
سوالات تحریر بلال احمد
………….. بلال احمد……………
جب اکسویں صدی میں بھی اٹھارہ گھنٹے آپ بجلی کو ترسے اور جب بجلی آجائے تو کم ولٹیج کی وجہ سے آپکا موبائل اور لپ ٹاپ چارج نہ ہو تو کیاآپ اپنے آپ کو اس جدید دور کا انسان تصور کرینگے؟ کیا دور جدید میں بجلی کی وجہ سے طالبعلموں کی پڑھائی بری طرح متاثر نہیں ہو رہی ہے؟ کیا بجلی کے بغیر لاکھوں ، کروڑوں کا نقصان ہمارے تاجر برادری کو نہیں ہو رہاہے؟ کیا بجلی کے بغیر رات کو آپ سکون کی نیند سوسکتے ہیں؟ کیا لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کے عبادات میں خلل نہیں پڑ رہا ہے؟ کیا دفتری امور میں تاخیر نہیں ہو رہی ہے؟ کیا اس Globalizationکے دور میں آپ دنیا سے بغیر بجلی کے رابطے میں رہ سکتے ہیں ؟ کیا پانی کے بڑے پیمانے پے ذخائر ہونے کے باوجود ہمارے علاقے میں لوڈشیڈنگ کا وجود انہونی بات نہیں؟ واپڈا کے اس ناروا سلوک پے چپ رہنا کیا اس بات کے دلیل نہیں کے ہم چترالی عوام دراصل امن پسند نہیں بلکہ بزدل ہیں اور اپنا حق لینا نہیں جانتے؟ کیا چترال خیبر پختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع نہیں ہے؟ کیا ہم مظلوم ترین قوم نہیں ہیں ؟کیا ہمارا کوئی نمائندہ اسمبلی میں نہیں ہے کہ وہ ہمارے حقوق کی جنگ لڑ سکے؟
بجلی کی لوڈشیڈنگ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے فرد کی زندگی پر اثرانداز ہورہی ہے مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کے ہماری انتظامیہ اور منتخب نمائندے جب اس حوالے سے بات کرتے ہیں تو عجیب منطق پیش کرتے ہیں۔ ہمارے لوکل گورنمنٹ کے منتخب نمائندے اس مسئلے کو اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیتے ہیں۔ چلو مان لیا ۔ کیا آپ چترال میں منشیات فروشی کا قلع قمع نہیں کرسکتے؟۔ کیا آپ بازاروں اور محلوں کی صفائی کا کوئی نظام متعارف نہیں کراسکتے ؟۔ کیا اپ ترقیاتی کاموں کی مانیٹرنگ کرکے کام کے معیار کو بہتر نہیں بناسکتے ہیں؟ اگر ہمارے بلدیاتی نظام میں منتخب نمائندوں کو اختیارات حاصل نہیں ہیں تو یہ اس نظام کو خیرباد کیوں نہیں کرتے؟ کیا ہمارے صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے ممبران کی گمشدگی کے پوسٹ فیس بک پے نہیں آرہے ہیں؟ ہماری اسمبلیوں کے ممبران کی اگر اسمبلی میں آواز سنی نہیں جاتی تو یہ لوگ احتجاجاً مستعفی کیوں نہیں ہوجاتے۔ ؟ کیا چترال کے عوام بجلی کی ابتر صورتحال کی وجہ سے واپڈا اور منتخب نمائنداگان کو لعن طعن نہیں کرتے؟ یہ لوگ کس بنیاد پر ماہانہ اسمبلی کی تنخواہ لیتے ہیں؟ یہ لوگ کس بنیاد پر سرکاری گاڑیوں پر سفر کرتے ہیں؟ کیا ان کیلئے ڈوب مرنے کا مقام نہیں ہے؟ کیا یہ لوگ پھر عوام کے درمیان ووٹ مانگنے آئے گے؟ کیا عوام یہ اذیتیں بھول کر ان کو پھر منتخب کریں گے؟ کیا ہمارے ایم پی ایز اور ایم این اے نے عوام کی صحیح انداز میں اسمبلی میں نمائندگی کی ہے؟ کیا ہماری نئی نسل جان گئی ہے کہ ہمارے نمائندگان اس دور کے حقیقی لیڈر نہیں ہیں؟ کیا نئی نسل مستقبل قریب میں اپنے مسائل خود حل کرنے کیلئے جابر قوتوں کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوگی؟ کیا ہمارے گلستان میں کبھی آمد بہار ہوگی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
