تازہ ترین

چترال میں محکمہ صحت اور انتظامیہ کی طرف سے مصیبت زدہ لوگوں کو صحت کی سہولیات پہنچانے میں غفلت برتنے اور مشکلات پیدا کرنے کا نوٹس لیا جائے۔رحمت الہی

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس) ممبر ضلعی مانٹیرنگ کمیٹی ہیلتھ ضلع کونسل چترال رحمت الہی نے صوبائی حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ چترال میں محکمہ صحت اور انتظامیہ کی طرف سے مصیبت زدہ لوگوں کو صحت کی سہولیات پہنچانے میں غفلت برتنے اور مشکلات پیدا کرنے کا نوٹس لیا جائے ۔ اور ذمہ دار آفیسران کے خلاف قانونی کاروائی کرکے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں ۔ایک پریس ریلیز میں انہوں نے کہا ، کہ چترال میں سیلاب کی تباہی کے بعد انہوں نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے علاج معالجے اور سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی نایابی سے عوام کو نجات دلانے کے حوالے سے کئی بار محکمہ صحت اور ڈی ایچ او چترال سے مطالبہ کیا ۔ لیکن طفل تسلیوں کے علاوہ کچھ پیش رفت نہ ہو سکی ۔ حالانکہ سیلاب کے بعد علاقے میں ہیضہ ، قے اور ٹائیفائڈ کی بیماریاں پھیل چکی ہیں ۔اور مناسب ادویات کی عدم دستیابی کے سبب قیمتی انسانی ضائع ہو رہی ہیں ،انہوں نے کہا ۔ کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں کافی تبدیلی لانے کیلئے اقدامات اُٹھائے ۔ لیکن نااہل افراد کی انتظامی عہدوں پر تعیناتی کی وجہ سے تبدیلی کے ثمرات سے عوام محروم ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ بات انتہائی قابل افسوس ہے ۔ کہ صوبائی حکومت نے گذشتہ سال قدرتی آفات کے دوران علاج معالجے کیلئے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے ادویات کی مد میں محکمہ صحت چترال کو دیے تھے ۔ جن سے ادویات بھی خریدی گئی ہیں ۔ اور محکمہ صحت کے سٹور میں گذشتہ ایک سال سے پڑے خراب ہو رہے ہیں ۔ لیکن ان ادویات کو ہسپتالوں میں تقسیم نہیں کیا جا رہا ۔ کیونکہ ڈی ایچ او کے مطابق ان ادویات کی تقسیم کیلئے ڈپٹی کمشنر چترال کی منظوری ضروری ہے ۔ جو کہ وہ نہیں دے رہا ۔ جبکہ ڈپٹی کمشنر کا موقف یہ ہے کہ ادویات خریداری کے وقت اُن سے مشورہ لیا گیا اور نہ اُن سے اجازت لی گئی ۔ یو ں دو آفیسران کی باہمی عدم روابط وہم آہنگی کے سبب قومی خزانے سے نکلی بڑی رقم کی ادویات ضائع ہو رہی ہیں ۔ رحمت الہی نے مطالبہ کیا ۔ کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے تحقیقات کرکے غلطی کے مرتکب قرار پانے والے سرکاری آفیسراں کے خلاف کاروائی کرے ۔ اور چترال کے ہسپتالوں میں عوام کو ادویات کے حصول کی راہ میں حائل مشکلات دور کئے جائیں ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق