
چترال بھر میں عیدالفطر انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا
چترال ( محکم الدین ) چترال بھر میں عیدالفطر انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا ۔ عید کی نماز کا سب سے بڑا اجتماع حسب سابق ایون عید گاہ میں ہوا ۔ جہاں ہزاروں فرزندان توحید نے ممتاز عالم دین مولانا کمال الدین کی امامت میں نماز عید ادا کی ۔ عیدگاہ ایون نماز عید ادا کرنے والوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ اس موقع پر خطیب عید گاہ ایون مولانا کمال الدین نے ماہ رمضان کی فیوض و برکات اور اللہ رب العزت کی طرف سے
روزہ داروں کیلئے انعامات اور بخشش کے اعلانات کو خصوصی طور پر موضوع بنایا ۔ اور کہا ۔ کہ قران کریم کی مختلف آیات سے صاف واضح ہے ۔ کہ روزہ نہ صرف نبی پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر فرض کیا گیا ۔ بلکہ پہلی اُمتوں پر بھی فرض کیا گیا تھا ۔ اس لئے روزہ کسی ایک امت کیلئے مخصوص نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ روزہ تزکیہ نفس اور تقوی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ اور اس کا بدلہ اللہ پاک نے خود اپنے روزہ دار بندوں کو دینے کا وعدہ فرمایا ہے ۔ مولانا کمال الدین نے کہا ۔ کہ جن آفات نے چترال کو گھیرے میں لے لیا ہے ۔ اس کیلئے اجتماعی طور پر ہمیں اپنے اعمال کو درست کرنے پر توجہ دینی چاہیے ۔ انہوں نے کہا ، کہ نہ صرف چترال کے مسلمان ،بلکہ اقلیتی برادری بھی یہ بات مان چکی ہے ۔ کہ ہر طبقہ اپنے مذہب سے دور ہو چکا ہے ۔ جس کی بنا پر چترال آفات کی زد میں ہے ۔ انہوں نے گذشتہ دنوں اُرسون میں سیلاب سے جان بحق ہونے والے فوجی جوانوں اور سویلین افراد کی مغفرت کیلئے خصوصی دُعا ئیں کیں ، خطیب نے چترال میں عید کی خوشیوں کی آڑ میں مرد و خواتین کی غیر ضروری اور غیر شرعی نقل و حمل ترک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ۔ کہ اسلام کسی مسلمان کی ضرورتوں کی نفی نہیں کرتا ، اور نہ ضروری نقل وحمل کی مخالف ہے ۔ لیکن موجودہ وقت میں ضروری اور غیر ضروری کی تمیز ختم ہوگئی ہے ۔ اور عید جیسے مبارک دن کو غیر شرعی تفریح طبع کا ذریعہ بنایا گیا ہے جو کہ کسی بھی طرح د رست نہیں ہے ۔ اگر ہم اسلام کے پیرکار ہیں ۔ تو ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے ۔ عید گاہ میں ماہ رمضان کے دوران مسلمان ہونے والی نو مسلم بیٹی رینہ کی دین اسلام میں استقامت کے حوالے سے بھی خصوصی دُعائیں کی گئیں ۔ اور اُن کے ساتھ مالی امداد کیلئے اعانتی رقم بھی جمع کیا گیا ۔ چترال میں عید کی نماز کیلئے دیگر بڑے اجتماعات شاہی مسجد چترال شہر ، دنین گلوغ مسجد ، چترال چھاونی مسجد ، جغور مسجد ، بروز عیدگاہ، دروش بلال مسجد ، گرم چشمہ جامع مسجد اوچ ، بونی جامع مسجد ، جامع مسجد مستوج ، شاگرام ، وریجون موڑکہو اور تریچ وغیرہ مقامات میں ہوئے ۔ جہاں خطباء نے ملک کی سالمیت ، مسلمانوں میں اتحا دو اتفاق کیلئے خصوصی د عائیں کی گئیں ۔اور ماہ رمضان کے روزوں کی تکمیل پر سجدہ شکر بجا لایا ۔ اس کے علاوہ چترال کے شاہی مسجد،جامع مسجد ریحانکوٹ ،جامع مسجد شاہی بازار اورمراد اسٹیڈیم دروش میں بھی عید کی نماز ادا کی گئی۔
