ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ………اے وا دی لو لاب

…………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……….


20جولائی کو کشمیر یوں پر بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا ایک دن پہلے 19جولائی کا دن الحاق پاکستان کی 69سال پرانی قرارداد کے حوالے سے الحاق تھا اس طرح کشمیر کے لئے کشمیر کے نام پر دو دن منانے گئے طلبہ کے ایک گروپ نے سوال کیا کی یہ دن کیوں منائے جاتے ہیں میں نے کہا اس لئے کہ تم کو سوال پوچھنے کی ضرورت ہو تاکہ تم نئی نسل اپنی تاریخ کا پتہ ہو سوال پوچھنے والے نے پوچھا ہم آگے بڑھ کر کشمیریوں کو آزادی دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کیوں نہیں کرتے میں نے کہا ہم ایک بڑی اور سنگین نوعیت کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں ایک طالب علم نے سوال وہ غلط فہمی کیا ہے ؟میں نے کہا غلط فہمی یہ ہے کہ دنیا مہذب ہو چکی ہے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا ہے اور عالمی تنظیم کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کرے گرے گی دوسرے طالب علم نے پوچھا آپ اس کو غلط فہمی کیوں کہتے ہو میں نے کہا حقیقت میں دنیا مہذب نہیں ہو ئی اور اقوام متحدہ مظلوم اقوام کو ان کا حق دینے کے لئے وجود میں نہیں آئی یہ ہمارا وہم ہے اور یہ ہماری غلط فہمی ہے ایک اور طالب علم نے سوال کیا ہم نے نصاب کی کتابوں میں یہی پڑھا ہے میں نے جواب دیا تمہارے نصابی کتابوں کے اندر یہ بات غلط لکھی گئی ہے نیا نصاب بنے گا تو یہ بات اس میں نہیں ہوگی ایک سادہ لوح طالب علم نے سوال کیا کونسی بات نہیں ہوگی ؟میں نے کہا یہ کہ دنیا مہذب ہو چکی ہے اور اقوام متحدہ مظلوموں کو ان کا حق دے سکے گی 19اور 20جولائی کیو تحقیق اور تجربہ پر کام کرنے والے طلبہ و طالبات کے ہر گروپ نے اپنے پروفیسر سے اس طرح کے سوالات پوچھے اوران سب کو اس طرح کے جوابات ملے دن منانے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ دن منانے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں نئی نسل کو تاریخ کا پتہ چلتا ہے دوست اور دشمن کا پتہ چلتا ہے 19اور 20جولائی کے دن ایسے ہی تھے ان دو دنو ں میں کشمیر یوں پر بھارتی فوج کی طرف سے ہونے والے مظالم سے پردہ اُٹھائی یا گیا 10جولائی کو شہید کشمیری رہنما برہان وانی کی نماز جنازہ کے موقع پر بھارتی فوج کے ہاتھوں 23کشمیریوں کی شہادت نے مسلہ کشمیر کو ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنایا ایک ہفتے کے اندر شہیداء کی تعداد 60سے ذیادہ تجاوز کر گئی علامہ اقبال کی کتا ب ضرب کلیم میں ملا زادہ ضعیم لولابی کشمیری کا بیاض ایک نظم کا عنوان ہے نظم میں 1930کے کشمیریوں کا خاکہ دیا گیا ہے شاعر وادی لولاب سے خطاب کرتا ہے اور کہتاہے
گر صاحب ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب
دین ہند ہ مومن کے لئے مو ت ہے یا خواب
اے وا دی لولاب
ہیں ساز پہ موقف نواہائے جگر سوز
دھیلے ہوں اگر تار تو بے کار ہے مضراب
اے وادی لولاب
مسلہ کشمیر ایک محاورہ بن چکا ہے جو چیز طول پکڑ جائے کہتے ہیں یہ چیز مسلہ کشمیر بن چکا ہے جو کام سر انجام کے قریب نہ آئے کہا جاتا ہے یہ بھی مسلہ کشمیر بن چکا ہے مسلہ کشمیر اتنا طول کیوں پکڑا گی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق