
صدا بصحرا…………گلگت بلتستان کے تا ریخی قلعے
…………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ………..
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کشمیر کی آزادی کے حوالے سے جو اصولی موقف اپنایا ہے ۔اس کو پورے ملک میں سراہا جا رہا ہے ۔اس جراتمندانہ موقف کی بدولت ہمارے دشمن کو ہزیمت ہوئی ہے ۔سارک ممالک کے وزرائے داخلہ کی کانفرنس میں چو ہدری نثار علی خان نے اپنے بھارتی ہم منصب راجنا تھ کو لا جواب کر کے واک آؤٹ پر مجبور کیا ۔ایسے اقدامات سے دشمن کے مقابلے میں قوم کا حوصلہ بلند ہوتا ہے ۔مورال بلندی کی طرف جاتا ہے ۔اس جراتمندانہ موقف کی وجہ سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام نے میاں محمد نواز شریف کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کر تے ہو ئے مسلم لیگ کو مینڈیٹ دیا ہے ۔عوام اُمید رکھتے ہیں کہ وزیر اعظم ان کی تو قعات پر پورا اتر یں گے ۔مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے علاقے میں ہمہ جہت ترقی کے لئے جامع پلان ترتیب دیا ہے ۔مگر بد قسمتی سے گلگت بلتستان کے تا ریخی قلعوں کی بحالی اور نئی نسل کو ان کی تا ریخ سے آگاہ کر نے کا منصوبہ اس پلان میں اب تک نظر نہیں آیا ۔وزیر اعظم میاں نواز شریف ،وزیر امور کشمیر چوہدری برجیس طاہر ،گو رنر گلگت بلتستان راجہ عضنفر علی اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی توجہ اگر گلگت بلتستان کے تا ریخی قلعوں کی بحالی کی طرف مبزول ہوئی تو یہ نئی نسل کو علاقے کی تا ریخ سے روشناس کرانے کی طرف بڑا قدم ہو گا ۔یہ تا ریخی قلعے چار ہیں اور چا روں قلعوں میں 1843ء کے معاہدہ امر تسر ،کشمیر کی فروخت ڈوگرہ اقتدار اور سکھوں کے حملوں کے خلاف جنگیں لڑی گئی ہیں ۔قربا نیاں دی گئی ہیں ۔ان میں پہلا قلعہ مڈوری ہے ۔یہ قلعہ ضلع غذر کی تحصیل یاسین میں سندی کے قریب دریا کے بائیں کنارے بڑے ٹیلے پر واقع ہے ۔مُلک امان کے دور حکومت میں1862ء میں یا سین کے عوام نے قلعہ بند ہو کر ڈوگرہ فوج کے خلاف جنگ لڑی ۔محصورین کی تعداد 2ہزار تھی ۔ان میں عورتیں اور بچے بھی تھے ۔ڈوگرہ فوج نے قلعہ کا دروازہ توڑ کر محصورین کو تہہ تیغ کیا ۔800 بچے بچیاں ،600عورتیں اور 200 بو ڑھے یہاں شہید کئے گئے ۔شہدا ء کی یا دگار اور ڈوگرہ فوج کی بہیمانہ بربریت کا یہ نشان مٹ چکا ہے ۔قلعے کی دیو اریں گر چکی ہیں ۔کھنڈرات باقی ہیں “کھنڈرات سے پتہ چلتا ہے کہ عمارت نفیس تھی “اس قلعے کی تا ریخ 500 سالوں پر محیط ہے ۔یہ ورشگوم کے حکمران خوش وقت بن محمد بیگ کا تعمیر کیا ہوا قلعہ ہے ۔اس کی بحالی ملک اور قوم کی بڑی خدمت ہو گی ۔دوسرا بڑا قلعہ یاسین کا ڈورکھان ہے ۔ یہ قلعہ یاسین خاص یعنی سنٹر یا سین میں قلعہ مڈوری سے 2کلومیٹر کے فا صلے پر دریا کے دائیں جانب ندی کے کنارے اونچے ٹیلے پر تعمیر کیا گیا ہے ۔یہ قلعہ خوش وقت کے بیٹے شاہ فرامرد نے 1706ء میں تعمیر کروایا ۔شاہ خیراللہ ،سلیمان شاہ ،گو ہرامان اور میرولی نے اس کو پایہ تخت بنایا۔ قلعے کے سا منے نشیب میں یا سین کا مشہور پولو گراونڈ ہے ۔ندی کے بائیں کنارے خوش وقت خاندان کا قبرستان ہے۔ جہاں سلیمان شاہ اور گو ہر امان کے مزارات ہیں ۔سلیمان شاہ اور گوہرامان نے ڈوگرہ افواج کے خلاف کئی اہم جنگیں لڑیں ۔اور ڈوگرہ فوج کو شکست دی ۔گوہرامان کے مرنے کے بعد ڈوگرہ اور انگریز یاسین کی سیاحت کے لئے آئے ۔ڈورکھان قلعے کے سامنے شاہی مقبر ے پر رکے تو گوہر امان کی قبر سے نکلنے والے مکھیوں نے ان پر یورش کر دی ۔ڈوگرہ مرگیا۔ انگریز کی جان بچائی گئی ۔قلعہ ڈورکھان کی دیواریں سلامت ہیں ۔اس کو بحال کیا گیا ۔تیسرا تا ریخی قلعہ گلگت کا قلعہ ہے ۔یہاں 1852ء اور 1856ء میں ڈوگرہ کے خلاف جنگیں لڑی گئیں ۔1948ء میں آخری ڈوگرہ حکمران گھنسارسنگھ کو اس قلعے سے گرفتار کیا گیا ۔اس قلعے کی تا ریخ ایک ہزار سے بھی قدیم ہے۔ قلعہ پاک فوج کی نگرانی میں ہے۔تاہم اس کی تاریخی اہمیت سے نئی نسل کو آگاہ کر نے کے لئے سکو لوں اور کا لجو ں کے طلباء وطالبات کو قلعے کا دورہ کرانے کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کی زیر نگرانی قلعے میں عجائب گھر بنایا جا سکتا ہے ۔چوتھا اہم قلعہ سکردو کا قلعہ کھرپچو Kharpachu))ہے ۔یہ قلعہ سکردو خاص میں ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے دفاتر کے سامنے دریا کے پار اونچی پہاڑی پر واقع ہے ۔قلعے کے عین سامنے دریا کے اس پار پی ٹی ڈی سی ہوٹل تعمیر کیا گیا ۔اس قلعے میں تاریخ کی سات بڑی جنگیں لڑی گئیں ۔آخری جنگ 1948ء میں لڑی گئی جب ڈوگرہ فوج قلعے میں محصور ہو گئی اور چترال باڈی گارڈ کے رضا کاروں نے شہزادہ مطاع الملک کی قیادت میں محا صرے کو تنگ کر کے ڈوگرہ فوج کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا ۔شہزادہ مطاع الملک برٹش آرمی کے آفیسر رہ چکے تھے ۔ دوسری جنگ عظیم میں آزاد ہند فوج میں شامل ہو کر جا پان اور سنگاپور کے محاذوں پر سبھاش چند ربوس کے سا تھ جنگ میں حصہ لیا تھا ۔14اگست 1948ء کی صبح مطاع الملک نے کھرپچو کے قلعے پر پاکستان کا پرچم لہرایا۔کیپٹن گنگا سنگھ اور دیگر ڈوگرہ مارے گئے ۔کرنل تھاپا کو زندہ گرفتار کیا گیا ۔ اس جنگ کی یا دگار قلعہ کھرپچو اب مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ شہزادہ مطاع الملک کی تحریروں میں قلعہ کے قریب سکول اور مندر کا ذکر ہے دونوں عمارتیں مسمار ہو چکی ہیں ۔پو ری یادگار مٹادی گئی ہے ۔یو نیسکو، آغا خان ٹرسٹ فارکلچر اور دیگر فلاحی اداروں نے تاریخی عمارتوں اور قلعوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ما ضی میں کافی اچھے کام کئے ۔سکردو میں خپلو ، شکر کے قلعوں کو میو زیم بنایا ۔ہنزہ میں التت اور بلتت کے قلعوں کو میوزیم میں تبدیل کیا ۔یہ چاروں قلعے ایسے ہیں جہاں ڈوگرہ افواج کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہوئی ۔ان کی بحالی کے لئے این اوسی جاری کی گئی مگر جن قلعوں میں ڈوگرہ افواج کے خلاف جنگ ہو ئی ۔مزا حمت ہو ئی، ان قلعوں کی بحالی کے لئے این اوسی دینے میں نا معلوم طا قتیں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ دشمن ملک کی ایجنسی اپنے کا ندوں کے ذریعے رخنہ ڈال دیتی ہے اور ایسے قلعوں کو بحال کر نے نہیں دیتی جہاں ڈوگرہ کے خلاف جنگ لڑی گئی ہے ۔ تاکہ بروشر میں ڈوگرہ کے ظالم ،ڈوگرہ کی شکست ،ڈوگرہ کی ہزیمت اور گرفتاری کا ذکر نہ ہو ۔مسلم لیگ (ن)کی حکومت کے لئے یہ نادر مو قع ہے ۔ اس مو قع سے فا ئدہ اٹھا کر گلگت بلتستان کے تا ریخی قلعوں کی بحالی کے منصوبے پر کام کر نا چاہیئے تاکہ مڈوری ،ڈورکھان ،گلگت اور کھرپچو کے قلعے بھی ہوٹل اور میوزیم کی صورت میں سیاحوں اورہمارے نو جوانوں کے لئے ما ضی کے یا دگار کی صورت میں دستیاب ہوں ۔بروشر میں ڈوگرہ کے مظالم اور ڈوگرہ کی شکست کا ذکر ہو اور نئی نسل کو معلوم ہو جا ئے کہ ہمارے آباؤاجداد نے 1843ء کے معاہدہ امر تسر کو نا کام بنا نے کے لئے ڈوگرہ کے خلاف کیسی کیسی جنگیں لڑیں اور کس طرح زندہ قوم ہو نے کا ثبوت دیا ۔
