شمس الحق قمر

چپاڑیو میتار( مرحوم )عبدالستار خان ایک مرنجان مرنج شخصیت

……….شمس الحق قمرؔ گلگت……….


راجہ عبد الستار خان کا تعلق چترال کے مشہور حکمران خاندان خوش وختیے سے تھا ۱۹۲۷ ؁ ء میں اپنے ننھیال کوشٹ نروڑی میں آنکھ کھولی عرف عام میں چپاڑیو میتارکہلاتے تھے۔ پوری وادی میں طنزو مزاح اور مہمان نوازی کے حوالے سے چپاڑیو میتار ایک بہت بڑا نام ہے ۔ چپاڑیو میتار کو جدید زمانے کے شائستہ اوربصیرت افروز مزاح کے فنکاروں سے اگر نسبت دی جائے تو موصوف فی البدیہہ مزاح اور حاضر جوابی میں پاکستان کے مشہور سلیبریٹی مرحوم معین اختر اور فلمی دنیا کے مشہور مزاحیہ کردار قدیر خان کے پائے کے فنکار تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ عبد الستار جب ہمارے گھر تشریف لاتے تھے تو پوری رات قہقہوں میں گزر جاتی تھی ۔ آپ کی شائستہ اور جاندار طنزو مزاح سے مستفیض ہونے کے لئے اڑوس پڑوس سے سارے لوگ جمع ہوتے اور راجہ عبدالستار المعروف چپاڑیو میتار ( مرحوم ) شام کا کھانہ کھانے کے بعد ایک خاص انداز سے طویل دعائے خیر کرتے جوکہ علاقائی زبان کھوار میں ہوتی ۔آپ کی زبان سے نکلنے والی دعا میں فیو ضو و برکات کے وہ تمام کلما ت، جن کا ممبع اُن کا دل ہوتا تھا، باران رحمت بن کر برستے اوریوں مجلس میں شریک لوگوں پر ایک روحانی کیفیت طاری ہو جایا کرتی تھی ۔ یہ دعا بہت ہی طویل ہوا کرتی جس کے اندر دنیا میں موجود ہر ذی روح کی بہبود اور شاندار زندگی کے لئے الگ دعا شامل ہوتی ۔ اس دعا کے بعد چائے کا دور چلتا اور چائے کے دوران سنجیدہ باتیں شروع ہوتیں اسی سنجیدہ گی کے دوران میتار یکایک دوسرے کرداروں کا روپ دھارتے اور محفل زعفراں زار ہوجایا کرتی تھی ۔ عبد الستار اگرچہ چترال کے حکمران خاندان کے چشم چراغ تھے تاہم خودکسی حکومت کا حصہ نہیں رہے۔جہاں تک میتار کہلائے جانے کا تعلق ہے تواسکی توجیہ آپ کے بڑے صاحب زادہ راجہ جنگ بہادر صاحب یہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں راجہ عبد الستار انتہائی بے باک اور نہ ڈر آدمی تھے اپنے یار دوستوں میں اپنی دور اندیشی اور فیصلہ سازی کی وجہ سے میتار نام سے مشہور ہوئے اور آہستہ آہستہ یہ نام زبان زدِ خاص و عام ہوگیا ۔ آپ کی والدہ کے دست شفقت کا سایہ آپ کے سر سے بہت ہی بچپن میں اٹھ گیا تھا اس کے بعد یہی کوئی سات سات کی عمر میں والد صاحب راجہ خانی بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ یتیم بچے کی پرورش کا بار گراں ننھیال والوں نے اٹھایا اللہ تعالیٰ نے ذہن رسا عطا فریا تھا اور دوسری طرف ننھیال کا تعلق چترال کے ایک اور شاہی خاندان محمد بیگے سے تھا ۔ نروڑی کوشت کی مشہور شخصیت خان آ پ کے نانا تھے ۔ لہذا بچے کی خوب پرداخت ہوئی ۔ ابتدائی فارسی تعلیم کے لئے اُن کے اپنے خالو مرزا عاجز ( مرزا عاجز یا مرزا عزیز دونوں ناموں سے یہ شخصیت جانے جاتے تھے ان کا تعلق موڑ کہو سے تھا پرواک میں رہتا تھا ، اپنے زمانے کے فارسی کے فاضل تھے ) سے اور پھرمولانا ابراہیم شاہ المعروف کٹورے مولائی سے ابتدائی اُردو تعلیم حاصل کی اور ننھیال کی طرف سے فن شہسواری، شمشیر زنی ، تیراکی ، رسہ کشی، تیر اندازی اور ہجوم کے سامنے بولنے کا فن بھی سکھایا گیا۔ علاقے میں تعلمی اداروں کے عدم وجود کی وجہ سے اپنی تعلیم تو برقرار نہ رکھ سکے لیکن باقی تمام فنون پر غالب آئے۔
تقریباً سولہ سال کی عمر میں چترال سکاؤٹ میں بھرتی ہوئے ( اُس زمانے میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے لڑکوں کو بھی سکاؤٹ میں لیا جاتا تھا اُن کم عمر سکاوٹس کا سرکاری نام بوائے سکاؤٹس تھا ) عبد الستار مرحوم چونکہ مرزا عزیز اور مولانا ابراہیم شاہ ( کٹورے مولائی )سے لکھنے پڑھنے کا بنیادی قاعدہ سیکھ چکے تھے یا یوں کہیے کہ اپنے زمانے کے گنے چنے پڑھے لکھوں میں شمار ہوتے تھے ۔ چترال سکاؤٹ میں پڑھے لکھے لوگوں کو سگنل میں لگا دیا جاتا تھا تو راجہ عبدالستار (مرحوم ) کو بھی سگنل میں جگہ دی گئی ۔اُسی دوران ( ۱۹۴۸ جنگ آزادی گلگت) موجودہ گلگت بلتستان سے ڈوگرہ راج کو ملک سے پاک کرنے کے لئے چترال سے بھی پاکستانی فوج کی کمک بلائی گئی اُسی کمک میں سگنل کی زمہ داری سنبھالتے ہوئے راجہ عبد الستار بھی اسکردو پہنچ گئے ۔ اُس وقت آپ کے دوستوں میں افسرخان ( مرحوم ) میراگرام اور مشہور ستار نواز علی ظہور ( مرحوم چپاڑی) بھی اس عسکری قافلے میں شامل تھے ۔ اُس زمانے میں چترال سے اسکردو جانا آج کل کے چاند کے خلائی سفر سے بھی مشکل تھا ۔ تمام عسکری اور جنگی سازو سامان اپنی پیٹھ پر اُٹھا کر پا پیادہ منزل تک پہنچنا اپنی جگہے پر کسی بڑی جنگ سے کم نہ تھا ۔ یہ لوگ یہاں سے ایک خاص جذبے اور اہتمام کے ساتھ گئے تھے ۔ گھر والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے الوداع کہہ کے گئے تھے۔ اُن میں سے کسی نے بھی اپنے اہل عیال سے اپنی زندگی اور واپسی کی دعا مانگنے کو کبھی بھی ترجیح نہ دی بلکہ اُ ن تمام کے الوداعی کلمات اس امر کے متقاضی تھے کہ اُن کی آل اولاد ،رشتہ دار ، دوست احباب اور پوری قوم اُن کے لئے دعا کرے کہ وہ دشمن کو شکست فاش دیکرخود جام شہادت نوش کریں ۔ عبد الستار ( معفور) میجر نیک عالم ( مرحوم ) کے ساتھ سگنل ڈیوٹی پر تھا کہ دشمن نے گولیوں کی بارش شروع کی۔ عبدلستار اپنا ریڈیو سیٹ سیمت اپنے بنکر سے مورچے میں جانے کی کوشش میں تھے کہ دشمن کی گولی اُن کے سر سے ٹکراکر سر پر سے لوہے کی بنی موٹی فوجی ٹوپی کچھ بالوں کے ساتھ اکھاڑ کے ہوا میں اچھال کر بنکر کی دوسری طرف گرادی ۔ آہنی ٹوپی کے سر سے زور سے سرکنے پر آپ کے سر پر ہلکی سی خراش بھی آگئی ۔ جیسے ہی فائرنگ رک گئی تو ساتھ والے مورچے سے کچھ جوان نکل آئے اور عبدالستار کی خون آلود ٹوپی کو دیکھ کر زارو قطار رو پڑے کہ اُن کی دوست کی شہادت ہو گئی ہے ۔لیکن عبدالستار ایک ہنر مند سپاہی تھا اُن کی جانب آنے والی دشمن کی کسیبھی گولی میں بھی یہ جان نہیں تھی کہ وہ عبد الستار کی جان لے سکے اور نہ ہی عبد الستار خان اتنا کم ہمت سپاہی تھے کہ دشمن کیطرف سے آنے والی صرف ایک گولی سے جام شہادت نوش کرے ۔ بہر حال چترالی دستے نے دشمن کو کیفرے کردار تک پہنچادیا کئی ایک شہادت کے رتبے سے سر شار ہوئے مگر اُن میں سے اکثر غازی بن کر واپس آگئے ۔کہتے ہیں کہ اُس وقت کے سپاہیوں نے بڑی کسم پرسی کی حالت میں ملک کی عزت و آبرو کو بچانے کی کوشش کی ۔ اُن پر ایسا وقت بھی آیا تھا کہ مہینوں تک پیٹ خالی رہا اور یہ اللہ کے پر اسرار بندے گھاس پھونس کھا کر دشمن کے خلاف لڑتے رہے ۔زمین پر رینگتے رینگتے جب اُن کے تنوں سے سرکاری وردیاں پھٹ پھٹ کے ختم ہوئیں تو انہوں نے سترپوشی کے لئے گندم کی بوریوں کو ہاتھ ہاتھ کی سلائی سے اپنے تن بدن کو چھپانے کا ذریعہ بنایا ۔ جب چترالی فوجیوں کے کپڑے ختم ہوئے تو بوریوں سے بدن ڈھانپنے کی ترکیب عبد الستار ہی نے سوجھی تھی ۔ علاقے کو ڈوگرہ راج سے پاک کر دیا گیا ۔ چترال کے جری مجاہدین غازی بن کر واپس آئے ۔ واپس آنے کے بعد راجہ عبد الستار نے پندرہ سال مزید چترال سکاؤٹ میں اپنا فرض منصبی انجام دینے کے بعد ۱۹۶۹ ؁ ء میں سبکدوش ہوئے اور پی ڈبلیو ڈی میں روڈ انسپکٹر کے عہدے پرفائز ہوئے ۔ عمر عزیز جب ساٹھ سال کو پہنچی تو اس ملازمت سے بھی سبکدوش ہوئے ۔
آ پ کی شخصیت ایسی تھی کہ ہر انسان آپ کو دیکھ کر خوش ہوتا ، دنیا کا رنج اور غمِ جانان و فکرِ معاش کس کو نہیں لیکن عبد الستار تمام غم و الم اور مصیبتوں کو مسکراہٹوں کے دامن میں احترام کے ساتھ چھپاکے رکھتے اُن پر ہنستے اور دوسروں کو ہنساتے ۔ آپ کی یہ تمام خصوصیات ایک طرف اور لیکن آپ کی وطن دوستی کے قصے ایک طرف ہیں ۔ آپ کا صاحب زادہ راجہ جنگ بہادر نے آپ کی حب الوطنی کے حوالے سے لکھی ہوئی ایک نظم آپ ہی کی ایک پرانی ڈائری سے نکال کر سنائی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چپاڑیو میتا ر کس حد تک وطن پرست آدمی تھے ۔ سن ۱۹۶۵ ؁ ء میں جب دشمن نے اپنے مکارانہ عزائم کے ساتھ لاہور کے نہتے شہریوں پر شب خون مارا تو اُس وقت صرف لاہور میں موجود سپاہیوں نے ہی دشمن کو منہ توڑ جوا ب نہیں دیا بلکہ چترال میں موجود سپاہی بھی دشمن کے بتیسی گرانے کے لئے اپنے آپے سے باہر ہوتے رہے ۔ عبد الستار کو جب جسمانی طور پر جنگ لڑنے کا موقعہ نہیں ملا تو اپنے اشعار کے ذریعے دل کی بھڑاس نکالی اور دشمن کو للکار کر اُسے اُس کی اواقات یاد دلاتے ہوئے کہا : ؂

پاکستانو بہادر فوجی ہندوانان توش ارینی
نعرۂ تکبیرو سورہ دشمنو خاموش ارینی
ہیہ راہ خدایو رے ہیہ لوو ہوش ارینی
ای پھتی شہید بیتی جنتہ بی قوش ارینی
پاکستان اسلامی ملک ہندستان مردار اسو
حمایت اسپہ سم کوئے چین اسپہ چھیر برار اسور
تسلیم کورئے ہیہ لوو ہندوستان خباراسو
پاک فضائیو پروشٹہ ہیہ ای لاچار اسور
رسولوﷺ کلمان سورا اسلامو پر جوش ارینی
قیامتو راہو لاشٹیے دنیوت ناموس ارینی
ہندوستانو حمایتو پولینڈ اوچے روس ارینی
مقابلہ دشمنو سم تن سوروبے ہوش ارینی
اَیوّبو روپو پوشی شاستریو ہارٹ فیل بیرو
نہرو و ای ژور نیسی عبد اللہ و جیل دیرو
بھٹو تقریرو پوشی چھکلوو سوم خیل گیر
کافر مسلمانو ہنون پونگو موڑہ تیل بیرو
پاکستانو می پائلیٹان اسپہ ژانان ذاہ کونیان
ہندوانان بتان چھینی درامسا لین راہ کونیان
ہندوستانہ راشن نیکی چھان ٹیپوران زاہ کونیان
مقابلہ مسلمانو سم تن سورو تباہ کونیان
اس نظم کو خود بھی اشور جان کی دھن میں گایا کرتے تھے لیکن بد قسمتی سے کسی کیسٹ میں ریکارڈ نہیں مل سکا۔ آخری عمر میں صرف ایک ہی مشغلہ تھا اور وہ تھا باغ بانی ۔ شاخ تراشی کی قینچی ہمیشہ ہاتھ میں ہوتی تھی ۔ پودوں اور پھولوں کو سجاتے ااور سنوارتے رہتے تھے ۔اچھے ذائقے کی نمکین چائے کا بڑا شوق رکھتے تھے ۔ چائے زیادہ نہیں پیتے تھے البتہ زیادہ پتیوں والی تیز چائے کا دلدادہ تھے ۔ چائے کے حوالے سے ایک عجیب عادت یہ بھی تھی کہ جو چائے اُبلتے اُبلتے جوش میں باہر آ جاتی وہ چائیے آپ کی نظر میں کمر دریدی چائے ہوتی اور ہونٹ لگاتے ہی پہچان جاتے کہ یہ چائے دیگچی سے اُبلتے ہوئے باہر آئی ہوئی کمزور چائے ہے اور ایسی چائے آپ کبھی بھی نہ پیا کرتے تھے۔ کوئی بھی چیز جو شکستہ ہو اور کمزور ہو ،آپ بالکل پسند نہیں کرتے تھے ۔ کہتے ہیں کہ آپ پوشاک کے حوالے سے بہت ہی حساس تھے ۔ کسی بھی محفل میں جاتے تو تھری پیس سوٹ میں جاتے ۔ اُس وقت چترال کے کسی اور گاؤ ں یا چترال سے باہر جاتے ہوئے اپنے تمام پینٹ شرٹ اور ٹائی ، بوٹ وغیرہ لکڑی کے ایک مخصوص باکس میں رکھ کے ساتھ لے جاتے ۔ یہ باکس ملبوسات کے خاص ناپ تول میں بنایا گیا تھا جو کہ آج بھی راجہ جنگ بہادر کے دولت کدے میں موجود ہے ۔ اگر کوئی تحقیق کار آجائے تو چپاڑیو میتار کی شخصیت پر ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق