ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ……مدینہ منورہ میں دہشت گردی

…….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …..,.


واقعہ مد ینہ منورہ کو ایک ہفتہ گزر نے کے با وجود اب تک گرد صاف نہیں ہو ئی بد قسمتی سے پاکستان کا نام بھی بار بار لیا جا رہا ہے اور دہشت گرد کا حلیہ وغیرہ بتا کر دہشت گردی کو پاکستان کیساتھ جوڑنے کی کو شش کی جا رہی ہے ۔29 ویں رمضان المبارک کی رات مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ سے کچھ فاصلے پر پارکینگ اور سیکورٹی چیکینگ کے علاقہ میں دہشت گردی کا افسوس ناک واقعہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے باعث رنج تھا خصوصاً اسلامی ممالک میں اس افسوس ناک واقعے کی شدت کو پوری شد و مد کے ساتھ محسوس کیا گیا جس طرح نائن الیون کے بعد امریکی میڈیا نے افغانستان کو بلا تحقیق ذمہ دار ٹھہرا یا تھا اس طرح واقعہ مدینہ منورہ کے فوراً بعد امریکی میڈیا میں بعض اسلامی ملکوں کے نام لئے گئے اس طرح کی بلا تحقیق الزام تراشی اس بات کی طرف اشارہ کر تی ہے کہ نائن الیون کی طرح مدینہ منورہ پر حملے کے پیچھے بھی مخصوص لوگ ہیں اور ان کے مخصوص عزائم ہیں حملے سے پہلے یہ لوگ اخباری خبر اور فوری ردعمل تیار کر کے رکھد یتے ہیں ان کو پتہ ہوتا ہے کہ حملے کے بعد کس پر الزام لگا نا ہے اور کس کے خلاف کاروائی کرنی ہے یا کس پر فوج کشی کرنی ہے حملے کے 24 گھنٹے گذرنے تک جن دہشت گرد تنظیموں کے نام سامنے آئے ہیں اُن کے خلاف سعودی عرب کی حکومت ، سعودی پولیس اور تفتیشی ادارے تحقیقات کر رہے ہیں اس معاملے میں تحقیقات کے نتائج بہت جلد سامنے آئینگے غیر جانبدار تجزیہ نگاروں نے 4 بڑے واقعات کو مدینہ منورہ پر حملے کے پس منظر میں کار فرما قرار دیا ہے سب سے اہم واقعہ یہ ہے کہ گذشتہ سال ایران کے ساتھ امریکہ کے معاہدے کے بعد سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں سر د مہری آگئی تھی خادم حرمین شریفین سلمان بن عبد العزیز اور وزیر خارجہ عادل الجبیرنے امریکہ کو اس معاہدے کے خطر ناک نتائج سے آگا ہ کیا تھا جواب میں امریکہ نے نائن الیون کی ذمہ دار ی سعودی عرب پرڈال دی اور ملزموں کی ایک فہرست دے کر ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا تا ہم سعودی عر ب نے حوالگی سے انکار کیا۔ عالم اسلام میں امریکہ کے سامنے سعودی عرب کے فرمان روا کی جر ء ت مند انہ پالیسی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا امریکہ کواس پر بہت تشویش ہوئی اس وقت امریکہ سعودی عرب کو بلیک میل کر کے تعلقات کونئے سرے سے استوار کرنا چاہتا ہے۔گزشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس حوالے سے سعودی عرب کا خصوصی دورہ کیا تھا دوسر ا بڑا واقعہ یہ ہے کہ مصر میں امریکہ اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت نے اخوان المسلمون کے قائد اور مصر کے سابق صدر محمد مرسی کو سزائے موت سنائی ہے مصر میں اخوان کی جائز منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اسرائیل کے حامی جرنیل عبد المفتاح سیسی کو اقتدار میں لانے کے لئے سعودی عرب نے بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر امریکہ کی حمایت کی تھی اس پر سعودی عرب کی شاہی خاندان کے بعض شہزادے بھی خوش نہیں تھے سعودی عرب کے عوامی حلقے اور رائے عامہ کے نمائندے بھی اس پر طرح طرح کے تحفظات رکھتے تھے محمد مرسی کی معزولی ،گرفتاری اور ان کے خلاف اسرائیلی حکومت کی خوشنودی کے لئے مقدمہ چلاکر ان کو سزائے موت سنانے پر اخوان المسلمون، حماس ،حزب اللہ اور اسرائیل مخالف تنظیموں کو شدید اعتراضات تھے بعض نے کھل کر اپنے اعترا ضات کا اظہار کیا ۔تیسر ا واقعہ یمن کی جنگ کو قراردیا جا رہا ہے جہاں سعودی عرب نے باقا عدہ حملہ کر کے جنگ چھیڑ ی اور دو سالوں میں یمن کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایمن جنگ چھیڑنے کے بعد سعودی عرب میں مختلف مقامات پر تین دہشت کرد حملے اس سے پہلے ہو چکے ہیں ان حملوں کے ملزمان نہیں پکڑے گئے سعودی عرب میں مقیم سنیر اخبار نویسوں نے ان حملوں میں امریکہ کو ملوث قرار دیا ہے یہ حملے سعوی عرب کو بلیک میل کرنے کیلئے کئے جا رہیے ہیں چوتھا واقعہ شام کی جنگ میں امر یکہ کے اتحادی کی حیثیت سے سعودی عرب کا قائدانہ کردار ہے شام کے حامی ممالک ، خصوصاً امریکہ اور اسرایئل کے مخالفین مثلاًایران ،روس اور یمن کو شام کی جنگ میں سعودی عرب کے کردار پر شدید تحفظات ہیں ان تحفظات کی وجہ سے 2016کے حج سیزن میں ایرانی زائرین پر کڑی شرائط عائد کی گیءں جنکو ماننے سے ایران نے انکار کیا ایرانی حجاج کا کوٹہ منسوخ کر دیا گیا ایرانی حجاج نے ایران انقلاب کے سال بھی حج کیا تھا عراق ایران جنگ کے زمانے میں سعودی عرب عراق کا حامی تھا اس کے باوجود 8سالوں میں ایک بار بھی حج پر پابندی نہیں لگائی گئی یہاں تک کہ ایرانی حجاج نے دوران حج امریکہ کے خلاف نعرے لگائے یا جلوس نکالے پھر بھی سعودی عرب نے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا ۔مدینہ منورہ میں دہشت کردی کا یہ پس منظر قابل غور ہے اس پر غور کئے بغیر سائنسی خطوط پر تفتیش نہیں ہو سکتی اگلے چند دنوں کے اند ر حالات نئی کروٹ لینگے مدینہ منور ہ میں دہشت کردی کا سب سے زیادہ فائدہ امریکہ کو ہوگا ماہ اگست سے حج کا سیز ن شروع ہو رہا ہے امریکہ موجودہ واقعے کی تفتیش میں تعاون کی پیش کش کرکے تفتیش میں اہم شواہد کو ضایع کرے گا اور ایک یا ایک سے ز یادہ سلامی ممالک کو ذمہ دار قرار دیگا عرب اور عجم کے درمیان جنگ شروع کرانے کے لئے امریکہ نے ہوم ورک مکمل کر لیا ہے منصوبہ سازو ں نے اندازہ لگایا ہے کہ عرب اور عجم کے درمیان جنگ چھیڑ گئی تو اسلحہ اور جنگی جہازوں کی فروخت سے امریکہ کو سالانہ 400بلین ڈالر کا خالص منافع ہاتھ آئیگا عرب دنیا میں تیل اور گیس کے مزید 200کنویں امریکہ کو ملینگی اور ہر عرب ریاست میں مزید 10ہزار امریکی فوجی بھیجدئے جائنگے اگلے 2سالوں میں امریکہ کے مزید 4فوجی اڈے عرب ریاستوں میں قائم ہونگے اسرائیل کے سامنے مزاحمت کرنے والی تنظیموں کا قلع قمع کیا جائے گا اور خطے میں روس کے اتحادی آزادممالک کو سبق سکھایا جائے یہ گیم کا بڑا نقشہ ہے اس نقشے میں مدینہ منورہ کے اندر شرمناک دہشت گردی محض ایک پڑاؤ ہے محض ایک سنگ میل ہے عالم اسلام کے اندر بڑے جنگ کی تیاری کا ابتدائی مرحلہ ہے واشنگٹن میں اس جنگ کا بلیوپرنٹ تیار کیا گیا ہے2016کے انتخابات میں ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلد ٹرمپ اورڈیموکریٹک پارٹی کی امید وار ہیلیری کلنٹن نے برملا کہا ہے کہ امریکی ثقافت کو مسلمانوں سے خطرہ ہے ہم اس خطرے کا سدباب کر ینگے ڈونلڈ ٹر مپ کا لہجہ بالکل واضح ہے البتہ ہیلری کلنٹن نے سفارتی زبان میں بات کی ہے اگر عرب اور عجم کی لڑائی چھیڑ گئی تو امریکہ اور اسرائیل کیلئے اپنے اہداف اور مقاصد کو حاصل کرنا آسان ہو جائے گا بدقسمتی سے اس وقت عالم اسلام میں کوئی ایسی تنظیم نہیں جو او آئی سی کی جگہ لے سکتی عالم اسلام کے 57ممالک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جو او آئی سی کے مردہ جسم میں نئی روح ڈال کر اس تنظیم کو دوبارہ فعال کر سکے یہ بھی ہماری بد نصیبی ہے کہ عالم اسلام کے قدرتی وسائل اور اہم بندرگاہوں پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا قبضہ ہے مسلمان ممالک چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں ہیں غیر جانبدار مبصر ین کے نزدیک مدینہ منورہ پر حملہ نائن الیون کی طرف کا واقعہ ہے جس طرح نائن الیون سے امریکہ نے بھر پور فائدہ اُٹھایا اس طرح مدینہ منورہ پر دہشت حملے سے بھی امریکہ پورا پورا فائدہ اُٹھائے گا سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز نے اگر اگلے چنددنوں میں واقعے کی تحقیقات مکمل کروائی تو صاف معلوم ہوگا کہ سعودی عرب کے اتحادی یہودی اور عیسائی ممالک ہی اس گھناونے جرم میں ملوث ہیں کوئی مسلمان ملک ملوث نہیں ہے۔
بقول شاعر
تیر کھا کے دیکھا جو کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق