ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد ………قصوری بے قصور

……….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ………..



نامور سیاستدان ،قانون دان اور سپریم کورٹ میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس دن کشمیر آزاد ہوگا اُس دن مشرف بھی عدالت میں پیش ہونگے یہ ایسا بیان ہے جس کی تاویلیں ہوسکتی ہیں جواز نہیں ہوسکتا ایک رائے یہ ہے کہ قصوری نے کشمیر کی آزادی کو نا ممکن قرار دیا دوسری توجیہہ یہ ہے کہ انہوں نے بالفاظ دیگر عدالت کو بتا یا کہ جنرل مشرف کبھی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہونگے سب سے بڑی تو جیہہ یہ ہے کہ آدمی کو بڑھا پے میں ایک بیماری لاحق ہوتی ہے جس کو اردو میں شیخ فانی اور انگریزی میں سنائل ڈیمینشیا (Senile Dimentia) کہاجاتاہے اس بیماری میں بوڑھا آدمی جو کچھ کہدے اس کو معاف کیا جاتاہے لہذا قصوری بے قصور ہے ہمارے قومی ہیر و ڈاکٹر اے کیوخان کو بھی اس عمر میں ایسی ہی بیماری لگی ہے انہوں نے ڈھائی ہزار الفاظ کا انگر یز ی مضمون اس بات پر لکھا ہے کہ ملک ریاض اور عبدالستار ایدھی میں سے کون اچھا پاکستانی ہے آخر میں جاکر انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ملک ریاض کا پلہ بھاری ہے بڑھاپے میںآدمی اس طرح کی باتیں کرتا ہے اور لکھتا ہے اب بر سبیل تذکر ہ اگر ایدھی کا اس طرح کے لوگوں سے موازنہ و مقابلہ کیا گیا توکل ایک شیخ فانی یہ بھی کہے گا کہ ڈبل شاہ کا مقام ایدھی سے بلند ہے ، عزیر بلوچ ،پھولن دیوی ، سیٹھ داو د ابراہیم اور خانانی اینڈ کا لیہ کے مالک کا مقام ایدھی سے بلند ہے بوڑھا پے کی ایسی منزل میںآدمی بہک جاتاہے وہ کچھ بھی کہے اس کو معاف کیا جاتاہے اس کا درجہ 2 سا ل کے معصول بچے کے برابر ہوتا ہے اس لئے عدالت نے ایسے بیان پر ڈاکٹر با بر اعوان کو سزادی تھی احمد رضا قصوری کو کچھ نہیں کہا گیا اخبار بین حلقوں کو پتہ ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے موجودہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر جہاز کے اغوا کا مقدمہ دائر کیا تھا مقدمے میں ملزم کو سزائے موت بھی ہوسکتی تھی سعودی عرب کی مداخلت پر مقدمہ واپس لے لیا گیا اُس کے جواب میں موجودہ حکومت نے باری آنے پر سابق صدر کے خلاف آئین شکنی اور آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی پر سنگین غداری کا مقدمہ دائر کیا ہے جس میں ملزم کو سزائے موت بھی ہوسکتی ہے مقدمے کی کاروائی کے دوران سابق صدر بھی موجودہ وزیراعظم کی طرح بیمار ہوگئے ان کی بیماری کا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا تھا اس لئے عدالت نے ان کو علاج کے لئے بیرون ملک سفر کی اجازت دی اب جنرل صاحب ملک سے باہر ہیں عدالت نے گذشتہ ر وز اُ ن کے وکیل سے پوچھا کہ ملزم پرویز مشرف کب عدالت کے سامنے پیش ہونگے اس پر اُن کے فاضل وکیل نے فصاحت اور بلا غت کے پھول بکھیرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ جس دن کشمیر آزاد ہوگا اس دن پرویز مشرف بھی عدالت کے سامنے پیش ہوگا ‘‘ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سینئر وکیل نے کہا کہ یہ کام میاں محمد نواز شریف کی حکومت میں نہیں ہوگا ، دوسر ے وکیل نے گرہ لگائی موجودہ چیف جسٹس کے دور میںیہ ناممکن ہے تیسرے نے لقمہ دیا ، خصور والا ! موجودہ آرمی چیف کے ہوتے ہوئے وہ عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوگا جنرل کیانی کو دعائیں دو جو ملزم کو حوالہ کر نے میں حد درجہ دلچسپی لیتا تھا ظاہر ہے کشمیر کا مسئلہ دو تین سالوں میں حل ہو نے والا نہیں ہے اگر عدالت میں اس طرح کی مو شگا فیاں ہوتی رہیں تو بات دور تک چلی جائیگی
دل کے افسانے نگاہوں کی زبان تک پہنچے
بات چل نکلی ہے دیکھئے کہاں تک پہنچے
یہ اس زمانے کی بات ہے جب آتش جوان تھا قصوری نے عدلیہ کے مقابلے میں جنرل مشرف کا ساتھ دیا تو ایک وکیل نے انکے چہرے پر سیاہی پھینک دی اب قصوری بوڑھا ہو چکا ہے اس لئے وکیلوں نے بھی اس کو معاف کر دیاہوگا کل کلاں کسی بڑے مقد مے میں کسی مفرور ملزم کی پیشی کا مسئلہ زیر بحث آئیگا تو ایک سینئر وکیل یہ دلیل لائے گا کہ جس دن بھوٹان کا خلائی جہاز مریخ پر اتر ئے گاُ س دن ملزم عدالت میں پیش ہوگا اب عدالت اس پر کیا رائے دے سکتی ہے قانون دان نے ملزم کی پیشی کے لئے مختصر مدت کی مہلت مانگی ہے جو اُس کا حق ہے اس طرح انٹر پول کے ذریعے کسی مفرور ملزم کی وطن واپسی کے بارے میں عدالت استفسار کرے گی تو سینئر قانون دان کہے گا ’’مائی لارڈ !جس روز فلسطین آزاد ہوگا اور بیت المقدس آزاد فلسطین کا دارلخلافہ بنے گا اُس روز انٹر پول بھی ملزم کو واپس وطن لے آئے گی ظاہر ہے عدالت اس پر کیا ریمارکس دے سکتی ہے یہ مسلمانوں کا دیرینہ خواب ہے کسی کی چڑیا نے اب تک یہ نہیں کہا کہ فلسطین آزاد نہیں ہوگا عدالت سے مہلت مانگنا وکیل کا حق ہے مگر غیر معینہ مدت کے لئے مہلت مانگنے کا یہ اسلوب نیا ہے قرآن پاک میں آیا ہے کہ مشرکین کبھی جنت میں نہیں جا سکینگے اس مفہوم کے لئے قرآن کا اسلوب نیا اور اچھو تا ہے آیت کریمہ کا ترجمہ ہے کہ ’’ یہ لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکینگے جب تک اونٹ کو سوئی کے ناکے سے نہ گذارا جائے ‘‘ ظاہر ہے اونٹ کبھی سوئی کے ناکے سے نہیں گذرے گا اس لئے مشرک کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا ہم احمد رضا قصوری پر یہ تہمت نہیں لگا سکتے کہ انہوں نے یہ قانونی ترکیب قرآن کے اسلوب سے مستعا ر لی ہے تاہم اُن کا اسلوب دلچسپ ہے اس میں تخلیقی عنصر بھی نمایاں ہے اب ہمارے قانو ن دانون کو نئی قانو نی اصطلاحات بھی وضع کر نی ہونگی ایسی تشبیہات اور مثالیں ادب، شاعری ، اور ناؤل میں مستعمل ہیں قانون کی کتابوں میں ان کا کوئی ذکر نہیں ہے کشمیرکی کل جماعتی حریت کانفرنس کو اس کا نوٹس لینا چاہیے ، پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے آزاد کشمیر کی کابینہ کو بھی اس بات کا نوٹس ضرور لینا چاہیے کہ وکیل اگر بوڑھا ہے بیما ر ہے ذہنی لحاظ سے معذور ہے تو اس کو عدالت میں پیش ہونے کی اجازت کیوں ملتی ہے سب باتیں اپنی جگہ اصل بات یہ ہے کہ قصوروار ہم ہیں قصوری بے قصور ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق