ارشاد اللہ شاد

رُموز شادؔ ) تحریر۔(…’’جے آئی یوتھ فیسٹیول چترال‘‘

(ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)……….



جے آئی یوتھ چترال اس سال پہلی بار سر زمین چترال میں مستقبل کے چراغوں کیلئے جن فیسٹیول سپورٹس کا قیام عمل میں لایا، اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ حقیقت میں یہ فیسٹیول قوم کے معماروں کیلئے ایک مشغل راہ کی حیثیت اور تقویت رکھتے ہیں۔ یہ ان کی کاوشوں کی پہلی سیڑھی ہے جو بنیادی طور پر نوجوان نسل معاشرے میں ایک تربیت یافتہ ، منظّم اور متحد ہونے کا درس دیتی ہے۔ نوجوان نسل ان فیسٹیول کے ایّام میں جوق در جوق شامل ہوکر اپنے روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔اور یوں نوجوان نسل معاشرے کی کئی برائیوں سے بچ کر میدان میں آکر ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی قوت اعتمادی، قوت ارادی، قوت ہمتی کا جوہر دکھلا کر تماشائیوں کے تالیوں کا آسانی کے ساتھ ہضم کرتے ہیں۔ جے آئی یوتھ اس سلسلے میں پہلی نمبر پر ہے کہ وہ اپنے نوجوان نسل کا بھر پور خیال رکھتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ نوجوان نسل معاشرے کی لت پت بے حیائیوں ، فحاشیوں کا چھوڑ کر میدان میں جمع ہوکر اپنے آپ کو ایک پُر عزم پاکستانی اور متحد و منظم ہونے کا درس دیکر پورے معاشرے کو یہ سبق دے کہ ہم سوئے ہوئے قوم نہیں ہیں۔ یہ ایک بہترین نظام ہے جو کہ جے آئی یوتھ اپنے ہمہ تن مصروفیات سے وقت نکال کر اپنے نوجوان نسل کی تربیت کیلئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک جہد مسلسل ہے جو جے آئی یوتھ نوجوان نسلوں کیلئے سپورٹس فیسٹیول کے علاوہ تربیتی و اسلامی فنکشنز کا بھی انعقاد کرنے میں پیش پیش ہے۔ جس میں ہر فیلڈ کے نوجوان آسانی کے ساتھ اپنے (innerself)یعنی ما فی الضمیر کا اظہار کرتے ہیں، اور ان کے اندر ایک اعتماد و حوصلہ پیدا ہوتاہے اور وہ آگے جا کر مستقبل کیلئے مشغل راہ بن جاتے ہیں۔
ایک نام نہاد قوم کی مستقبل ان نوجوان نسل کی نگرانی میں ہیں۔ اگر ہم ان کی تربیت میں اولّیت کا لحاظ رکھیں گے تو عین ممکن ہے کہ یہی نسل مستقبل میں کارآمد ہوں گے اور ایک متحد قوم ہونے کی دیا جلائیں گے۔ معاشرے میں بے حیائی کی جو باگ ڈور چل رہا ہے وہ ہر ذی شعور انسان کو مطلق علم ہے کہ ہماری نوجوان نسل کی رجحان کس سمت جا رہی ہے ۔ معاشرے میں چوری ڈکیتی، عزت پامالی،جھوٹ، رشوت، سود، اور آئے روز کرپشن کی غلامی جو لوگوں کو اندھا کیا ہواہے۔یہ چیزیں معاشرے میں مظبوط جڑ پکڑ چکی ہے۔آج ہمارے معاشرے میں ہر تیسرا فرد ذہنی غلامی کا شکار ہے ، اور اس پھندے سے نکلنا کافی حد تک مشکل ہوگیاہے۔
ان نا گفتہ بہ حالات میں بھی بعض چراغ ان نسلوں کو روشنی کی طرف ہاتھ پکڑ کر لے جانے میں پیش پیش ہے۔ یہ میں بغیر کسی مبالغے سے کہہ سکتاہوں کہ ہمیں جے آئی یوتھ کے زریں کارناموں اور شجر آبیاری کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ان کا احسان ہے ہم نوجوانوں پر کہ وہ آئے روز مختلف قسم کے دلچسپ کھیل، تربیتی پروگرامز، اسلامک کوئز کراکے ہمیں آپس میں مل بیٹھنے کا ، آپس میں اخّوت و ہمدردی کا مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اور ہمارے اندر کئی برسوں کی سوئے ہوئے امیدوں کو جوت جگاتے ہیں۔ اچھے معاشرے کی بنیادی اکائی نوجوان ہے۔ اگر نوجوان کی صحیح تربیت ہوگی ، اور ان کو برے ماحول سے نکال کر اچھائی کے راستے میں لائیں تو میرے ناقص خیال میں یہ بھی امر بالمعروف کے مصداق ہونگے۔
صحت مند معاشرے کے نوجوان بھی صحت مند ہوتے ہیں، اور بیمار معاشرے کے نوجوان بھی بیمار ہوتے ہیں۔ انسان کی بیماری صرف اس کی اپنی ذات یا خاندان تک محدود ہوتی ہے ، جبکہ معاشرے کی بیماری سے ہزاروں لوگ متاثر ہوتے ہیں ۔ اس لئے جب معاشرے کے افراد نوجوانوں کو صحت کے مواقع فراہم کرتے رہیں گے تو انشاء اللہ یہ نوجوان صحت مند ہوں گے اور برے ماحول سے توبہ کریں گے۔
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
اور آخر میں یوتھ کو میرا پیغام ہے کہ اپنے آپ سے مخلص ہوجائے کیونکہ جب آپ اپنے آپ سے مخلص ہوتے ہیں تو آپ کو تمام Responsibilitiesجو we feelکرتے ہیں ، جن کی اس وقت ضرورت ہے پورا کرنے کی۔ اور جب ہم انہیں پورا کریں گے تو یقیناًجس تبدیلی کا ہم انتظار کر رہے ہیں یا جسے ہم باہر ڈھونڈتے ہیں ، وہ سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر نظر آئے گی اور پھر باہر نظر آئے گی۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جسے آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق