ارشاد اللہ شاد

( رُموز شادؔ ) ..’’اُف یہ معاشرہ‘‘

……………( ارشاد اللہ شادؔ ۔ بکرآباد چترال)………….


جس انسان کو کبھی کسی شئے کے حصول میں دشواری پیش نہ آئی ہو ، اس کا ایک خاص مزاج بن جاتاہے بلکہ مزاج میں انکار برداشت کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا دل عقل پر حکمران ہوتاہے۔ تین ضدیں مشہور ہیں۔ راج ہٹ(بادشاہ کی ضد)، تر یاہٹ ( عورت کی ضد) ، بالک ہٹ ( بچے کی ضد)۔ بادشاہ کیا ہوتاہے ؟ وہ شخص جس کے پاس قوت و اختیار استعمال کرنے کا احساس ہو، قوت خرید کا مالک ہو ۔ یہ صفات کسی بھی انسان میں آجائے تو شاہانہ مزاج بن جاتاہے ۔ کیونکہ اُ ن کو صرف اپنی خواہش کی تکمیل سے غرض ہوتی ہے وہ منفی و مثبت کے چکر میں نہیں پڑتے ۔ ان کی یہ خود غرضی معاشرے کے دوسرے لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہے اور وہ نا پسند ٹھہرتے ہیں۔
ہر بُرے انسان کا انجام کبھی موت نہیں ہوتا ۔ اگر ہر برے انسان کا انجام موت ہوتا تو صدیوں پہلے یہ دنیا برائی سے پاک ہوچکی ہوتی۔ سب برے مر چکے ہوتے۔ آسمانی جنت زمینی جنت میں تبدیل ہو چکی ہوتی۔ میرا مطلب ہے Understoodقسم کی باتوں کو تفصیل سے بیان کرنے کی کوئی منطق نہیں۔ آپ اور میں بہت خوب جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہے۔ بڑے بڑے مجرم حکمرانوں کے ساتھ بیٹھ کر لنچ ڈنر کرتے ہیں۔ ایک غریب ریڑی والے کو پولیس شبے میں گرفتار کر کے لے جاتی ہے، پھر اس کا خاندان پائی پائی جوڑ کر اس سے ملاقات کی کوشش کرتا رہتا ہے۔آئے روز ہمارے معاشرے میں انصاف و سزا کا قانون اس حال میں ہے کہ ایک مجرم جس کا جرم کھلا اور ثابت ہے اس کو سزا دینے میں عدالت اتنا وقت لگاتی ہے ۔ مالدار انسان کی لاکھوں کروڑوں روپے دے کر ضمانت ہو جاتی ہے۔
ہمارے ان روشن خیال مسلمان بھائیوں بہنوں کو سوچنا چاہیے کہ خود کو مہذّب، غیر جانبدار، اصول پسند اور با اخلاق کہلوانے والی مغربی اقوام کی اخلاقی گراوٹ اور پستی کا کیا عالم ہے؟ ہمارے یہاں ان اقوام کو شرافت ، تہذیب کا نمونہ، اور اخلاق و برتری کی علامت سمجھا جا تاہے۔ ’’اُف یہ معاشرہ‘‘ ان سے متاثر ہے جو حرکت وہ کریں ، رہن سہن جو طریقہ ان سے منسوب ہوگا ، عادات و اطوار کی جو شکل وہ اختیار کریں، اور مغرب پسندیدہ سمجھی جاتی ہے۔دنیا کی کوئی حرکت چاہے وہ کتنی معیوب ہو ، شکل و صورت کوئی بھی ہیئت چاہے وہ کتنی قبیح کیوں نہ ہو جب وہ اپنا لیتے ہیں تو ’’اُف یہ معاشرہ‘‘ترقی پسند اور روشن خیال مسلمانوں کے نزدیک قابل تقلید بن جاتی ہے ۔ کیونکہ ان کی فوقیت اور بلند حیثیت کا رعب ہماری نئی نسل پر چھایا ہوا ہے ، جو اپنی روحانی نام و نسب سے آگاہ نہیں۔
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ان اقوام کا اخلاق سے عاری پن ان کے مختلف روّیوں سے صاف واضح ہو جاتاہے بشرطیکہ ہم ان سے مرعوب ہونے کے بجائے کھلے ذہن سے ان کی تہذیب اور کردار کا نا قدانہ جائزہ لیں اور اپنے مذہب سے مظبوط رشتہ قائم کرکے اسلام کے تعلیم کردہ اعلیٰ اخلاق کا مطالعہ کریں اور انہیں اپنے معاشرے پر غالب کرکے ان کو بر تر حیثیت دلوائیں۔اگر ہم واقعی روشن خیال ہے تو ہمیں اپنے تابناک ماضی سے روشنی حاصل کر نا چاہیئے اور اپنے اسلاف پر فخر کرنا چاہیئے ورنہ ہم اندھی تقلید کی جس روش پر چل رہے ہیں وہ ایسی تاریک خیالی ہے جو ہمارے مستقبل تاریک کر سکتی ہے۔
یہ میں کوئی مبالغہ آمیز کہانی، یا داستان نہیں لکھ رہا ہوں بلکہ راقم الحروف جس معاشرے میں رہتاہے ’’اُف اُسی معاشرے‘‘ کی تصویر کشی کرتاہے ۔ راقم الحروف بیچارہ نباض کی طرح مرض کی نشاندہی اور علاج تجویز کرتا ہے مگر عمل درآمد کرنے کی قوت ( قوت نافذہ) اس کے پاس نہیں ہے ۔ کیونکہ مصنف اسمبلی، سینٹ کا رکن نہیں ہوتا۔ قانون سازی اور قانونی ترمیم اس کا کام نہیں۔ وہ تصویر بنا کر سوالیہ نشان چھوڑتا ہے ان لوگوں کیلئے جو اس تصویر کی خامیاں درست کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
( شاید کہ ترے دل میں اُتر جائے میری بات )

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق