تازہ ترین

دروش میں بجلی کا شدید بحران؛ عوام کی طرف سے احتجاجی تحریک شروع/شٹرڈاؤن ہڑتال کی کا ل دی گئی

دروش(نمائندہ چترال ایکسپریس) شیشی بجلی گھر سے بجلی سپلائی منقطع ہونے اور دروش و ملحقہ علاقوں میں نیشنل گرڈ سے بجلی کی فراہمی ناگفتہ بہہ ہو نے پر بالآخر دروش کے عوام نے احتجاجی تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دروش میں بجلی فراہمی کی ناقص صورتحال کی بناء پر عوامی حلقوں نے احتجاجی تحریک شروع کر دی ہے جوکہ گذشتہ چار دنوں سے جاری ہے۔ ضلعی ناظم حاجی مغفرت شاہ ، ایم پی اے سلیم خان نے بھی احتجاجی مظاہرین کیساتھ یکجہتی کیلئے مظاہرے میں شرکت کی جبکہ ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے بھی احتجاجی تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے محکمہ شیڈو اور واپڈا کے کردار کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہرسال کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود شیشی بجلی گھر کی حالت بہتر نہیں ہو رہی جوکہ واضح کرتا ہے کہ اس میں بھاری کرپشن ہو رہا ہے مگر پوچھنے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے بجلی گھر میں تعینات انجینئرپر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انکی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے بجلی گھر کی حالت ابتر ہو چکی ہے۔ مقررین نے نیشنل گرڈ سے ترسیل ہونے والے بجلی کے ناروا لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج پر واپڈا کی شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا ہے شدید عوامی رد عمل دکھا یا جائے گا اور مکمل شٹر ڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال کی جائیگی۔ مقررین نے انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے موجودہ مسئلے کا کلیدی ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے حکومت کو 27جولائی تک ٹائم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو شدید عوامی احتجاج شروع کی جائے گی اور حالات کی تمام تر ذمہ داری محکمہ شیڈو اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ احتجاجی مظاہرے اور دھرنے میں دروش سے تعلق رکھنے والے ممبران ضلع کونسل، تحصیل کونسل اور ویلج کونسل کے ناظمین ، نائب ناظمین اور کونسلروں کی بڑی تعداد کے علاوہ تجار یونین و دیگر سماجی حلقے شامل ہیں۔
درایں اثناء حکومت کو دیا گیا الٹی میٹم پورا ہونے کے بعد احتجاجی مظاہرین نے 27جولائی کو دروش میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دی ہے اور احتجاجی مظاہر ہ کیا جائیگا۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے شیشی پاؤر ہاؤس کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے اور ہر سال مرمت کے نام پر کروڑوں روپے غبن کئے جاتے ہیں جبکہ پوچھنے والا کوئی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں مکمل انکوائری اور ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق