ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیدا د …..عمران خان بمقابلہ نواز

………..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ
پاکستان تحریک انصاف پھر دھرنا دے رہی ہے 7 اگست کو میدان لگے گا 100 دن یا 200دن لگینگے عمران خان کا چیلنج ہے کہ جب تک نواز شریف وزیراعظم ہیں ملک ترقی نہیں کر سکتا میاں نواز شریف نے اب کی بار عمران خان کے ساتھ اتفاق کر لیا ہے ملک کی ترقی کے لئے وہ وزیر اعظم نہیں رہینگے قوم کے وسیع تر مفاد میں صدر مملکت بن جائینگے روس کے ولادیمیر پیوٹن اور ترکی رجب طیب اردگان نے بھی ایسا ہی کیا اور یہ عالمی سیاست میں نئی بات نہیں پاکستان کے موجودہ آئین میں کوئی سیاستدان 3 بار سے زیادہ وزیر اعظم نہیں بن سکتا میاں نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے لئے یا تو آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی یا صدر مملکت کا عہد ہ سنبھا لنا پڑے گا آئین میں دو بار صدر بننے کی گنجائش موجود ہے اس طرح عمران کا مطالبہ بھی پورا ہوگا نواز شریف وزیر اعظم کے عہد ے سے مستعفی ہوجائینگے مسلم لیگ (ن) کی ضد بھی پوری ہوجائیگی میاں صاحب وزیراعظم ہاؤس سے ایوان صدر منتقل ہونگے بعض تجز یہ نگار کہتے ہیں کہ وزیراعظم پانا مہ لیکس اور دیگر مقدمات سے استثنی حاصل کرنے کے لئے صدر مملکت کا عہد ہ سنبھالنے پر غور کررہے ہیں اس لئے مسلم لیگ (ن)کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس گذشتہ 3 سالوں میں پہلی بار بلا یا جارہا ہے تاکہ اس فیصلے پر پارٹی کو اعتماد میں لیا جا ئے پارٹی اس فیصلے کی حمایت کر ے گی صدر بننے کے لئے اسمبلیوں میں نواز شریف کو مطلو بہ تعداد میں ممبروں کی حمایت حاصل ہو گی اور یوں وہ آسانی کے ساتھ ایک کشتی سے دوسری کشتی میں پاؤں رکھ سکینگے دوسری طرف عمران خان مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں خیبر پختونخوا میں انکو پارٹی کی طرف بغاؤت کا سامنے ہے پنجاب میں چو ہد ری سرور ، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی باہمی رسہ کشی نے پارٹی کو ناقبل تلافی نقصان پہنچا یا ہے سندھ اور بلوچستان میں پارٹی کا وجود ہی نہیں ہے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پارٹی بُری طرح ناکامی سے دوچار ہوگئی ہر آنے والا دن اچھی خبر لانے کی جگہ بری خبر لاتا ہے ہمارے قومی ہیروز جتنے بھی ہیں وہ سیاسست میں زیرو ہوجاتے ہیں ائیر مارشل اصغر خان کی مثال ہمارے سامنے ہے ڈکٹر اے کیو خان نے پارٹی بنائی مگر پذیرائی نہ ملی جہانگیر خان اور جان شیر خان نے کو چہ سیاست کا رُخ نہیں کیا عبدالستار ایدھی نے بوتل کا انتخابی نشان لیکر آزاد الیکشن لڑا مگر بُری طرح شکست سے دو چار ہوئے قدیم یونان کی تاریخ لڑائیوں کے لئے مشہور ہے ہر لڑائی کے بعد جب فاتح اپنی فتح کا نقارہ بجاتے ہوئے آتا تھا تو پورا شہر استقبال کرتا ایسے مواقع پر ایک شخص ہیر و کے ساتھ چلتا اور قدم قدم پر ہیرو سے کہتا ’’ تم فانی انسا ن ہو ‘‘ اس طرح ہیر و کو یاد دلا یا جاتاتھا کہ استقبال کو دیکھ تمہارا دفاغ آسمان کو چھو نہ لے عمران خان کے ساتھ ایسا کوئی نہیں تھا جو انہیں یاد دلا تا کہ تم فانی انسا ن ہو ، شاید اصغر خان اور ڈاکٹر اے کیو خان کے ساتھ بھی ایسا کوئی دوست نہیں تھا عمران بمقابلہ نواز کے مقدمے کو اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں عمران خان کو ناقابل تلافی نقصان ہوا میاں نواز شریف کو بے پناہ فوائد حاصل ہوئے سب سے بڑا نقصان عمران خا ن کا یہ ہوا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت پر وہ توجہ نہ دے سکے دوسر بڑا نقصان یہ ہوا کہ پنجاب ان کے ہاتھ سے نکل گیا 12 کروڑ کی آبادی کے صوبے میں عمران خان کی مسلسل مخالفت نے نواز حکومت کی مقبولیت میں اضافہ کیااور نواز لیگ کو قدم جمانے کا موقع ملا تیسرا نقصان یہ ہوا کہ دھر نوں کے دوران عمران خان کی کمزوریاں عوام کے سامنے آگئیں جو اپہلے ایسی عوامی کی نظروں سے پوشیدہ تھیں اور کمزوریوں کا منظر عام پر آنا کسی بھی سیات دان کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے اب یہ بات طے ہے کہ عمران خان نے میاں نواز شریف کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے اپنی پارٹی اور ایک صوبے میں حکومت کو کمزور کر دیا ہے پارٹی اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے تیسری قوت ہونے کا بھر م اب نہیں رہا اب دوسری قوت پی پی پی ہوگی ، تیسری قوت مذہبی جماعتوں کی ہوگی پاکستان تحریک انصاف اگلے دوسالوں میں تحریک ا ستقلال کی جگہ لے لے گی دوسری طرف صدر مملکت بننے کے بعد میاں محمد نواز شریف بھی ایک بڑے امتحان سے گذر نیگے وزارت عظمی ٰ کے لئے وہ کسی کو نا مز د کرتے ہیں؟ اگر انہوں نے مریم نواز یا کپٹن صفدر کو نا مزد کیا تو یہ بات بہت بڑی غلطی ہوگی شریف خاندان کے اندر میاں شہباز شریف نے وزارت عظمی ٰکا منصب سنبھا لا تو مسلم لیگ (ن) بحران سے نکل سکتی ہے تاہم ایک کنبے کی پارٹی ہونے کا داگ نہیں دُھلے گا ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى