ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا……عید کا چاند اور جھو ٹی گو اہی

……..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……
عید الفطر قریب آتے ہی عید کا چا ند زیر بحث آتا ہے ۔26 اور27 رمضان المبا رک کو عید کی تیا ری سے زیادہ عید کے چا ند کی تیاری شروع ہو تی ہے “چاند رات “کی تیا ریوں میں ایک بڑی خو شی چاند دیکھنے کی ہے ۔چاند کس نے دیکھا ؟یہ بہت اہم سوال ہو تا ہے ۔بنو ں ،چا رسدہ ، کو ئٹہ اور بہا ولپور اور ڈیرہ غا زی خان میں ایسے لو گ مو جو دہیں جنکا پیشہ چا ند دیکھنا ہے ۔یہ لوگ 3 اور 4 کی ٹو لیو ں میں چا ند دیکھتے ہیں اور کلمہ پڑھ کر اس کی گو اہی دیتے ہیں ۔دیہا ت میں زمانہ قدیم سے ایک دستور ہے ۔عید کا چا ند نظر آئے تو ہو ائی فا ئر نگ کے ذریعے چا ند رات کی خو شی کا اظہار کیا جا تا ہے ۔چا رسدہ کے دیہات رجڑ ،تو رڈھیر ،شبقدر اور نستہ میں اوبا ش لڑکے ہو ائی فا ئرنگ کر کے چا ند رات کی خبر دیا کر تے تھے ۔رجڑ کے صا حب حق نے اس رسم کو ختم کر نے کے لئے گو اہی کا شرعی طریقہ رائج کیا اور علماء سے کہا کہ شرعی شہادت کے بغیر ہوائی فائرنگ (ڈزی) کے ذریعے چاند رات کو تسلیم نہ کیا جائے۔ تقریباً نصف صدی تک رجڑ کے صاحب حق مرحوم نے علماء اورعوام کی رہنمائی کی۔لوگ ہوائی فائرنگ کی جگہ صاحب حق مرحوم کے حکم کا انتظار کرتے تھے۔اگر صاحب حق مرحوم کے حکم کے بغیر کوئی چاند رات منائے تو لوگ کہتے تھے”پہ ڈزو اختر راولی ” یہ شخص ہو ائی فائرنگ کے ذریعے چا ند رات کرواتا ہے ۔یہ چا رسدہ کا مشہور جملہ تھا۔ جب سے مولانا شہا ب الدین پو پلزی اور مولانا منیب الرحمن کی ذاتی دشمنی چاند رات کے معا ملے میں حا ئل ہو گئی ہے ۔چاند دیکھنے کا مسئلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے ۔انور مسعود کا مشہور قطعہ ہے :
چاند کو ہاتھ لگا آئے ہیں اہل مغرب
ان کو یہ دھن ہے کہ اب جا نب مریخ بڑھیں
ایک ہم ہیں کہ دکھا ئی نہ دیا چا ند ہمیں
ہم اسی سوچ میں ہیں عید پڑھیں نہ پڑھیں
انور مسعود کہتے ہیں کہ ایو بی دور میں میرا یہ قطعہ بے حد پسند کیا گیا تو میں مزاحیہ شا عری کا طرز اسلوب اختیار کر گیا ۔مفتی پو پلزئی اور منیب الرحمن کی ذاتی دشمنی مخالفت اور ضد با زی ،کینہ پروری نے پشا ور ،چا رسدہ، مردان اور نو شہرہ میں 3عیدوں کو جنم دیا ۔اگر جمعہ کے روز ایک مو لو ی کی عید ہے تو ہفتہ کے روز دوسرے مولوی کی عید اور اتوار کے روز مو لو ی منیب الرحمن کی عید ہو تی ہے ۔وہ غروب آفتاب سے 3منٹ پہلے چا ند دیکھ کر بھی عید کا اعلان محض اس وجہ سے نہیں کر تا کہ اس روز پشا ور میں عید کا اعلان ہوا ہے ۔وہ پشا ور کوپا کستان نہیں سمجھتا ۔آدمی نسلاً پٹھان ہے ۔مگر ضد کا پکا ہے ۔ضد کے مقابلے میں کو ئی آیت ،کو ئی حدیث ،کوئی دلیل نہیں ما نتا۔بسا اوقات ایسا بھی ہو تا ہے کہ پشا ور اور چارسدہ میں عید کے روز بھی غروب آفتاب کے وقت چا ند نظر نہیں آتا ۔ علماء فتویٰ جاری کرتے ہیں کہ جنہوں نے چاند رات اور عید منا ئی وہ کفارہ ادا کر یں ۔60 روزے مسلسل رکھ کر تو بہ کر یں۔کیو نکہ انہوں نے 30 رمضان المبا رک کا روزہ قصداًعمداً افطار کر کے گنا ہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے ۔اگر چہ ہجری سال 1437 ء اور عیسوی سال 2016 ء کا روزہ ہم نے ایک ہی دن رکھا ۔تا ہم سعودی عرب اور کا بل کا روزہ ہم سے ایک دن پہلے تھا ۔فنی اور تکنیکی طور پر سعودی عرب کی 30 رمضان ہما رے ہاں 29 تا ریخ ہوتی ہے ۔ان کے 30 روزے یا افطار ، عید اور چا ند رات کے اگلے رو ز ہماری عید ہو سکتی ہے ۔لیکن بعض جگہوں پر یہ افوا ہیں گردش کر رہی ہیں کہ سعودی عرب اور کا بل کے سا تھ ہما ری چا ند رات ہوسکتی ہے ۔یکم رمضان کے چا ند میں غلطی ہو گئی تھی اس لئے 28 روزے ہو نگے ۔روزے 28کیوں ہو نگے ؟اس کا طریقہ واردات ہے ۔پیشہ ور “چاند راتیے”آگے آئینگے ۔کلمہ پڑھ کر اور قسمیں کھا کھا کر مو لوی کے سا منے اقرار کر ینگے کہ میں نے چا ند دیکھا ہے ۔ان کے سا تھی مو لو ی کے فیصلے سے پہلے ہو ائی فا ئرنگ شروع کر ینگے اور اختر کا اعلان دور دور تک پھیل جا ئے گا۔موبائل فون ،وٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے اس غیر شرعی اعلان کو اتنا پھیلا یا جا ئے گا کہ مفتی پوپلزئی کو بھی مجبو راً اعلان کر نا پڑے گا ۔اس مرتبہ مفتی پوپلزئی عمرہ کی سعادت حا صل کر نے کے لئے سعودی عرب گئے ہو ئے ہیں ۔تا ہم واردات کرنے والے یہا ں مو جود ہیں اور طریقہ وار دات ان کو معلوم ہے ۔ہما رے ملکی قوانین میں مر کزی رویت ہلال کمیٹی کی کو ئی قا نو نی اور آئینی حیثیت نہیں ہے اس لئے اس کے حکم کی خلاف ورزی کر نے والے کے لئے کو ئی سزا نہیں ہے اور یہ قانونی نظام کی بہت بڑی خا می یا کمزوری ہے ۔تو رڈھیر چا رسدہ کے درد مند مسلمان اور محب وطن پا کستانی غلام حبیب ہر سال اس صورت حال پر اپنے درد ،دکھ اور افسوس کا اظہار کسی نہ کسی فورم پر کر تے آئے ہیں ۔ان کی تجویز یہ ہے کہ چا ند رات کی جھوٹی شہادتوں کا راستہ روک دینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا ۔مثلاً الف ،بے اور جیم نے ایک دن پہلے شہادت دی کہ ہم نے چاند دیکھا ہے ۔اگلے دن غروب آفتاب کے 3منٹ بعد چاند کو آسمان کے افق پر مو جود ہو نا چا ہیے۔اگر عید کے روز غروب آفتاب کے 3منٹ بعد بھی چا ند نظر نہیں آیاتو لازماً ثا بت ہو تا ہے کہ الف ،بے اور جیم نے جھو ٹی گو اہی دی تھی ۔اس جھو ٹی گو اہی کی سزا ضرور ہو نی چا ہئے ۔جس میں قید اور جر مانے کی دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی ہو سکتی ہے ۔اسمبلی میں قا نون پاس ہو نا چا ہیے کہ چا ند رات کی جھو ٹی گو اہی دینے والے کو سزا دی جا ئے گی۔قا نون بنا نے کے سا تھ ہی پو لیس کو چو کس کر دیا جا ئے ۔گو اہی دینے والے کا پو را ریکا رڈ مقا می پو لیس چو کی میں درج ہو ۔24 گھنٹے کے اندر اس کو پو لیس چو کی یا تھا نے میں حا ضری کا پا بند کیا جا ئے اور عید کے روز غروب آفتاب کے بعد عام چاندنظر نہ آنے کی صورت میں ایک دن پہلے گو اہی دینے والے کے خلاف جھو ٹی گواہی کا پرچہ کاٹ کر اس کو با قاعدہ گر فتارکیا جا ئے اور جھو ٹی گو اہی یا چا ر سو بیسی کا مقدمہ چلا کر با قا عدہ سزادی جا ئے ۔دو تین سالوں تک چاند رات کی جھو ٹی گو اہی دینے والوں کوسزائیں دی گئیں ۔تو “پہ ڈزواختر” والا سلسلہ رک جائے گا ۔شرعی شہا دتوں پر چاند رات ہو گی اور شرعی شہا دتوں پر عید ہو گی۔ مفتی منیب الرحمن پختون ہو نے کی وجہ سے جا نتے ہیں کہ بعض مقامات پر پیشہ ور گو اہیاں دینے والے مو جود ہیں۔ اس لئے وہ شہا دتوں کو تسلیم کر نے سے انکار کر تے ہیں۔ 30سالوں تک مرکزی رویت ہلال کمیٹی پر ایک ہی مسجد اور ایک ہی مدرسے کی اجارہ داری مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو مشکوک بناتی ہے اور اس کے چیئرمین کا کردار بھی مشکوک ہو جا تا ہے ۔بالکل اسی طرح جھو ٹی گو اہی دے کر چا ند رات اور عید لا نے والوں کو سزانہ دینا انتظامیہ کے کردار پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ جا تا ہے ۔
یہ مصرع لکھ دیا کسی شوخ نے محراب مسجد پر
یہ نا داں سجدے میں گر گئے جب وقت قیام آیا
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى