ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد …..جرم دوست معاشرہ

……..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……


معاشرہ علم دوست بھی ہوتا ہے ،جرم دوست بھی ہوتا ہے چین اور جاپان میں علم دوستی ملتی ہے بعض دیگر ممالک بھی علم دوست کہلاتے ہیں پاکستان کو اپنے نام ، اپنے نظریہ اور اپنے عوام کی وجہ سے علم دوست ہونا چاہئے تھا مگر کاش ایسا ہوتا عام دنوں کی تو بات ہی نہیں ہمارے ہاں عید کے دنوں میں بھی جرائم ہوتے ہیں عید کے ایک ہفتہ گزرنے کے بعد پشاور کی کپیٹل سٹی پولیس نے جو اعداد وشمار جاری کئے ان اعداد کی رو سے گزشتہ سال عیدالفطر کے دنوں میں پشاور کپیٹل سٹی میں قتل ،اقدام قتل ،چوری ،ڈکیتی ،راہزنی وغیرہ کی 221وارداتیں رپورٹ کی گئی تھیں پولیس کی مستعدی کی وجہ سے اس سال وارداتوں میں نمایاں کمی آگئی چنانچہ عیدالفطر کے 3دنوں میں صرف 90وارداتیں رپورٹ کی گئیں گویا 131وارداتوں کو روک لیا گیا پشاور کپیٹل سٹی پولیس مبارکباد کے لائق ہے کہ اس کی مستعدی نے عوام کو 131وارداتوں سے بچالیا تاہم یہاں ایک لمحہ فکریہ موجود ہے ایک سوالیہ نشان نظر آتاہے وہ یہ کہ پشاور کے عوام کا ضمیر ،عوام کا ایمان اور عوام کا عقیدہ کدھر ہے یہ ٹھیک ہے سڑکوں پر پولیس نے گشت کیا مشتبہ افراد کو پولیس نے پکڑلیا اسلحہ ،منشیات وغیرہ پولیس نے برآمد کر لیا جرائم پیشہ افرا د کے گرد پولیس نے گھیر ڈال دیا سب ٹھیک ہے قابل رشک ہے قابل فخر ہے مگر سوال یہ ہے کیا ہماری حکومت 20کروڑ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے 20کروڑ سپاہی بھرتی کرسکتی ہے ؟یقینانہیں ،کوئی بھی حکومت ایسا نہیں کرسکتی دوسرا سوال یہ ہے کہ بیجنگ ،ٹو کیواور سنگاپور میں جسطرح امن قائم ہے ؟کیا وہاں پولیس نے امن کو ممکن بنایا ؟یقیناایسانہیں ہے پھر اصل بات کیا ہے ؟اصل بات یہ ہے کہ ہر شہری کے اندر ہر شہری کے دل و دماغ میں پولیس کا ایک سپاہی بیٹھا ہوتا ہے عام لغت میں اسکو ضمیر کہتے ہیں قرآنی تعلیمات میں اس کو نفس لواّمہ کہا جاتا ہے یہ قدم قدم پر شہری کو ٹوکتا اور روکتاہے اس کو ملامت کرتاہے پشاور میں اس کا فقدان ہے خیبر پختونخوااور پاکستان کے دوسرے حصوں میں اس کا نام و نشان نہیں ہے مشہور مزاح نگار انور مسعود نے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ ’’ہمارے ہاں دھوکے اور کھوتے کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب ہم اسے کھا چکے ہوتے ہیں ‘‘مسلمان کی عید کیسے ہوتی ہے ؟مسلمان کس جذبے سے عید مناتا ہے ؟اس کا ہم کو پتہ بھی نہیں اور احساس بھی نہیں ہمارے ہاں معاشرتی بگاڑ اتنا شدید ہوگیا ہے کہ ہمیں بگاڑ کا اندازہ ہی نہیں ہے نبی کریم ﷺکی حدیث مبارک کا مفہوم ہے ایک عورت سونے کے زیورات پہن کر مشرق سے مغرب تک اکیلی سفر کریگی اوراُس کی طرف آنکھ اُٹھاکر بھی کوئی نہیں دیکھے گا یہ اسلامی ریاست کا نمونہ ہے اسلامی ریاست کی خوبی ہے دوسری طرف سوشلزم اور کمیونزم کے علم بردار کارل مارکس نے کہا تھا کہ ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں قانوں اور قانو ن نافذ کرنے والے اداروں کی ضرورت نہیں ہوگا کنفیوشس،ارسطو ،سقراط اور افلاطون کے ہاں بھی کم و بیش اسی قسم کی ریاست کا تصور ملتا ہے جو شہریوں کی ذمہ درانہ سوچ اور فکر سے جنم لیتا ہے شہریوں کا ضمیر زندہ ہوتا ہے تو ان کو جھنجھوڑتاہے اس طرح کا زندہ ضمیر کس طرح وجود میں آتا ہے ؟ذراتصور کیجئے گھر ہے مسجد ہے مکتب مدرسہ اور سکول ہے اس پر ایک اہم ستون اور اہم معاشرتی ادارے کا اضافہ کیجئے اخبارات ،اور میڈیا یہ سب مل کر معاشرے کے ضمیر کو زندہ رکھتے ہیں ٹوکیو ،بیجنگ اور سنگاپور میں گھر کا ماحول ایسا ہے جہاں نئی ایجادات کا ذکر ہوتاہے نئی مصنوعات کا ذکر ہوتا ہے ان کے ہاں اگر مسجد کا کوئی متبادل ہے تو وہاں بھی نئی ایجادات اور نئی مصنوعات زیربحث آتی ہیں نوجوان نسل اپنے بزرگوں سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی باتیں سنتی ہے اقتصادی ترقی اور علمی ترقی کی باتیں سنتی ہے ان کے اخبارات میں جو شہ سرخیاں آتی ہیں وہ بھی نئی تحقیق ،نئے ایجادات اور نئی مصنو عات کے بارے میں ہوتی ہیں سیاستدانوں کے بیانات اخبارات کی سرخیوں میں نہیں آتے نفرت انگیز باتوں کی سرخیاں نہیں لگائی جاتیں جرائم کی خبروں کو مجرموں کی تصویر وں کیساتھ نمایاں کر کے شائع نہیں کیا جاتا یہ ان کے معاشرے کا اجتماعی رویہ ہے اجتماعی سلوک ہے اجتماعی آئینہ ہے ان کے سکولوں کا نصاب دیکھیں تو اس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے نفرت انگیز مواد نصابی کتابوں میں نہیں دیا جاتا اس کا کوئی شائبہ اور امکا ن بھی نہیں ہے 15 سال کا بچہ 10سال سبق پڑھنے کے بعد سکول سے باہر آتا ہے تو اُس کا ذہن تعصبات اور جھگڑوں سے پاک ہوتا ہے اس کے دل میں کدرتیں اور نفرتیں نہیں ہوتی ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے یہا ں 15سال کے بچے کو زہر بنا کر سکول سے باہر لایا جاتا ہے اُس کے معصوم دماغ میں بیسیوں اقسام کے کی نفرتیں ڈال دی جاتی ہیں اور اسکو بتایا جاتاہے کہ نفرت اور عدوات تمہارے ایمان میں شامل ہے اس کے بغیر تم ایماندار نہیں ہو سکتے اس فکر اور سوچ نے ضمیر کو ماردیا ہے ضمیر مردہ ہو گیا ہے اس لئے ہر شہری پر پولیس کا سپاہی مقرر کرنے کی ضرورت پڑ رہی ہے ہمارے معاشرے میں مجرم کو پکڑا جائے تو شہر کے شرفاء اس کی ضمانت کرواکر چھڑالے جاتے ہیں عادی مجرموں کو شرفاء اپنے گھروں میں پناہ دیتے ہیں اور اس پرفخر کرتے ہیں ہماری فلموں اور ڈراموں میں جرائم پیشہ افراد کو ہیروبنا کر پیش کیا جاتا ہے ایسی فلمیں اور ڈارمے دیکھ کر ہمارے بچے (Don)کہلانے پر فخر کرتے ہیں پیار اور محبت سے ایک دوسرے کو Donکہہ کر پکارتے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میں بدمعاش ہوں یہ علم دوست معاشر نہیں جرم دوست معاشرہ ہے اس وجہ سے عید کے 3دنوں میں ہمارے صوبائی دارلحکومت میں قتل ،چوری ،ڈکیتی اور دیگر جرائم کی تعداد میں 131کی کمی کے بعد یہ تعداد 90رہ گئی اور ہماری پولیس اسکو اپنے لئے باعث فخر سمجھتی ہے
اے وائے ناکامی متاع کا رواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہ

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق