
صدا بصحرا …..پر چون فروش کا جرم
………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …….
انگریزی میں ایک مقولہ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ قانون مکڑی کا جالا ہے کمزور کیڑا جالے میں پھنس جاتا ہے بیل اس کی پروا بھی نہیں کرتا ہمارا قانون ہو بہو مکڑی کا جا لا ہے اس میں 6 ہزار روپے کا مال بیچنے والا پرچون فروش جر مانہ بھرتا ہے 80 لاکھ روپے کا مال فروخت کر نے وال تھوک بیو پاری بچ جاتا ہے 10 کروڑ روپے کا مال مارکیٹ میں لانے والا صنعت کار عیش کرتا ہے یہ ملک کے مشہور کا رخانے کا بسکٹ ہے اس کا بڑا سٹاک شہر کے بڑے تھوک فروشوں کے پاس پڑ ا ہے مال ملک کے بڑے انڈ سڑیل ایر یا سے آتا ہے مرکز سے دور، ضلعی ہیڈکوارٹر سے دور کسی گاؤں میں چھوٹا پر چون فروش یا کھو کے والا بھی یہ بسکٹ فروخت کرتاہے لاہور ، پشاور اور اسلام آباد کے بڑے گروسری شاپ میں بھی یہ بسکٹ دستیاب ہے ملاؤٹ والوں کے خلاف انتظامیہ حرکت میں آتی ہے تو 5 ہزار روپے کا کھوکا لگانے والے کو پکڑتی ہے 10 کروڑ روپے کا مال مارکیٹ میں لانے والے کو نہیں پکڑتی طریقہ واردات یہ ہے کہ انتظامیہ کو اوپر سے حکم ملتا ہے ملاؤٹ کر نے والوں کوپکڑؤ اورپر اگرس دکھاؤ کارکردگی دکھاؤ ایک دوسرے پرسبقت لے جاؤ آگے بڑھو شاباش رپورٹ کرو یہ حکم وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے دفتر سے آتا ہے محکمہ خوراک کا انسپکٹر نیا نیا آیا ہے فریش گریجویٹ ہے خون گرم ہے ولولہ تازہ ہے ایک مشہور برانڈ کے بسکٹ کے رنگ اور ذائقہ پر شک کرتا ہے فیکٹری کو تالا لگاتا ہے مال کو سر بمہر کرتا ہے سیمپل لیکر پبلک انا لسٹ (Public Analyst) کو بھیجد یتا ہے کارخانے والے کا باپ ایم این اے اور چچا صوبائی وزیر ہے اگلے دن انسپکٹر کے خلاف انکو ائر ی شروع ہوتی ہے ایک ماہ بعد پبلک انالسٹ مہر لگا کر رپورٹ دیتا ہے کہ بسکٹ ایک نمبر ہے انسپکٹر ٹارگٹ کلنگ میں مارا جاتاہے یا اغوا ہوجاتاہے کارخانہ دوبارہ کھل جاتا ہے ملاؤٹ کا کام زور و شور سے جاری رہتا ہے اس شہر میں محکمے کی کارکردگی صفر ہوجاتی ہے لینے کے دینے پڑجاتے ہیں اس لئے تجر بہ کار ، ہوشیار اور سیانے فوڈ انسپکٹر وں نے اوپر سے آنے والے احکامات پر سو فیصد عمل کرنے کا تیر بہدف نسخہ دریافت کیا ہے اسی کارخانے کا بسکٹ کارخانے سے مت پکڑؤ تھوک فروش پر چھا پہ نہ مارو ، شہرکی بڑی دکان سے سیمپل نہ لو اس حکم کو لیکر کھو کے والے کے پاس جاؤ ، ریڑھی والے کے پاس جاؤ ، اس کے کاروبار کی کل مالیت 5 ہزار یا 6 ہزار روپے سے زیادہ نہ ہوگی سیمپل لے لو پبلک انالسٹ کے پاس بھیجو تو کسی بڑے بوس کو کانوں کان خبر نہ ہوگی پبلک انالسٹ 3 ہفتے انتظار کر یگا سیمپل کے پیچھے کوئی بڑا سامی مال لیکر نہیں آئے گا مایوس ہو کر وہ بسکٹ کوٹیسٹ نہیں کریگا رپورٹ میں دونمبر ملاؤٹی لکھ کر اس پر مہر لگا کر واپس کر ے گا پبلک انالسٹ ہر سیمپل کے ساتھ فوڈ انسپکٹر کی مقر رہ فیس سے سروکار نہیں رکھتا مقررہ فیس سرکاری خزانے میں جاتاہے وہ پارٹی کا انتظار کرتا ہے کہ آئے اور مک مکا کر کے اپنا مال ایک نمبر کروالے بے چارہ کھو کے والا اس کی استطا عت نہیں رکھتا کھوکے والے کے ساتھ مک مکا نہیں ہوتا اس کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی جاتی ہے وہ گرفتار ہو کر تھا نہ جیل کچہر ی کے چکروں میں پڑ جاتا ہے ایک ماہ بعد 18 ہزار روپے مختلف مقامات پر خرچ کر نے کے بعد2 ہزار روپیہ سرکاری خزانے میں جرمانہ بھر تا ہے ایسے 20 غریبوں کا چالان ہو جائے تو فوڈ انسپکٹر کی کارکردگی نظر آتی ہے اس کو شاباش ملتی ہے اس کو ترقی اور بہتر پوسٹنگ ملتی ہے اس کو پراگرس کہتے ہیں ما ل اگر ملاؤٹ شد ہ ہے تو مارکیٹ کے اندر گردش میں ہے او پر والوں کا حکم یہ نہیں کہ ملاؤٹ شدہ مال کا راستہ روکو حکم کا مطلب یہ ہے کہ دس بارہ غریبوں کو پکڑ کر مال بناؤ اور پراگرس دکھاؤ آخبار میں تصویر دیدو ، فیس بک پر سٹیٹس اپ ڈیٹ کرو میرے دوست مرحوم چراغ حسین نئے نئے پولیس میں آئے تھے ٹرنینگ کے بعد ان کو چوکی کا انچارج بنایا گیا انہوں نے پہلے ماہ منشیات کے بڑے اڈوں کو ختم کیا مال کو ضبط کر کے مال خانے میں داخل کیا ملزموں کو جیل بھیجدیا اگلے ماہ علاقے میں کوئی نشہ آور چیز برآمد نہیں ہوئی پھر اگلے ماہ رپورٹ صفر آئی تو حکام بالانے جواب طلبی کی چراغ حسین نے بتا یا کہ پہلے ہی مہینے منشیات کے اڈوں کو ختم کر دیا ہے ملزموں کو جیل بھیجدیا ہے 4 من چرس اور 2 ہزار لیڑ شراب کو ضبط کر کے بھٹی کو سر بمہر کر دیاہے بالائی حکام نے کہا یہ حماقت ہے اڈ ے کونہ چھیڑو بھٹیوں کو نہ چھیڑو ہر ماہ 100 گرام، 200 گرام چرس پکڑو 100 لیٹر 200 لیٹرشراب پکڑو اور پراگرس رپورٹ دکھاؤ اگر تم نے منشیات کے اڈے مسمار کر دےئے تو پراگرس کہاں سے دکھاؤ گے چراغ حسین مرحوم نے ملزموں کو رہا کر وا کر کا روبار چالو کروایا اور ہر ماہ پراگرس دکھانا شروع کیا اب وہ کافی عقلمند ہو چکا تھا اس کو طریقہ وار دات کا علم ہو گیا تھا اصول یہ نہیں کہ ملاوٹ شدہ مال مارکیٹ میں نہ آئے اصول یہ ہے کہ ہر ماہ کسی نہ کسی غریب کو پکڑو چالان کرو اور پراگرس دکھاؤ دولت مند طبقے کو نہ چھیڑو اپنے لئے اور بوس کے لئے مسئلہ پیدا کرو گے غریبوں کو چالان اور جرمانہ کرو تمہاری کار گردگی نظر آئیگی پس محکمہ خوراک کے جذباتی لوگ ترنگ میں آکر کارخانہ دار، صنعتکاراور سرمایہ دار پر ہاتھ ڈالتے ہیں اور مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تجربہ کا ر لوگ پر چوں فروش اور کھو کے والے کو پکڑ کر اُس کا خون بھی نچوڑتے ہیں جرمانہ کرکے پراگرس رپورٹ بھی دیتے ہیں کار کر دگی دکھاتے ہیں اور ترقی پر ترقی پاتے ہیں ملاوٹ کرنا جرم نہیں ہے غریب اور پرچوں فروش ہونا جرم ہے
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزامرگ مفاجات
