تازہ ترین

وزیر اعلیٰ نے چترال جیسے پسماندہ اور آفت زدہ اضلاع کو محض اعلانات اور خوشنما نعروں سے ٹرخانے کی ٹھان لی ہے۔مولانا عبدالاکبر چترالی

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال سے قومی اسمبلی کے سابق رکن اور جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبدالاکبر چترالی نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دروش کے قریب شیشی کے مقام پر پیڈو کے ہائیڈروپاؤر اسٹیشن کی مرمت اور سالانہ دیکھ بال کی مد میں ایک کروڑ روپے سے زیادہ استعمال کا جوڈیشل انکوائری مقرر کی جائے جسمیں ڈپٹی کمشنر چترال کو بھی شامل کیاجائے کیونکہ حکومت کی طرف سے خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود شیشی بجلی گھر ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے، دروش اور مضافات کے عوام بجلی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مولانا جمشید احمد اور دوسرے رہنماؤں قاضی سلامت اللہ، فضل ربی جان، محمد عالم خان اوررحمت الہیٰ کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایک طرف تو صوبائی حکومت کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے بلند بانگ دعوے کررہی ہے تو دوسری طرف سرکاری محکمہ جات میں کرپشن کا بازار پہلے کی طرح گرم ہے جس کا زندہ مثال شیشی پاؤر ہاوس ہے ۔ مولانا چترالی نے کہا کہ محکمہ پیڈو نے چترال کے بجلی گھروں کو اپنے لئے ناجائز کمائی کا ایک ذریعہ بنایا ہے جو کہ ہرسال بجلی گھروں کی مرمت پر کروڑوں روپے خرچہ دیکھا کر اپنے جیبوں کو گرم کررہے ہیں جسکی انکوئری ہونی چاہیے۔اُنہوں نے کہا کہ چترال میں نیشنل گرڈ سے سپلائی ہونے والی بجلی بھی نہ ہونے کے برابر ہے جوکہ روزانہ 20 گھنٹے سے ذیادہ بغیر شیڈول لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے غائب ہوتی ہے اور باقی چھ گھنٹوں میں بھی انتہائی کم وولٹیج کی وجہ سے استعمال کے قابل نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں کنڈا سسٹم نہیں اور بیلنگ کی سو فیصد ریکوئری ہوتی ہے اس کے باوجود چترال میں بجلی کی کم وولٹیج اور بیس گھنٹوں کی ناروا لوڈشیڈنگ چترال کے عوام کے ساتھ انتہائی زیادتی ہے۔انہوں نے پیڈو کی ملکیتی ریشن پن بجلی گھر کی تعمیر نو پر بھی کام شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اس بجلی گھر سے مستوج سب ڈویژن اور کوہ یونین کونسل کے سولہ ہزار گھرانوں میں اندھیروں کا راج قائم ہوگیا ہے اگر اس پر بروقت کام کا آغاز نہیں ہوا تو بجلی گھر کا باقی ماندہ قیمتی پرزہ جات بھی ضائع ہونے کے خدشات ہے لیکن صوبائی حکومت نے اس سال بھی بجٹ میں کوئی ایلوکیشن نہ کرکے چترالی عوام کی امیدوں پر پانی پھیردیا۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا چترالی نے کہاکہ پرویز خٹک وزیر اعلیٰ کے طور پر صوبے کی قیادت کرنے اور اس کے حقوق کی حفاظت میں ناکام رہا ہے اور حالیہ بجٹ میں اپنے آبائی ضلع نوشہرہ کیلئے 25ارب روپے سے ذیادہ کا فنڈز مختص کرکے چترال جیسے پسماندہ اور آفت زدہ اضلاع کو محض اعلانات اور خوشنما نعروں سے ٹرخانے کی ٹھان لی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت محکمہ واپڈا کا قبلہ درست کریں ورنہ چترال بھر میں احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائیگا ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق