محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان…..’’یہ ابو لوگ‘‘

………محمد جاوید حیات ……

Advertisements

یہ ابو لوگ عجیب ہوتے ہیں ۔۔باہر سے تروتازہ مگر اندر سے کھوکھلا۔۔بظاہر شرین سخن بہ باطن توتلا۔۔۔دیکھنے میں تندرست حقیقت میں کانا،لنگڑا،گونگا اور لولا۔۔۔۔یہ زندگی کی کشمکش میں تہس نہس ہوکر بکھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔۔ان کے بارے میں کوئی سوچتا نہیں ۔ان کا کوئی مطالعہ نہیں کرتا ۔۔لوگ غریب ’’ابو‘‘کی غربت کو دیکھتے ہیں اس کی آرزوؤں کو نہیں دیکھتے ۔امیر ’’ابو‘‘کی دولت کو دیکھتے ہیں اس کی جستجوؤں کو نہیں دیکھتے ہیں ۔۔یہ ابو لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو چکے ہوتے ہیں ۔جب ان کی شادی ہوتی ہے تو ان کی زندگی کا دارومدار بیگم کے چہرے کی مسکراہٹ پر ہوتا ہے ۔۔اگر وہاں پر کالے بادل ہیں تو یہ بکھر چکا ہوتا ہے ۔۔پھر اس کی زندگی کاانحصار بچوں کی چیخ چاخ پر ہوتا ہے ۔اگر یہ تکڑے ہیں تو سب ٹھیک ہے وگر نا نہیں ۔۔۔۔ابو لوگوں کی خواہشوں ، آرزوؤں خوابوں اور آزادی کا سورج اس وقت غروب ہوجاتا ہے جب اس کی شادی کا چاند طلوع ہو جاتا ہے ۔اس لیے کہ اس کے بعد یہ اپنا نہیں رہتا کسی اور کا ہوجاتا ہے ۔اس کے لیے جی رہا ہوتا ہے ۔اس کو اپنے کپڑوں کی نہیں اس کے کپڑوں کی فکر رہتی ہے ۔اپنے ننگے پیروں کی نہیں اس کے پاؤں کے جوتوں کی فکر رہتی ہے ۔اپنے چہرے کے اجلا پن کی نہیں اس کی میک آپ کی فکر ہوتی ہے ۔اس کو شکایات سننے پڑتے ہیں ۔پہلی دفعہ اپنے وجود کی کمزوریوں ، اپنی شخصیت کی کھوکھلا پن اور اپنی نااہلی نالائقی کا احساس ہوتا ہے ۔اس سے پہلے اگر وہ مرد میدان تھا اب وہ کام چور ہے ۔۔اس سے پہلے اگر وہ لائق فائق تھا اب وہ نکھٹو نکما ہے ۔۔اس سے پہلے اگر وہ سوشل تھا اب وہ نان سوشل ہے ۔۔اس سے پہلے اگر وہ مجلسی تھا اب وہ جھاٹ ہے ۔۔کسی کا بھائی اس سے اچھا ہے ۔۔کسی کا باپ اس سے ہزار گنا اچھا ہے ۔۔اس کا گوراچہرہ کالا ہے ۔۔ ۔۔اس کی شربتی اکھیاں بجھی بجھی سی ہیں ۔۔۔اس کی ہشاش طبیعت بلغمی ہے ۔۔۔پھر وہ ابو بن گیا ہے ۔اس کا بچہ آیا ہے ۔لیکن یہ اچھا ابو نہیں ہے ۔ ۔۔فلان کا ابو اچھا ہے ۔اس نے اپنے بچے کے لئے اچھا کپڑا خریدا ہے ۔۔فلان کے ابو کی گاڑی ہے ۔گھر ہے ۔۔بینک بیلنس ہے۔یہ اس کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا ۔۔فلان کے ابو نے اپنے بیٹے کو بائیک خرید کے دی ہے ۔فلان نے اپنے بیٹے کو میڈیکل کالج میں داخلہ کرایا ہے ۔۔۔میرا یہ فادر نہیں برائے نام فادر ہے ۔۔پھر ابو کو بے گھر بے در ہونے کے طعنے ہیں ۔وہ اس غم میں گھل جاتا ہے ۔۔کہ اس کا اپنا گھر نہیں ہے ۔۔قلیل تنخواہ ہے اس سے اس کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتیں ۔۔وہ اپنا سب کچھ بھول چکا ہوتا ہے ۔۔اس کو اپنے کپڑوں جوتوں کی فکر نہیں ہوتی ۔۔وہ ایک لحاظ سے مر چکا ہوتا ہے ۔۔مونا کے جوتے ،ننھے کے کپڑے،گڈو کے کھیلونے ،ریشم کا کالج،اشفاق کی بائیک ،تمہید کی فیس،پپو کا داخلہ۔شبنم کی شادی ،عالیہ کی تربیت۔۔۔سارے جہان کا درد اس کو گھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔۔۔اس کی نیندیں اڑ چکی ہوتی ہیں ۔وہ دونوں ہاتھوں سے پیسے بٹورے بھی تو اس کو سکون نہیں ہوتا ۔۔۔کوئی بیمار ہوتا ہے کوئی ناراض ہوتا ہے ۔ دو اپس میں لڑتے ہیں ۔ایک ماں سے لڑتی ہے ۔تو ماں کی گھڑکیاں ابو سہتا ہے ۔ایک کی صحت خراب ہے ۔۔ایک بے ہنگم موٹا ہوتا جارہا ہے ۔ایک کے داینت پہ بجلی گری ہے ۔ایک کو ہمسایہ نے طعنہ دیا ہے ۔ایک کو استاد نے انعام سے محروم کیا ہے ۔ایک کا امتحان سر پہ ہے ۔۔ایک کے بال بے وقت سفید ہو رہے ہیں ۔ایک بائیک چلانے میں لاپرواہ ہے ۔ایک بد صورت ہے اس کو کوئی پروپوز نہیں کرے گا ۔ ۔۔رمضان میں افطاری کی شکایت تھی اب عید آنے والی ہے ۔ایک کو جولری کی سوجی ہے ۔ایک چمپاکلی خریدنے پہ بہ ضد ہے ۔ایک کو جوتے پسند نہیں ہیں ۔ایک کو عیدی نہیں ملی ۔ایک کو کپڑوں کا رنگ پسند نہیں ۔۔۔یہ ابو لوگ یہ بے چارے ابو لوگ زندگی نہیں گزار رہے بلکہ سزا کاٹ رہے ہیں ۔۔یہ ابو لوگ یہ کرچی کرچی ابو لوگ ،یہ سہمے سہمے ابو لوگ،یہ پریشان اشفتہ سر ابو لوگ ،یہ بیگم کے مارے بچوں کے ستائے قابل توجہ ابو لوگ قابل رحم ہیں ۔۔۔۔خاکم بدہن میں نہیں کہتا کہ خدا کسی کو ابو ہونے سے بچائے مگر یہ دعا ہے کہ خدا بیگم اور بچوں کو یہ توفیق دے کہ وہ اس بے چارے کو ستانے سے باز آجائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى