ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صد ا بصحرا …….محکمہ صحت کا نادر شاہی فرمان

…………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ………….


محکمہ صحت کا نادر شاہی فرمان خیبر پختونخوانے ایک نادرشاہی فرماں جاری کیا ہے جس کے تحت تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اورڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں سے مریضوں کو بلا ضرورت صوبائی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں کو ریفر کرنے سے منع کیا گیا ہے حکمنامے کی رو سے چونکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال ،خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات اباد میڈیکل کمپلیکس پر مریضوں کا بہت رش ہے اس لئے ٹی ایچ کیو اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوراٹر ہسپتالوں سے مریضوں کو بلا ضرروت ریفر نہ کیا جائے نادر شاہ نے محمد شاہ رنگیلا کو شکست دیکر ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد بہت ظلم کیا تھا اس حوالے سے کئی ضرب الامثال اور محاورے مشہور ہوگئے ایک ضرب المثل ہے’’شامت اعمال ، صورت نادر گرفت ‘‘ اس طرح ناجائز اور ناروا حکم کسی کی طرف سے صادر ہو اس کو نادر شاہی فرمان کہا جاتا ہے محکمہ صحت خیبر پختونخوا کا تازہ حکمنامہ اس ذیل میں آتا ہے چترال ، کوہستان ، بٹگرام ، شانگلہ ، دیر، کرک اور لکی مروت کے اضلاع صوبائی دار لحکومت سے دور واقع ہیں چترال کا فاصلہ 368 کلو میٹر اور کوہستان کا فاصلہ 540 کلو میٹر ہے جدید دور میں علاج سے پہلے مرض کی تشخیص کی جاتی ہے آپ کے ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ایکسرے اور لیبارٹری کی سہولت نہیں ہے لا محالہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کو ریفر کیا جا تا ہے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں آرتھو کارڈیالوجی اور نفرالوجی کا کوئی شعبہ نہیں ہے لیبارٹری کلچر جیسے معمولی ٹیسٹوں کے لئے آلات اور کیمیکل دستیاب نہیں ہیں ایکسرے کے لئے بجلی نہیں ہے ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کی کوئی مشینری ہی نہیں لگائی گئی ملٹی پل فریکچر کے لئے سرجری کی سہولت نہیں ہے DHQH چترال امراض چشم کا شعبہ گذشتہ ایک سال سے بند کر دیا گیا ہے دوسرے اضلا ع میں بھی کم وبیش اسی طرح کی صورتحال ہے کوئی ہسپتال 50 فیصد کام کرتا ہے کسی ہسپتال میں 25 فیصد سے زیادہ سہولیات نہیں دی گئیں محکمہ صحت کے کسی ذمہ دار افیسر نے گذشتہ 3 سالوں میں ان ہسپتالوں کا معائینہ نہیں کیا حکومت کے پاس عوامی شکایات سننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے عوامی مشکلات سے باخبر ہونے کی کوئی کھڑکی نہیں ہے حکومت اور عوام کے درمیان جو خلیج 3 سال پہلے پیدا ہوئی وہ خلیج اب وسیع ہوتی جارہی ہے ڈویژنل ہید کوارٹر ار صوبائی دارلحکومت میں واقع بڑے ہسپتالوں کو ’’ ٹر شیری کیر سنٹر ‘‘کہا جاتا ہے جہاں علاج کی تمام سہولیات موجود ہونی چا ہئیں تاہم گذشتہ 3 سالوں کی بد انتظامی نے ٹر شیری کیر والے بڑے ہسپتالوں کا بھی ’’ستیاناس ‘‘ کردیا ہے اس لئے مریضوں کو عموماً پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھیجا جاتاہے سرکاری ملازمین مجبوراً سرکاری شعبے کے 3 بڑے ہسپتالوں کا رُخ کرتے تھے اب صوبائی حکومت کے تازہ ترین حکمنامے کی روشنی میں سرکاری ملازمین بھی پرائیویٹ ہسپتالوں کا رُخ کر ینگے جدید دور میں بہتر نظم نسق کے لئے بنیادی معلومات یعنی بیس لائن ڈیٹا بہت ضروری خیال کیا جاتاہے اس کے لئے اچھے محکموں میں مینجمنٹ انفارمشین سسٹم متعارف کرایا گیاہے پاک فوج کے اندر بنیادی معلومات کی فراہمی کا موثر سسٹم موجود ہے 2013 ؁ء سے پہلے موثر سسٹم کے بغیر بھی وزراء اور وزیر اعلیٰ کے پاس محکمے کی رپورٹیں تین ذرائع سے جاتی تھیں پہلا ذریعہ دفتری خط وکتا بت کا نظام تھا دوسرا ذریعہ ایم پی اے اور ایم این اے کا دفتر تھا اور تیسرا ذریعہ میڈیا ، اخبارات وغیرہ کا طریقہ ہے جس میں عوامی مشکلات کی عکاسی ہوتی ہے اخبارات کے تراشے اوپر بھیجے جاتے ہیں اُن پر ایکشن لیا جاتا ہے پنجاب کی آبادی 12 کروڑ سے زیادہ ہے اس کے باوجود پنجاب کی کابینہ کے وزراء عوامی مشکلات اور شکایات سے ہر وقت باخبر رہتے ہیں اس لئے وہاں انتظامی خلاء نہیں پایا جاتا اوٹ پٹانگ قسم کے نادر شاہی فرمان جاری نہیں ہوتے خیبر پختونخوا میں تینوں ذرائع سے کام نہیں لیا جاتا نہ محکمے سے رپورٹ مانگی جاتی ہے نہ ایم پی اے اور ایم این اے صاحبان کے ساتھ کابینہ کے وزراء کا رابطہ ہوتا ہے اور نہ اخبارات کے تراشے اوپر بھیجے جاتے ہیں معلومات کے تینوں ذرائع سے کام نہیں لیاجاتا اس لئے صحت کے محکمے کا بڑا حاکم یا افیسر ٹی ایچ کیو اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی حالت زار سے بالکل بے خبر ہے 22 جولائی 2016 ؁ء کے دن واشنگٹن پوسٹ کا بیور و چیف ٹائم کریگ چترال میں تھا ان کو قدم قدم پر تعجب ہوا سب سے زیادہ تعجب دوباتوں پر ہوا اُس نے بازار میں پہاڑ کا تازہ برف دھڑا دھڑفروخت ہوتے دیکھا اُ س کو بتایا گیا کہ یہاں بجلی 24 گھنٹوں میں 2 گھنٹے آتی ہے وہ بھی 40 وولٹ سے کم ہوتی ہے اس لئے روزانہ پہاڑوں سے 100 گاڑیوں میں تازہ بر ف لاکر بازاروں میں فروخت کیا جاتا ہے اس کو بتایا گیا کہ شہر اور ہسپتال کی غلاظت کو دریائے چترال میں ڈالا جاتا ہے اُن کو یہ بھی بتا یا گیا کہ دو سال پہلے چترال کے سرکاری ہسپتال کو غلاظتوں سے پاک کرنے کے لئے ایک فلاحی ادارے نے ایک کروڑ روپے کی مشین انسی نیر یٹر میشنری کی تنصیب (انسٹالیشن) پر 2 لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے صوبائی حکومت نے دوسال گذرنے کے باوجود 2 لاکھ روپے نہیں دیے اب فلاحی ادارہ اپنی مشینری واپس لے جارہا ہے یہ ماجرا سن کر ٹائم کریگ ششدر رہ گیا اس کو یقین ہوا کہ ’’تبدیلی آگئی ہے‘‘
مجھے حکومت سے کسی بہتر فیصلے کی توقع نہیں تا ہم عوامی مفاد میں یہ بات پارٹی کیڈر اعلیٰ حکام اور کابینہ کے گوش گذار کرنی ہے کہ آپ لوگ عوام کو ٹی ایچ کیو اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات نہیں دے سکتے مریضوں سے ریفرل (Referal) کی قانونی سہولت تو واپس نہ لیں یہ وہ سہولت ہے جو انگریزوں کے زمانے سے چلی آرہی ہے یہ سہولت کسی بھی حکومت نے ختم نہیں کی مریض کو ریفر کرکے بڑے ہسپتال جانے کا مشورہ دینا مریض کا بھی حق ہے معالج اور ڈاکٹر کابھی حق ہے اس حق سے آپ نہ مریض کو محروم کر سکتے ہیں نہ ڈاکٹر کو محروم کر سکتے ہیں اس نو عیت کے بے سر وپا حکمناموں سے حکومت کی مزید بدنامی ہوتی ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق