مضامین

دھڑکنوں کی زبان….مجھے ایک چہرہ چاہیئے

……….محمد جاوید حیات ……
مجھے ایک ایسا چہرہ چاہیے۔جس کے پیچھے کوئی دوسرا چہرہ نہ ہو ۔اس چہرے میں مجھے میرے خواب،میری آرزویں ،میری امیدیں ،چمکتی نظر آئیں ۔ایسا چہرہ جو مجھے بھا جائے۔مجھے مانوس لگے ۔مجھے لگے کہ یہ چہرہ نہیں ایک گلستان ہے ۔ایک سمندر ہے ۔ایک کائنات ہے ۔میرے سارے دکھ اس چہرے میں جذب ہو کر گم ہو جائیں ۔۔اس میں ایک آفاقی درد نمایاں ہو۔یہ چہرہ خلوص کا ایک مینارہ نور ہو ۔یہ چہرہ خاموش بولتا ہو ۔اچھائی اور حق دیکھ کر اس میں تنویر پھوٹے ۔ظلم اور ناحق دیکھ کر وہ فق ہو جائے ۔ایسا چہرہ جس پر منافقت کی گرد نہ بیٹھے ۔چاپلوسی،چغل خوری اور دھندوں کی چھینٹوں سے پاک ہو ۔ایسا چہرہ جو صداقت سے چمکتا ہو ۔اس میں عدل و انصاف کی لکیریں نمایاں ہوں ۔پیار اور محبت کا سہرا اس پہ سجتا ہو ۔ایسا چہرا جو اندھیرے میں بقعہ نور ہو ۔جو یادوں کی کتاب کا ایک عنوان ہو ۔۔ایک گلستان رنگ و بو ہو ۔ایک انجمن نما ہو ۔ایک کھلی کائنات ہو ۔۔وہ چہرہ مجھے کھینچ کے اپنی طرف لے جائے ۔اس پر سے میری نظریں نہ ہٹیں ۔میں محو ہو جاؤں ۔اپنے ہوش و حواص کھو جاؤں ۔۔۔ایسے چہرے کی تلاش ہے ۔خواہ وہ حکمران کا چہرہ ہو لیڈر کا چہرہ ہو ۔یا برے افیسر کا چہرہ ۔۔۔مجھے ایک چہرے کی تلاش ہے ۔۔میرے سامنے جو چہرہ آتا ہے ۔اس کے پیچھے کئی چہرے ہو تے ہیں ۔عالم دین کے چہرے کے پیچھے ایک دنیادار کا چہرہ ہوتا ہے ۔تہجد گذار کے چہرے کے پیچھے اپنے فرائض سے غافل کا چہرہ آتا ہے ۔اس کی تہجد اس کی ڈیوٹی سے غفلت میں عرق ہوجاتی ہے ۔سیاسی لیڈر کے چہرے کے پیچھے کرسی کے ایک عاشق کا چہرہ ہوتا ہے ۔جس کی وجہ سے اس چہرے سے خلوص،بے باکی ،نڈرپن،اور حوصلہ ختم ہوجاتا ہے ۔۔۔کوئی قناعت میں ڈوبا ہوا مطمین چہرہ مجھے نہیں ملتا ۔جو مجھے چاہئیے ۔۔وہ مجھے تسلی دے ۔۔مجھے زندگی کے گر سیکھائے ۔پریشانیوں کا علاج کرے ۔سکون کی دولت سے ملامال کردے ۔۔مجھے یہ دنیا منحوس چہروں کی دنیا لگتی ہے ۔۔ایک ویران کھنڈر۔۔۔۔
دی شیخ با چراغ ہمین گشت گرد شہر۔۔۔۔۔کز دام و دت ملولم و انسانم آرزوست
از ہمراہان خشک عناصر دلم گرفت۔۔۔۔۔شیر خدا و رستم و دستانم آرزوست
خود مجھے اپنا چہرہ دیکھنے کا حوصلہ کھبی نہیں ہوا ۔میرے چہرے کے پیچھے بھی ہزاروں چہرے ہیں ۔میں سمجھتے ہوئے بھی ان چہروں سے جان نہیں چھڑا سکتا ۔۔بے داغ چہرہ ہر انسان کا خواب ہے ۔قرآن نے کہا کہ قیامت کے دن کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں ۔جو روشن ہوتے ہیں ۔کچھ روشن نہیں ہوتے ۔۔مجھے ایک’’ روشن چہرہ‘‘چاہئیے ۔سب کے سامنے روشن ۔۔اس کی روشنی میں سارے چہرے روشن ہو جائیں ۔۔مجھے ایک چہرہ چاہئے معصوم چاند سا ۔۔میری نظر یں اس سے نہ ہٹیں ۔۔میں سسی پنو ہوں ۔۔میں ہیر رانجھا ہو ں ۔۔میں لیلہ مجنون ہوں ۔۔مجھے اپنے بچوں کے معصوم چہروں سے بھی ڈر لگتا ہے ۔۔میں سوچ کر تڑپ اٹھتا ہوں ۔کہیں کل میرے چہرے کی طرح ان کے چہروں کے پیچھے بھی کئی چہرے نہ ہوں ۔۔اور وہ ان چہروں میں گم نہ ہو جائیں ۔۔۔کاش مجھے وہ چہرہ نظر آتا جس میں میں خود اپنے آپ کو نظر آؤں ۔۔جو ایک کھلی کتاب ہو جس کا عنوان میں خود ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى