صادق اور امین ہونے کے چاند تارے بھی گواہی دیتے ہیں اور جن کی زندگی کا ہر گوشہ صداقت اور امانت کی پاکیزہ اور پُرنور کرنوں سے منوّرو تاباں ہے ۔میرا سوال صرف یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ کہ جس میں دفتر کی چپڑاسی سے لے کے افسر تک،فیکٹری کے اجیر سے لے کے آجر تک ،راہ چلتے مظلوم سے لے کے ظالم تک ،پسے ہوئے محکوم سے لے کے حاکم تک اور عدل کی کرسی پہ بیٹھے ہُوئے عادل سے لے کے ممبر رسولؐ کے جانشین عالم تک بددیانت اور منافقت کی اتھاہ گہرائیوں میں غوطے کھا رہے ہوں وہاں صرف ایک وزیر اعظم کے صادق اور امین نہ رہنے سے ملکی اور سیاسی معاملات پہ کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ جواب آپ بھی سوچیں میں بھی سوچتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

إغلاق