شیر ولی خان اسیر

یاد ماضی….(5) بانگ سے بلتستان

شیر ولی خان اسیر


9.10.2013
کا دن ہمارے آزاد گھومنے کا تھا، جس میں اپنی اپنی پسند کی قابل دید جگہوں عمارتوں اور گھریلو صنعتوں کادورہ شامل تھا۔ ہمارے گروپ نے ضلع گھنگچے کے صدر مقام خپلو تک جانے کا فیصلہ کیا۔ ہو نہ ہو پھر کبھی موقع ملے کہ نہ ملے۔آج ہم نے دن کی روشنی میں سکردو کے کچھ گاؤں دیکھ پائے۔ جیسا کہ روداد سفر سے ظاہر ہے کہ ہم صرف رات کے وقت باہر نکل پاتے تھے۔
آج پہلا موقع تھاکہ ہم دھوپ میں باہر سکردو کی سڑکوں پر تھے۔ حسین آباد سکردو سے ملحق بڑا گاؤں ہے جس کی آباد کاری ہنوز جاری ہے اور جہاں جنگلی بیری کے درختوں کے جھنڈ کے جھنڈ ہم جیسے لوگوں کے لیے زیادہ قابل توجہ رہے ۔ ہم نے ان کے کھلنے کے موسم کی دلربائی کا اندازہ لگانے کی کوشش کی کیونکہ چترال میں یہ موسم بہار کا جوبن کہلاتا ہے۔ اس موسم میں جنگلی بیری کے پھولوں کی خوشبو ہر ذی روح کے لیے یکساں فیاضی دکھاتی ہے۔ غریب بڑھیا کی جھونپڑی ہو یا امیر جوان کا پر تعیش بیڈروم، غسل خانہ ہو یا کہ مویشی خانہ، بنجر بیابان ہو کہ گلزارپر بہار، دامن کوہ ہو کہ بالائے کوہ، غرض ہر جگہہ مدہوش کرنے والی رومان خیزخوشبو پھیلتی ہے۔ کسی مصنوعی پرفیوم کی ضرورت نہیں پڑتی۔
قدرت کی یہ عنایت سب کے لیے مساوی مقدار میں ہر جگہہ اور ہر ساعت موجود رہتی ہے۔ کھوار (چترالی) میں کہاوت ہے، ’ بوئیکو ؤوخ بطن‘ یعنی ہر انسان کو اسکی جائے پیدائش پیاری لگتی ہے اور اپنے وطن کی ہر چیز دل آویز لگتی ہے۔ہمیں بھی یہاں کے بیری اور سفیدہ کے درخت بہت دلکش لگے۔ بلتستان کے گاؤنوں کی صورت بھی چترال کے گاؤنوں جیسی ہے۔ چھوٹے بڑے، درختوں میں چھپے ایک سے ایک گاؤں حسین لگ رہا تھا۔ حسین آباد سے آگے تھرگو بالا اور پائین، نارو گاؤں دریا کے اس پار اور گول گاؤں سڑک کے د ونوں طرف ہمیں لبھاتے رہے اور ہم ادھر ادھر نگاہیں ڈالتے آگے بڑھتے گئے۔
پھر ہم بائیں طرف مڑے اور ہمایوں پل کراس کرکے ضلع گنگھچے میں داخل ہو گئے۔پولیس چیک پوسٹ پر ہمارے ساتھ کوئی لمبی چوڑی پوچھ گچھ نہیں ہوئی،بلکہ بڑے احترام کے ساتھ ہمیں پھاٹک سے گزرنے دیا گیا ورنہ موجودہ حالات میں ہر جگہہ پوری جانچ پڑتال کی ضرورت پڑتی ہے۔ گنگچھے کی وادی بھی ویسی ہی خوبصورت ہے جیسے سکردو۔ ہمایون پل سے پہلا گاؤں کاریس ہماری دائیں جانب تھا، پھر غواری سڑک کے ساتھ، آگے کورو اور کانیس دریا کے اس پار، جب کہ یوگو،کھرلق اوردغوری سڑک کے ساتھ ساتھ ملے۔ چند کلومیٹر چلنے کے بعد دریا کے دائیں طرف دو ہموار، وسیع و غریض، گنجان آباد اور درختوں میں چھپے گاؤں نظر آئے اور ہماری توجہ کھینچ لیے۔ دیکھنے کے قابل تھے۔ ہماری گاڑی کے مقامی ڈرائیور نے بلغار اور تھلے نام بتایا۔ہم دیکھتے ہی رہ گئے اور ان کی سیر کی آرزوئے لا حاصل دل میں چھپائے آگے چل پڑے۔ پھر دو جڑواں گاؤنوں برہ بالا اور پائین سے گزرتے ہوئے ہم گنگھچے کے ضلعی صدر مقام خپلو پہنچے۔ خپلو ڈھلان زمین پر آباد خوبصورت قصبہ ہے۔ قصبے سے زیادہ گاؤں سا لگا۔ہمیں خپلو پیلیس پہنچنے کے لیے دس منٹ تک چڑھائی چڑھنا پڑی۔ سڑک کے اطراف میں رہائشی مکانات اور چھوٹی موٹی دکانیں تھیں۔ خواتین لاپرواہی سے اپنے کاموں میں مصروف تھیں۔ اس وادی میں مجھے عورتوں کی مشقت اچھی نہیں لگی۔ بچی ہو یا عورت ہر ایک کی پیٹھ پر مخروطی ٹوکری تھی جس میں وہ ایندھن کی لکڑی یا مویشیوں کا چارہ اٹھائے ہوئے ہوتی تھیں۔ صنف نازک کے ساتھ یہ نا روا سلوک انصاف کے تقاضوں سے دور ہے،۔ برمحل کہنا پڑا
؂ خفا مو بور پسہ تے ظالم کہ ریتم نازک کریمتو بار ہردیو چھامیتئے
بے قدر اسپہ دی مگم ہرونی دی نو پسہ بے قدری مہ ہردیو پالیتئے
( اگر میں تمہیں ظالم پکاروں تو ناراض نہ ہوں، کیونکہ نازک پیٹھ پر بوجھ نے میرے دل میں درد پیدا کردیا۔ گوکہ ہم لوگ بھی بے قدر واقع ہوئے ہیں،مگر اتنا بھی نہیں۔ تمہاری اس بے قدری نے میرے دل میں آگ لگادی)
تاہم ایک بات مسلمہ ہے کہ بلتستان کی خواتین مردوں سے زیادہ محنت کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ چترال والوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہو چکے ہیں۔اگر مرد حضرات بھی ان کے مساوی محنت کریں تو وہ دن دور نہیں کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ حصہ ہونے کا فخر حاصل ہوجائے۔
خپلویلیس ( یبگو کھر) ہمارے لیے بالکل نادیدہ عمارت ثابت ہوئی۔ یہ محل خپلو کے راجاؤں، راجا ذکریا علی خان اور راجا ناصر علی خان کی طرف سے آغاخان کلچرل سروس پاکستان کو عطیہ میں ملی ہے۔ نے اسے اسکی اصلی حالت میں بحال کرکے سرینا ہوٹل میں بدل دیا ہے اور سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے جس سے نہ صرف نوادر اوریہ تاریخی عمارت محفوظ ہوگئی ہیں بلکہ علاقے کی معاشی ترقی میں بھی بھر پور حصہ لے رہی ہیں۔ تین منزلہ یہ محل ۱۸۴۰ء کو بنی تھی۔ باہر سے چار کونوں والی برجی نظر آتی ہے،۔جب اندر داخل ہو جائیں تو ایک الگ سی دنیا ہے۔ تنگ رہداریوں کی بھول بھلیاں، چھوٹے اور پست کمرے، لکڑی کی چھتیں اور فرش۔ پتھر کے بنے بڑے بڑے دیگ اور گڑھے، گھریلو استعمال کے تقریباً سارے برتن پتھر اور لکڑی کے ہیں۔ اس محل کی نیچلی منزل اصطبل اور مویشی خانوں پر مشتمل ہے۔
دوسری منزل نوکروں کی رہائش گاہ اور ذخائر خوردونوش کے گد ام کیلیے اور آخری منزل راجوں اور ان کے گھر والوں کی رہائش گاہ ہوتی تھی۔ یہاں پر ہر آدمی کو ایک الگ سی دنیا نظر آتی ہے۔ اتنی قدیم کہ اس وقت لوہا یہاں نایاب تھا۔ محل کی تعمیری اشیا سے لے کر استعمال کے سامان تک ساری چیزیں یا تو پتھر کی ہیں یا لکڑی اور چمڑے کی ۔ اگرچہ ان نودرات کو پوری طرح دیکھنے کی خواہش ستاتی رہی اور محل کے کونے کونے کا مشاہدہ کرنے کی خواہش جنون کی حد تک دل میں موجزن رہی، لیکن اول وہی وقت کی مجبوری ،دوسرا خوف ( شاید میں ہی کچھ زیادہ ہی ڈرپوک واقع ہوا ہوں) کہ کہیں کسی کمزور شہتیر ہمیں سہارا نہ دے سکے۔ ہم اپنی تشفی کے مطابق اس تاریخی محل کو نہ دیکھ پائے۔ ممکن ہے کہ ڈاکٹر فیضیؔ اور صالحؔ نے اس کی پوری تصویر اپنے شعور کے تختے پر اتارے ہوں۔ محل کے قریب ایک خوبصورت سی نئی عمارت (ریسٹوران) کا اضافہ ہوا ہے جو ہر لحاظ سے مقامی ثقافت کی عکاس ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ محل کی بحالی اور ریسٹوران کی تعمیر میں مقامی لکڑی( سفیدہ) استعمال ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ فرنیچر بھی سفیدہ کا بنا ہوا ہے۔ عام طور پر اس لکڑی کو فرنیچر کے لیے اس لیے استعمال نہیں کرتے کہ اس میں نمی کا اثر زیادہ ہوتا ہے، لیکن یہاں پر ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی کہ ہم کہہ سکیں کہ سفیدہ کی لکڑی ٹیڑھی ہوگئی ہے یاپھٹ گئی ہے۔
ہم نے یبگو کھر سرینا ہوٹل کی بلکونی میں بیٹھ کر روایتی اور انگریزی کھانوں کا مزہ اڑایا۔ ہوٹل اور محل کے منیجر صاحبان نے ہماری خاطرداری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پونے چار بجے ہم خپلو سے واپس ہوئے اور ساڑھے پانج بجے سکردو پہنچے تو فضل خالقؔ صاحب کاپیغام ملا کہ چائے ان کے ہاں پینے کے بعد ہمیں شیگر کے پیلیس ہوٹل پہنچنا ہے، جہاں گلگت، بلتستان اور چترال کے سارے مندوبین کو ایک ساتھ کھانا کھانا تھا اور پھر تینوں ہم قوم ثقافتوں کے فنکاروں کی فنکاری کا لطف اٹھانا تھا۔ ہم اپنے ہوٹل سے نکلے اور ڈی سی فضل خالق کے گھر وارد ہوئے تو موسوم کو پرتبسم چہرے کے ساتھ منتظر پایا۔ دس پندرہ منٹ کی گپ شپ اور چائے میٹھائیوں سے سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کے بعد ہم اٹھے اور جانب شیگر چل پڑے، البتہ فضل خالق صاحب ہمارا ساتھ نہ دے سکے کیونکہ وزیر اعلےٰ گلگت بلتستان سکردو میں تھے۔ ان کا پرٹوکول ان کی ذمے داری تھا۔ تاہم انہوں نے موسیقی کا پروگرام دیکھنے کے لیے پہنچنے کا وعدہ کیا۔
بلتستان کا سارا دورہ پر لطف رہا تھا اور آج رات کا پروگرام اس کا آخری اور عروج کا تھا اور جس کے انتظار میں ہم نے دو دنوں تک احسان دانشؔ کی ’ پابندیاں سخت‘ جھیلی تھیں۔ ابتدا عباس آنندؔ بلتستانی کی گلو کاری سے ہوئی تو ہم سب ورطہ حیرت میں ڈوب گے۔ عباس نے اردو، شینا، بلتی میں ایسے گیت سنائے کہ ہم سر دھنتے رہ گئے۔ اس نے اپنی دوسری خدا داد صلاحیت کا مظاہرہ انگریزی میں کرکٹ کمنٹیری کرکے سامعین و ناظرین کو حیراں کردیا۔ خدا نے عباس آنند کو بینائی کی نعمت سے محروم رکھ کر دوسری ساری نعمتوں خاص کرکے شرین گلو سے نوازا ہے۔ زندہ اور خوش رہو، عباس آنند! عباس آنند نے محفل کو پوری گرمائش دی تھی اور لگتا تھا کہ آج کی محفل یادگار اور شاندار رہے گی۔ لیکن ہماری بدقسمتی تھی کہ ایسا نہ ہوسکا۔ معلوم پڑا کہ یہاں بھی کچھ بھائی ایسے ہیں جن کو موسیقی سے الرجی ہے۔ لہذا ہم نے مناسب سمجھا کہ ان کو نزلہ میں مبتلأ کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے سمعی ذوق کا گلہ گھونٹ دیں۔
یوں ہم نے اپنے آخری دن کی پر لطف رات بے ذوق میزبانوں پر قربان کرکے واپس پی ٹی ڈی سی موٹل سکردوپہنچ کر لیٹ گئے۔ کچھ دیر تک سوچتا رہا کہ بلتستان کے خوش مزاج اور مہمان نواز باسیوں کی ذوق جمالیات سے محرومی واقعی ایک افسوس ناک بات تھی۔دل نے چاہا کہ احسان دانش اؔ ور عباس آنند اور ان جیسے دوسرے باذوق لوگوں کو یہاں سے اٹھا کر چترال لے چلوں۔ اس رات ایک اور افتاد پڑی۔کوئی بھولی بسری بھوکی پسو میرے بستر تک رسائی پائی تھی اور جس نے باقی رات کی نیند اپنی اور میری ہتھا پائی میں اڑادی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق