چترال لوئر

جمعیت العلماء اسلام چترال کے مخالف دھڑوں میں صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اور سابق سنیٹر مولانا راحت حسین کی کوششوں سے اختلافات ختم

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) جمعیت العلماء اسلام چترال کے مخالف دھڑوں نے سترہ مہینوں کی سیاسی چپقلش کے بعد بالاخر پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اور سابق سنیٹر مولانا راحت حسین کی کوششوں سے اختلافات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ چترال پریس کلب میں پیر کے روز مولانا راحت حسین نے جے یو آئی کے ضلعی رہنماقاری عبدالرحمن قریشی ، جنرل سیکرٹری و نائب ضلع ناظم چترال مولانا عبدالشکور ، سابق ایم پی اے مولاناعبدالرحمن ، قاضی فتح اللہ اور سابق ایم پی اے غلام محمد اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ رائے کا اختلاف جمہوریت کا حسن ہے ۔ لیکن بعض ناعاقبت اندیش لوگوں نے ان معمولی اختلافات کو ہوا دے کر پارٹی میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ اور جے یو آئی چترال کے رہنماؤں نے اس کا ادراک کرتے ہوئے صوبائی قیادت کو اس مسئلے کے حل کی دعوت دی ۔ اور خدا شکر ہے ۔ کہ آج جے یو آئی کے تمام رہنما اور کارکناں ایک جگہے پر جمع ہیں ۔ اور سابقہ تمام تلخیاں بھلا کر ایک جسم و جان کی طرح جمعیت کی ترقی اور کامیابی کیلئے متحد ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں جمعیت 2002سے ایک بڑی قوت کے طور پر اُبھری ہے ۔ دو مرتبہ جنرل الیکشن اور اب کے بلدیاتی الیکشن میں بھی بھاری کامیابی حاصل کی ہے ۔ اور تحصیل و ضلع کی سطح پر کولیش گورنمنٹ میں شامل ہے ۔ اور یہ بات سب کو معلوم کہ جے یو آئی کے بغیر کوئی بھی حکومت نہیں بن سکتی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اختلاف رائے کوئی غیر اسلامی فعل نہیں ہے ۔ صحابہ کرام کی زندگی میں بھی رائے کا اختلاف موجود تھا ۔ اس لئے کسی رائے سے اختلاف کا مقصد موقف میں فرق سے تعبیر کیا جانا چاہیے ۔ نہ کہ اُس کو اختلاف برائے اختلاف قرار دیا جائے ۔ مولانا راحت حسین نے جے یو آئی کے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ انہوں نے مشاورت کا مثبت جواب دے کر اتفاق و اتحاد کے راستے پر گامزن ہونے کا اصولی فیصلہ کیا ۔ جو کہ چترال میں جے یو آئی کی ترقی و کامیابی کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہو گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ اتحاد غیر مشروط وجود میں آیا ہے ۔ اس میں کسی کی جیت اور کسی کی ہار کی کوئی بات شامل نہیں ہے ۔ اور نہ یہ وقت ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ 2018کے الیکشن میں انشاء اللہ جمعیت کو کامیابی ہوگی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مذہبی اور جمہوریت پسند قوتوں کو احسا س ہوا ہے ۔ کہ مذہبی جماعتوں کا اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اور 2018کے الیکشن میں مذہبی جماعتوں کی ہی کامیابی ہو گی ۔ مولانا راحت حسین نے کہا ۔ اپریل 2017میں خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کی صد سال یو تاسیس منائی جائے گی ۔ جس میں ایک کروڑ لوگوں کی شرکت متوقع ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ۔ کہ علماء کا اختلاف رحمت ہے ۔ اور چترال میں جے یو آئی کے دونوں دھڑے حق پر تھے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ۔ کہ عمران خان کی ذات سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں ۔ لیکن برطانیہ میں مسلمان امیدوار کے مقابلے میں غیر مسلم امیدوار کی حمایت اُس کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى