تازہ ترین

کسٹم ایکٹ کو واپس لینے پر مسلم لیگ ن چترال کی طرف سے صدر مملکت ،وزیراعظم میاں محمد شریف او ر گورنر خیبر پختونخوا سمیت انجینئر امیر مقام کا بھی شکریہ

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع چترال کے رہنماؤں اور ورکروں نے ملاکنڈ ڈویژن سے کسٹم ایکٹ کو واپس لینے کے عمل کو وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی سفارش پر اسے لاگو کرنے کے بعد عوام کی رد عمل اور علاقے میں غربت کے پیش نظر اسے واپس لینا ان کی ولولہ انگیز قیادت کا مظہر ہے۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے صوبائی نائب صدر فضل رحیم ایڈوکیٹ نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں ممبر ضلع کونسل محمد حسین، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن غلام حضرت انقلابی ،محمد کوثر ایڈوکیٹ، خورشید حسین مغل ایڈوکیٹ، شیرجہان ساحل اور ناصر ولی خان کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میاں نواز شریف نے چترال کی ترقی کو ہمیشہ سے اولیت دی ہے جس کا عملی مظاہر ہ وفاقی حکومت کی طرف سے چکدرہ چترال سڑک اور ضلعے کے اندرونی سڑکوں کے لئے مجموعی طور پر 40ارب روپے کی منظوری دی ہے جس سے علاقے میں انقلاب برپا ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی طرف سے ملاکنڈ ڈویژن میں نا ن کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مخالفت کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ مسلم لیگ کے کارکنا ن اس پسماندہ خطے کے عوام کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے صدر مملکت او ر گورنر خیبر پختونخوا سمیت انجینئر امیر مقام کا بھی شکریہ ادا کیاہے۔ اس موقع پر غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ نے ضلع مستوج کی حیثیت کی بحالی کے لئے تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کئے بغیر یہاں سے غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ناممکن ہے۔ دریں اثناء ممبر ضلع کونسل محمد حسین نے چترال سے پی پی پی کے ممبر صوبائی اسمبلی سلیم خان کا چترال گرم چشمہ روڈ کی تعمیر کے لئے وزیر اعظم کی طرف سے سات ارب فنڈ مختص کرانے کی کریڈٹ حاصل کرنے کی بات کو بچگانہ اور احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ سلیم خان کو ایسے بلند بانگ اور بے سروپا دعویٰ کرتے ہوئے شرم محسوس کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ سلیم خان کا گزشتہ دس سالوں سے کارکردگی لوگوں کے سامنے ہے جوکہ اپنی ترقیاتی فنڈز ایک ایک لاکھ روپے میں تقسیم کرکے دوستوں اور رشتہ داروں میں بانٹنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق