تازہ ترین

عمران خان کے دورہ چترال کے موقع پر پی ٹی آئی ورکروں سے ملاقات

چترال(نمائندہ چترال ایکسپر یس) عمران خان کا دورہ چترال کے موقع پر PTI ورکروں نے پارٹی چیئرمین مین عمران خان کو کھری کھری سنا دی۔ ورکروں کا کہنا تھا کہ PTI کی حکومت کو صوبے میں 3 سال پورے ہو ئے لیکن افسوس چترال میں اب تبدیلی کا نام و نشان اور اُمید بھی نہیں۔ سر کار ی محکموں میں ظلم و نا انصافی اور کرپشن کا بازار گرم ہے۔ نو کریاں کے بکنے کا سلسلہ نہیں روکا ہے ، میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے، انصاف کی حکومت میں ظلم و بر بریت کی انتہا کو دیکھ کر چترالی عوام سابقہ ANP کی حکومت کو تر ستے ہیں۔چترال کی مقامی قیادت کی کا رکردگی کلاس 4 بھر تیوں اور کلر کوں کے تبا دلوں سے آگے نہیں بڑھی ہے۔ انصاف کی حکومت میں چترال تبدیلی سے محروم ہے۔ پارٹی کے منشور میں تر جیحی بنیادوں پر ہو تے ہو ئے بھی چترال میں محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم تباہی اور تنزلی کا شکار ہیں۔ پھر بھی کوئی پو چھنے والا نہیں ہے۔ چترال ایک شہر نا پرسان کا منظر پیش کر رہا ہے ورکروں نے محکمہ تعلیم ، محکمہ بلدیات اور محکمہ صحت میں بے ضابتگیوں ، گھپلوں ، اور میرٹ کی پا مالی کے متعلق دستاویزی ثبوت عمران خان کو پیش کر تے ہو ئے کہا کہ اگر چترال میں ان محکموں میں مافیاز کا صفایا نہ کیاگیا تو ہم مزید چھپ کا روزہ نہیں رکھ سکتے ۔ پارٹی کی قیادت کے خلاف صوبائی اور مرکزی سطح پر اپنا احتجاج شروع کریں گے کیونکہ ہم نے PTI میں صرف نظریے اور منشور کی بنا پر شمولیت اختیار کئے ہیں اور 3 سال بعد بھی افسو س کا مقام ہے پارٹی منشور عوام کو چترال میں ریلف دینے میں نا کام ہو چکی ہے۔ مقامی قیادت کو ناکام قرار دیتے ہو ئے ورکروں نے نو جوان با صلاحیت تعلیم یا فتہ اور بے داغ ماضی کی حامل قیادت کا مطالبہ کر تے ہو ئے کہا کہ PTI چترال کو اب ورکروں کے حوالہ کیا جا ئے ورکروں نے چترال کی پسماندگی کو دور کرنے کا واحد حل بتا تے ہو ئے کہا کہ جلد از جلد ضلع چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کیا جا ئے ۔عمران خان نے ورکروں کی تمام شکایات کا ازلہ کرنے کا وعدہ کرتے ہو ئے کہا کہ انشا ء اللہ مستقبل میں ایسی لا پر واہی اور کوتاہی نہیں برتی جا ئیگی کیونکہ اب تک صوبائی حکومت کی چترال کی طرف عدم تو جہی پر مجھے بے حد افسوس ہے۔انہوں نے کہا کہ ورکروں کے تمام خدشات ، مطالبے اور مسائل کے حل کے لئے وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک سے میں خود بات کرونگا۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق