ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدابصحرا …….شندور کی سیر کا موسم

……….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……
مری، ہنزہ، کالام ، مہوڈ نڈ بھی سیاحوں کی جنت کہلاتے ہیں نتھیا گلی ، باڑ ہ گلی ، ڈونگا گلی ، زیارت اور گوادر کو بھی سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے مگر ضلع چترال کا درہ شندور سب سے ممتاز اور منفرد ہے ٹھٹھہ حیدر آباد کے قریب منچھر جھیل سطح سمندر سے 100 فٹ بلند ہے کراچی سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے زیادہ تعجب خیز اور تعجب انگیز نہیں شندور جھیل سطح سمندر سے 12325 فٹ کی بلندی پر چترال ٹاؤن سے 8گھنٹے مسلسل چڑھا ئی پر سفر کرکے سیاح شندور ٹاپ پر پہنچتا ہے اس کے تصور میں پہاڑ ہوتے ہیں برف ہوتی ہے یا جھاڑیوں سے اَٹی ہوئی خشک زمین ہوتی ہے مگر شندور ٹاپ پر تا حد نظر پھیلے ہوئے میدان نظر آتے ہیں میدانوں میں مرغز ار ہیں سبزہ ہے اور بیچ میں منچھر کی طرح تاحد نظر پھیلی ہوئی بہت بڑی جھیل ہے اتنی بلندی پر اس طرح کا منظر کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتا سیف الملوک ، شونج ، بشقار گول ، قرمبرہ اور باہوک کی جھیلیں پیالے میں پانی کی طرح ہیں شندور کی جھیل ایسی نہیں یہ کسی چنچل دوشیزہ کی پھیلی ہوئی آنچل کی طرح ہے اتنی بلندی پر تو برف بھی جم جاتی ہے گلیشیر بھی حرکت نہیں کرتا یہاں پانی کا اتنا بڑا ذخیرہ جھومتا ہوا نظر آئے تو سیاح اپنی خوشی پر قابو نہیں پا سکتا اس بنا ء پر جو سیاح ایک بار شندور دیکھتا ہے وہ بار بار شندور کو دیکھنا چا ہتا ہے لاہور ، کراچی ، برلن ، ٹوکیواور جینوا سے آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد اُن لوگوں پر مشتمل ہے جو ہر دوسرے سال شندور کی سیاحت کے لئے آتے ہیں لاہور کے ڈاکٹرضر اراور ان کے ساتھی گذشتہ 18 سالوں سے ہر سال شندور دیکھنے آتے ہیں کسی سال مئی کے مہینے میں آتے ہیں تو کسی سال جو لائی میں اور کسی سال اکتوبر کے مہینے میں آتے ہیں انگلینڈ کے جی ڈی لینگ لینڈ کو شندور کی وجہ سے چترال کے ساتھ محبت ہو گئی جو عشق کی حدتک پہنچ گئی شند ور کے حسن کی وجہ سے 1914 ؁ء میں مہتر چترال
ا علی ٰ حضرت شجاع الملک نے شندور کے بڑے پولو گراونڈ کے لئے دیواریں تعمیر کروا کر چترالی چرواہوں کے فری سٹائل پولوکو شاہی پولو کے طرز پر شندور میں کھیلنے کا آغاز کیا 1929 ؁ء میں مہتر چترال نے گلگت کے راجوں کو بھی شندور میں پولو کھیلنے کی دعوت دی اس کھیل پر چترال کے نغز گو شا عر معظم خان اعظم نے فارسی میں طویل نظم لکھی ہے اس میں گلگت کے علی داد اور چترال کے شا بُمبر سمیت مختلف کھلاڑیوں کی لاف زنی اور کھیل کے میدان میں کا رکردگی کا حال بیان کیا ہے شابمبر کہتا ہے کہ میں نے بروم گول کا پانی پیاہے علی داد کو بال کی صورت دیکھنے نہیں دونگا علی داد کہتا ہے مجھ پر شیر یزداں ، خیبر شکن مولا علی کا سایہ ہے شا بُمبر کی مجال نہیں کہ میرے مقابلے پر آئے 1970 ؁ء کے عشرے میں کو ر کمانڈر پشاور جنرل مرزا اسلم بیگ نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں شندور پولو فیسٹیول کے لئے خصوصی انتظامات کروائے چترال کی ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئر مین خور شید علی میزبان تھے گلگت کے چیئر مین لطیف حسن مہمان بن کر آئے سیاحوں کی دلچسپی شندور میں 5 بڑی وجوہات سے ہے پہلی وجہ یہ ہے کہ چترال پر امن جگہ ہے یہاں امن وامان کا کوئی مسئلہ نہیں اس لئے سیاح شوق سے شندور آتے ہیں دوسری وجہ شندور کی ٹو پو گرافی ہے 20 ہزار فٹ بلند پہاڑوں کی برف پو ش چوٹیاں ہیں اور 12 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کا بلند ترین پو لو گراونڈ تین اطراف سے قدرتی ٹیلوں میں گھر ا ہو ا ہے قدرتی سٹیڈیم کا منظر دکھا تا ہے تیسری وجہ حد نظر تک پھیلی ہوئی جھیل ہے چوتھی وجہ شندور میں چترال کے کھلاڑیوں کا روایتی فری سٹائل پو لو ہے اور پانجویں وجہ یہ ہے کہ یہاں ٹراوٹ مچھلی ملتی ہے سفید مر غا بیاں آتی ہیں نیز 16000 فٹ کی بلندی سے اڑان بھرنے والے چترالی پیراگلائیڈرز سیاحوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتے ہیں کر اس کنٹری پیرا گلائیڈنگ کے لئے اتنی کھلی جگہ کہیں بھی نہیں ملتی بلا شبہ چترال کے کھلاڑی گلگت کی ٹیم کے ساتھ کھیلنا پسند کرتے ہیں مگر پاکستان کے شہروں سے آنے والے مہمان اور بیروں ملک سے آنے والے سیاح اس بات سے غرص نہیں رکھتے کہ کتنی ٹیمیں ہیں؟ کون کون آرہے ہیں ؟ کون کو ن کھیل رہے ہیں؟ سیاحوں کو بلبل جان ، ارسطواور بختک کے کھیل کا پتہ ہی نہیں ہے وہ تو فری سٹائل کھیل دیکھنا چا ہتے ہیں سکندر الملک ، مقبول علی، شہزاد احمد اور اسرار ولی کا کھیل بھی اُن کے لئے اتنا ہی دلچسپ ہوتا ہے جتنا کسی اور کا کھیل ہوسکتا ہے پس شندور کا سیاح انفرادیت سے متاثر نہیں ہوتا وہ سیر کے موسم سے متاثر ہوتا ہے مناظر فطرت سے متاثر ہوتا ہے اور شندور کے قدرتی حسن کا لطف اُٹھا نا چاہتا ہے وہ یہ دیکھنا چا ہتا ہے کہ سفید رنگ کی مرغابیاں غول کے غول بنا کر کس طرح جھیل میں اترتی ہیں اور کس طرح جھیل سے اڑتی ہیں ؟ وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ پیرا گلائیڈر ز کس طرح پہاڑ کی چوٹی سے اڑان بھرتے ہیں رنگ برنگے قا فلوں میں تتلیو ں کی طرح فضا میں تیرتے ہوئے جھیل کے اوپر سے آکر پولو گرانڈ میں باری باری اترتے ہیں چترال کے نوجوانوں نے کیپٹن سراج الملک اور سیف اللہ جان کی قیادت میں پیراگلائیڈ نگ میں نام پیدا کیا ہے اب ان کو ہزارہ ، ملاکنڈ اور پنجاب تک میلوں ٹھیلوں میں بلایا جاتا ہے پولو کی طرح یہ کھیل بھی چترال کی پہچان بنتی جا رہی ہے 22 جولائی سے 24 جولائی تک شندور میں پولو اور پیرا گلائیڈ نگ کے ساتھ دیگر اہم روایتی اور جدید کھیلوں کا میدان سجایا جائے گا چترال اور شندور سے محبت کرنے والے سیاح شندور اور چترال کی طرف رخت سفر باند ھیینگے ۔بقول مرزا اسد اللہ خان غالب ؔ
جب بتقریب سفر یار نے محمل باندھا
تپش شوق نے ہر ذرے پہ اک دل باندھا
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق