مضامین

دادبیداد ….مغل اعظم کا فرمان

…….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …..

1541 ؁ء میں مغل اعظم جلال الدین محمد اکبر شہنشاہِ ہندکا جاری کیا ہوا فرمان آج پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے بھائی میاں محمد شہباز شریف کی راہ میں روکاوٹ بن گیا ہے لاہور کے شہر یوں کی تنظیم نے اس فرمان کو اورنج لائن منصوبے کے سامنے رکاوٹ بنایا ہوا ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بابا موج دریا ایک بلند پایہ ولی گزرا ہے ہندوستان میں حضرت بابا گیسو دراز ،حضرت بابا کی طرح بابا موج دریا کا بڑا مقام تھا بابا موج دریا کے دربار کی بڑی عزت اور وقعت تھی اورنج منصوبے پر کام جب دربار کے قریب پہنچی تو شہریوں نے یہ نکتہ اُٹھایا کہ عالیجاہ!1541 ؁ء میں مغل اعظم نے فرمان جاری کیا تھا جس کی رو سے دربار سے ملحق زمین کسی بھی مقصد کے لئے استعمال نہیں ہوگی یہ پر و ٹیکٹید علاقہ ہے ا ب شہریوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے عدالت کے فیصلے ،اپیل اور اپیل پر فیصلے میں کم از کم 50سال لگینگے عدالت میں دعویٰ لے جانے والا نسل مر جاتی ہے دوسری نسل بوڑھی ہو جاتی ہے تیسری نسل بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو عدالت کا فیصلہ آجاتا ہے مئی 2003 ؁ء میں چترال کے یونین کونسل کے ناظم سبحان الدین ولد حاجی فرمان دوست کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کروائی گئی معاملہ عدالت کے سامنے گیا یونین کونسل میں ضمنی انتخابات بھی ہوئے 2005 ؁ء میں نئے انتخابات ہوئے 2015ء میں پھر انتخابات ہوئے سبحا ن الدین ولد حاجی فرمان دوست کا مقدمہ زہر لقفیہ ہے زیرغور ہے اس کا فیصلہ کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف نہیں آیا ایسے لاکھوں مقدمات ہیں جو ایک ہی پیشی میں نمٹائے جا سکتے تھے 13سالوں سے عدالتوں میں پڑے ہیں لاہور کی عدالت میں جو مقدمہ ہے اسی نوعیت کا ہے مغل اعظم کا 1541کافرمان 2016 ؁ء کے مغل اعظم کی راہ میں دیوار بن کر کھڑا رہے گا یا اس دیوار کو گرایا جائے گا یہ آنے والا وقت بتائے گا ہمارے مزاروں اور درباروں کے ساتھ عجیب عجیب واقعات وابستہ ہیں چکدرہ کے مقام راموڑہ میں ایک بزرگ کا دربار تھا فیلڈ مارشل ایوب خان نے دربار کے قریب لکڑی کی مصنوعات پلائی بورڈ وغیرہ کا کار خانہ قائم کیا دربار کے احاطے سے سڑک بنائی گئی لوگوں کے توہمات تھے لوگ کہتے تھے کہ کارخانہ کامیاب نہیں ہوگا کارخانہ جب ناکام ہوا تو اللہ تعالیٰ نے جنرل مشرف اور لفٹننٹ جنرل افتخار حسین شاہ کو توفیق دی اس جگہ ملاکنڈ یونیورسٹی بن گئی آج یہ علاقہ علم و دانش کا بہت بڑا مرکز ہے پشاور بالا حصار کی دیوار سے متصل کبر پیر اکا دربار ہوا کرتا تھا افتخار حسین شاہ نے جی ٹی روڈ کی توسیع کروائی تو دربار اسکی زد میں آ یا اب یہ دربار ورسک روڈ پر دارمنگی کے قریب بنایا گیا ہے بزرگوں کے مزار ات اور درباروں سے وابستہ واقعات اور کہانیا ں بے شمار ہیں با با موج دریا کے دربار کی نئی کہا نیاں اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ اس کہانی میں قدیم مغل اعظم کا مقابلہ دور جدید کے مغل اعظم سے ہے دیکھنا یہ ہے کہ کون کس کو چاروں شانے چت گراتا ہے یا د ش بخیر !ڈاکٹر بابر اعوان جن دنوں میں چہکتے اور مہکتے تھے ان دنوں میں مسلم لیگ (ن) کی راجد ھائی کو تخت لاہور کہتے تھے اور مسلم لیگ (ن) طرز حکمرانی کو مغل اعظم کی حکمرانی سے تشبیہ دیتے تھے پھر یوں ہوا کہ کچھ قبلہ زرداری کے ساتھ ان بن ہوگئی اورکچھ جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے ساتھ پنجابی کے ایک ضرب المثل کے ہر جستہ استعمال ’’نوٹس ملیائے کک نہ ہلیا ‘‘نے معاملہ بگار ڈ دیا اور ڈاکٹربابر اعوان منظر سے ہٹ گئے ’’کچھ زمانہ ظالم سن کچھ سانوں وی مرن دا شوق سی ‘‘اب وہ رونقیں مدھم پڑ گئی ہیں لاہور میں میڑوبس کے بعد اورنج لائن آگئی تو لاہور میں بھی لندن ،پیرس ،تہران اور دہلی کے مقابلے میں آئے گا قدیم روایا ت کے ساتھ جدید سہولیات سے بھی آراستہ ہوگا اورنج لائن منصوبہ چین کی سرمایہ کاری سے انجام پا رہا ہے اور اس میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور محنت کا بڑا دخل ہے میاں محمد نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم نہیں بن سکنگے آئینی روکاٹ موجود ہے اس لئے پنجاب کے مقتدر حلقے میاں شہباز شریف کو مستقبل کا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں اگر ایسا ہوا تو یہ مغلیہ سلطنت کاتسلسل ہوگا مگر اس راہ میں مغل اعظم کا 1541 ؁ء والا فرمان حائل ہے مجھے نہیں معلوم کہ عدالت میں کیسے کیسے دلائل دیے جائینگے تاہم عام قاری کی طرح میرے ذہن کی سکرین پر تین مناظر دکھائی دے رہے ہیں لاہور ہائی کورٹ میں اگلا مقدمہ انارکلی کے حوالے سے لایا جائے گا وکلا ء عدالت سے استدعا کرینگے کہ عالی جاہ !یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے 1556 ؁ ء میں انارکلی کو زندہ دیوار میں چن دیا گیا تھا اس کا سومو ٹو نوٹس لیا جائے اور مغل اعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں دوسر منظر بھی دلچسپ ہے ایک طرف ظل الہی تخت پر بیٹھا ہے دوسری طرف ابو الفضل ’’دین الہی ‘‘پر فصیح و بلیغ لیکچر دے رہا ہے اتنے میں مجدد الف ثانیؒ دربار میں داخل ہو کر دھمکی دیتا ہے کہ تم نے دین الہی سے توبہ نہ کیا تو 400خود کش بمبار قلعے پر حملہ کے لئے تیار ہیں اتنے میں خود کش دھماکہ ہو جاتا ہے سب کچھ نیست و نابود ہو تا ہے مجدد الف ثانی ؒ معجزانہ طور پر بچ جاتے ہیں اور خلافت اسلامیہ کا اعلان کرتے ہیں امریکی صدر کا بیان آتا ہے کہ خلافت اسلامیہ امریکہ کے خلاف سازش ہے امریکہ اپنے مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا تیسر ا منظر سیاق سباق سے ذرا ہٹ کر ہے یہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار کا منظر ہے فریا دی اور درخواستی دست بستہ حاضر ہیں مہاراجہ کے سامنے درخواستوں کے دو ڈھیر ہیں مہاراجہ ایک پر دست مبارک رکھ کر فرماتے ہیں ’’منجور‘‘ دوسرے ڈھیر پر ہاتھ رکھ کر فرماتے ہیں ’’نامنجور‘‘ میں سوچتا ہوں اگر ’’ٹائم بار‘‘ کے قانون کو ہٹا دیا گیا تو ہمیں انارکلی کا مقدمہ دوبارہ کھولنا پڑے گا شیخ احمد سربندی مجدد الف ثانی ؒ کی تحریک کو طالبان اور داعش کے ساتھ جوڑنا پڑے گا نیز مہاراجہ رنجیت سنگھ کی روایت ’’منجور نامنجور‘‘ کو بھی زندہ کرنا پڑے گا سندھی قوم پرست لیڈر جی ایم سید نے ایک انٹرویو میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو خراج تحسین پیش کر تے ہوئے کہا تھا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد یہ پہلا لیڈر ہے جو حکمرانی کے اداب سے واقف ہے مگر ’’ مقطع میں آپڑی ہے سخن گستر انہ بات ‘‘ بعض لوگوں نے دور جدید کے مغل اعظم کے سامنے 1541 ؁ء والے مغل اعظم کے فرمان کو دیوار کی طرح حائل کر دیا ہے بقول مرزا غالب
ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا میرے ہوتے
گھستا ہے جبیں خاک پر دریا میرے آگے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى