اقبال حیات آف برغزی

دعوائے حماقت

…….تحریر :اقبال حیات آف برغذی……


ملازمت کے دوران کالج جاتے ہوئے راستے میں ایک دکاندار سے دوستانہ مراسم بنے تھے۔ملازمت کے اختتامی ایام میں وہ انتقال کرگئے۔اور کالج سے ناطہ ٹوٹنے کے آٹھ سال بعد اس راستے سے گزرنے کا جب اتفاق ہوا تو اس دوکان پر بیٹھا ایک نوجوان لڑکا نیچے اُتر کر مجھے سلام کیا۔اور اپنے والد کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر فرمانبردار بیٹے کی حیثیت سے آداب بجا لائے ۔دوران گفتگو میں نے دوکان کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کی ہے۔تو لڑکے نے کہا کہ میری ۔میں نے کہا کہ تمہارے والد مرحوم تو اس سے اپنا بتا رہے تھے۔لڑکا مسکرا کر کہنے لگا کہ یہ تو انسان کی سب سے بڑی حماقت ہے۔
یہی کیفیت ہر اس چیز کی ہوتی ہے۔ جو زندگی میں انسانی قبضے میں ہوتی ہے۔سرکار دوعالم ﷺ صرف تین چیزوں پر انسان کی ملکیت کا تصور دیتے ہیں۔ایک جو کھایا اور ہضم کیا۔ دوسرا جو پہنا اور پرانا کیا۔اور تیسرا حلال کمائی میں سے دوسری دنیا کے لئے توشہ بھیجا یعنی صدقہ وخیرات کی صورت میں ۔اور حقیقتاً یہ دنیا ہر جائز اور ناجائز ذرائع سے مال و دولت جمع کرنے کی جگہ نہیں بلکہ قانون الہی کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی کے شب و روز محشر میں سرخروئی کے لئے تگ و دو میں گزارنے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہم ہر طریقے سے سب کچھ سمیٹ کر کثرت مال پر بڑھائی کی چال چلتے ہیں۔اور موت کی حقیقت سے غافل زندگی کے شب وروزگزارتے ہیں۔اور ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان جمع پونجی کو دوسروں کے لئے چھوڑ کر جانا اور ایک دن احتساب کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔ عبدالرحمن بن عوف کے حلال اور اللہ رب العزت کی راہ میں خرچ ہونے والے مال ودولت کے حساب کتاب پر پانچ سو سال گزرنے کے پیغمبری ارشاد کے تناظر میں اپنی کمائی کی نوعیت کوسامنے رکھتے ہوئے بھیانک انجام کا تصور بھی نہیں کرسکتے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک قبرستان سے گزرتے ہوئے مرحومین کو سلام کہنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اے قبر والو تمہارے مال ومتاع تقسیم ہوئے۔تمہاری بیویوں نے دوسری شادیاں کیں اور تمہارے گھروں میں کوئی اور آکر بسے۔
ان تمام مسلمہ حقائق کے باوجود زندگی کے دوسرے شعبوں میں جہاں ہم خیانت اور بے راہ روی کے ارتکاب کے عادی بن چکے ہیں۔ وہاں ہماری کاروبار کی دنیا بھی شریعت کے بتائے ہوئے قواعد و ضوابط سے ناآشناء مال بٹورنے کے دھندے کے رنگ میں رنگین ہے۔ خصوصا رمضان المبارک اور دیگر مذہبی تہواروں کے مواقع پر جس طرح بے دردی سے اپنے ہم جنسوں کو لوٹتے ہیں۔وہ ہماری خداپرستی سے ہٹ کر دنیا پرستی کے غماز ہیں۔
حالانکہ اس قسم کے معاملات دوسرے مذاہب کے پیروکاروں میں نہیں پائے جاتے ۔اور ذمہ دار حکومتی اہلکاروں کی اس اندھیرنگری میں آنکھیں بند رکھ کر بے حسی کا مظاہرہ کرنا بھی ہماری مجموعی روایتی مفار پرستانہ ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔
مختصر یہ کہ ایک دانا کا قول ہے کہ منافق حرص کے ساتھ دنیا جمع کرتا ہے اور تنگدستی کے خوف پر خرچ نہیں کرتا اور اگرکرتا ہے تودکھانے کے لئے کرتا ہے۔ جبکہ صاحب بصیرت مومن خوف کے ساتھ دنیا لیتاہے۔شکر انے کے طور پر ساتھ رکھتا ہے اور اللہ رب العزت کی رضا کے لئے خرچ کرتا ہے۔
اس قول کے آئینے میں ہم اپنا چہرہ دیکھ کر آسانی سے اپنے بارے میں رائے قائم کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق