مضامین

داد بیداد……بلی اور شیر کی کہا نی

…….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……..

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک نے اسمبلی کے فلور پر گلہ اور شکوہ کیا کہ 3 سالوں میں بیورو کر یسی نے ایک بھی نیک مشورہ نہیں دیا ،ایک بھی اچھا کام نہیں کیا ۔صوبے کے چیف ایگزیکٹیوکی طرف سے سرکاری افسروں سے یہ گلے شکو ے شا ید بجا ہو نگے ۔انہوں نے ایک روز بعد اسمبلی کے فلور پر ایک بار پھر بیوروکریسی کا ذکر کر تے ہو ئے کہا کہ جو آفیسر اسمبلی کی قا ئمہ کمیٹی کی میٹنگ میں حا ضر نہ ہوا ہم اس کو جیل بھیج دینگے۔دو تین آفیسروں کو جیل بھیج د یا تو سب کے ہو ش ٹھکا نے آجا ئینگے ۔سب کو دن میں تارے نظر آئیں گے۔بیوروکریسی کے خلا ف کسی صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کی یہ پہلی شکا یت نہیں ہے ۔اس سے پہلے بھی سیاستدانوں نے مختلف پیرایوں میں یہ بات کہی اور بار بار کہی ہے ۔سیا ستدانوں کا وطیرہ ہے ۔وہ علامہ اقبال کی تر کیب مستعار لیکر خود کو “چراغ مصطفوی”اور بیوروکریسی کو “شرار بو لہبی”قرار دیتے آئے ہیں۔ ہر مو جودہ حکو مت کہتی ہے کہ ہما رے نظم و نسق میں جو بھی خو بیاں ہیں وہ ہما ری ذات ستو دہ صفات کی وجہ سے ہیں ۔اور جتنے عیب یا نقا ئص ہیں ۔ان کا منبع و سرچشمہ بیوروکریسی ہے ۔ایک مشہور سیا ستدان نے ایک با ر ترنگ میں آکر بیان دیا کہ اگر بیوروکر یسی نہ ہو تی تو ہم صو بے کو جنت کا نمونہ بنا دیتے ۔اخبار نو یس نے سوال کیا کس کے ذریعے ؟100 ملین ڈالر کے اس سوال کا کو ئی جو اب آج تک کسی چیف ایگز یکٹیو نے نہیں دیا ۔1963ء میں چو تھی جما عت کی اردو کی کتاب میں ایک کہا نی تھی۔ جس کو بچے شوق سے پڑھتے تھے ۔کہا نی میں دیہا تی ما حول کے دو کردار تھے ۔شیر اور بلی ۔کہا نی کا آغاز ان جملوں سے ہو تا تھا “ایک تھا شیر ایک تھی بلی،بلی تھی شیر کی خالہ “کہا نی میں لکھا تھا کہ ایک دن شیر نے بلی سے کہا خا لہ جان تم نے اپنا کو ئی کرتب مجھے نہیں سکھا یا ۔بلی بو لی ۔غم مت کرو ۔میں اپنے کرتب تمہیں سکھا ؤنگی ۔یوں شیر کے لئے بلی نے این ڈی یو کا سپیشل کورس شروع کیا۔ایک دن بلّی نے کہا کو رس پورا ہوگیا ۔میں نے اپنے سارے کر تب سکھا دیے۔شیر نے کہا خالہ جان کیا آپ نے سا رے کر تب مجھے سکھادیے۔بلی نے کہا ۔یس میں نے کوئی کر تب نہیں چھو ڑا شیر نے پو چھا آریو شور ؟بلی نے کہا آئی ایم ڈیڈ شور ۔یہ سنتے ہو ئے شیر نے بلی پر حملہ کیا ۔بلی جان بچانے کے لئے درخت پر چڑھ گئی اور شیر دیکھتا رہ گیا ۔اپنی نا کامی اور خفت کو مٹا نے کے لئے شیر نے کہا خا لہ جان تم نے کہا تھا میں اپنے سا رے کر تب تمہیں سکھا دیے ۔مگر یہ کر تب تو سکھا یا ہی نہیں تھا۔شیر کی یہ بات سن کر بلی نے کہا “اگر یہ کر تب بھی سکھا دیتی تو آج اپنی جان کیسے بچا تی ؟”بیورکریسی کے نیک مشوروں کا حال شیر کے لئے بلی کے”کر تب سکول “جیسا ہے ۔اگر بیورو کر یسی سا رے نیک مشورے سیا ستدانوں کی جھو لی میں ڈالیگی تو بیوروکر یسی کے پلے کیا رہ جا ئے گا۔ وہ ضرورت کے وقت اپنی جان کیسے بچا ئیگی؟اس لئے بیو رکریسی کے پاس نیک مشوروں کا جو سٹاک ہے اس کو سوچ سمجھ کر خرچ کر تی ہے ۔ کسی سیا ستدان کو نیک مشورہ دیتے وقت سو بار سو چتی ہے ۔اگر آج کا نیک مشورہ کل میرے خلاف استعمال ہوا تو مجھے کہا ں پنا ہ ملے گی ؟بیورو کر یسی نے اول روز سے علامہ اقبال کا یہ قول پلے باندھ لیا ہے۔
جہاں میں کہیں نہ اماں ملی جو اماں ملی تو کہا ں ملی
میرے جر م خانہ خراب کو تیرے عفوبندہ نواز میں
قدرت اللہ شہاب نے اپنی سو انح عمری میں بڑے پتے کی تین با تیں لکھی ہیں ۔وہ لکھتا ہے میں تین صدروں کا سیکریٹری رہا ۔تین حکو متوں کا سیکریٹری انفارمیشن اور تین حکو متوں کا سیکریٹری ایجو کیشن رہا ۔اس اثنا میں مجھے جو سبق ملا وہ یہ تھا کہ کس بات کو کس طرح چھپا یا جا ئے ؟پا کستان تحریک انصاف کی صفوں میں کئی نا مور بیوروکریٹ تھے ۔ان میں جسٹس وجہیہ الدین احمد کو گھر بھیج کر کھڈے لا ئین لگا دیا گیا ۔گلزار خان ،رستم شاہ مہمند اور شفقت محمود کو آخری صفوں میں بھی جگہ نہ مل سکی ۔اگر یہ لوگ اگلی صفوں میں ہو تے تو شاید بیورو کر یسی کے نیک مشوروں کے ہو ل سیل سے کچھ مشورے حا صل کر تے ۔پرانا مقولہ ہے کہ ہیرے کو ہیرا کا ٹتا ہے ۔بیوروکریسی کے نیک مشوروں سے فا ئدہ حا صل کر نے میں اسی بیوروکر یسی کے کل پر زے ہی کا م آسکتے ہیں ورنہ ایک لا ری کے کلینر کا وہ قصہ بار بار دہر ایا جا تا ہے ۔کہتے ہیں پہا ڑی راستوں پر بھا ری وزن لیکر چلنے والی لا ری کا کلینر بہت ہو شیا ر اور مکا ر تھا ۔وہ اپنے نا ئیک سے بھی تنگ آگیا، استاد سے بھی تنگ آگیا ۔ایک دن اس نے سو چا دونوں لا ری میں بیٹھے ہیں کیوں نہ ان کو نیک مشورہ دوں ؟ لاری پہا ڑی مو ڑ کا ٹنے کے لئے ریوررس گیر پر جا رہی تھی۔ کلینر سڑک کی چو ڑائی کو دیکھ استاد کو آواز دیتا رہا ۔راز ا،رازا،رازا۔جب سڑک کے آخری کنا رے پر آکر پچھلے ٹا ئر نیچھے گر ے اور لاری ہچکو لے کھا نے لگی تو کلینر نے کہا “بس دے استاد پہ دخہ” اور لا ری 400 فٹ گہری کھا ئی میں گر گئی ۔کلینر ایک تجر بہ کا راور گھا گ بیوروکریٹ سے بھی زیادہ ہو شیار اور مکا ر تھا ۔اس کے نیک مشوروں نے لاری کو 400 فٹ گہری کھا ئی میں گرا دیا ۔ہمارا نیک مشورہ ہے کہ صو بائی وزیر اعلیٰ بیوروکر یسی کے نیک مشوروں پر انحصار ہر گز نہ کر یں ، ورنہ بلی اور شیر کی کہانی تمہاری حکومت پر صادق آئے گی۔ بلی اگر 10کرتب شیر کو سکھاتی ہے تو جان بچانے والا کرتب اپنے پاس ہی رکھتی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى