ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ………مجھے مشیروں سے بچاؤ

………………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ


پاکستان تحریک انصاف کے چےئر مین عمران خان پشاور سے اسلا م آباد کی طرف ریلی کا آغاز کر نے سے پہلے اعلان کیا تھا کہ ہمیں اقتدار ملنے والا ہے اب ریلی منزل مقصود پر پہنچ چکی ہے تاہم اقتدار کی گاڑی ابھی نہیں آئی عمران خان کو ان کے مشیروں نے یہ نیک منشورہ دیا ہوگا کہ تم اقتدار ملنے کا اعلان کرو تو ہماری ریلی کا میاب ہوجائیگی دوسال اُن مشیروں نے مشورہ دیا تھاکہ امپائر کی انگلی اُٹھنے کا اعلان کرو تو دھرنا کا میاب ہوگا انہی مشیروں نے اُس وقت مشورہ دیا تھا کہ دوسری شادی کا اعلان کرو تو مفید ثابت ہوگا اب مشیروں نے مفت مشورہ دیا ہے کہ تیسری شادی کا شوشہ چھوڑو گے تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی غرض جتنے منہ اتنی باتیں ، جتنے مشیر اتنے مشورے ، اقتدار کے آنے کے لئے ممکنہ طور پر چارراستے ہیں باپ باد شاہ ہو ، مرتے وقت بیٹے کو جانشین بنائے تو اقتدار آجاتی ہے انقلاب آجائے اور انقلابی لیڈر کو حکومت دیدیا جائے تواقتدار آجاتی ہے تیسری دنیا کے ان پڑھ معاشرے میں مارشل لاء آتا ہے تو مارشل لاء کی صورت میں راتوں رات اقتدار مل جاتا ہے اور چوتھی صورت یہ ہے کہ جد ید زمانے کے مہذب معاشرے کی روایت کے مطابق انتخابات ہوتے ہیں انتخابی عمل میں کسی پارٹی کی اکثریت ہوتی ہے تو اس پارٹی کے سربراہ کو اقتدار مل جاتا ہے موجودہ حالات میں چاروں صورتیں مفقود ہیں ان میں سے کوئی بھی صورت عمران خان کے لئے موافق نہیں ہے بادشاہ کی ولی عہد ی کا معاملہ یہاں موجود نہیں ہے انقلابی قیادت کا معاملہ یہاں نظر نہیںآتا مارشل لاء آنے کے راستے بند ہوچکے ہیں ضر ب غضب ، اور امریکی انتخابات مارشل لا ء کے سامنے بڑی رکاؤٹیں ہیں ان رکاؤٹیں سے پاک فوج کی اعلی قیادت باخبر ہے انتخابات کا راستہ موجود ہیں لیکن انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کے حصے میں اقتدار آنے کا کوئی امکان نہیں پارٹی کی تمام تنظیمیں توڑ دی گئی ہیں بلوچستان ، سندھ ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پارٹی کا وجود نہیں ہے پنجاب میں چوہدری محمد سرور ، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے درمیان اعلیٰ درجے کی رسہ کشی اور کھینچا تانی چل رہی ہے اس اندرونی اختلاف نے ملتان ، لاہور فیصل آباد ، راولپنڈی اسلام آباد اور طاقت کے تمام مراکز میں پی ٹی آئی کو اندرونی انتشار اورخلفشار سے دوچار کر دیا ہے خیبر پختونخوا میں بھی پنجاب جیسی صورت حال ہے 27 سے زیادہ ممبران اسمبلی نے بغاوت کا عَلمَ بلند کر دیا ہے ان میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین شامل ہیں دوسری طرف حکومت سے لوگوں کی جو توقعات وابستہ تھیں وہ تو قعات پوری نہیں ہوئیں لینے کے دینے پڑگئے ہیں دوسری طرف مُشیروں کا کہنا ہے کہ اقتدار آنے والی ہے کوئی ہمت کر کے عمران خان کے کسی مُشیر سے پوچھے کہ تین سال پہلے صوبے میں جو اقتدار آیا تھا اُس اقتدار کا کیا بنا ؟ مُشیروں کے پاس آئیں ، بائیں اور شائیں کے سوا کوئی جواب نہیں ہوگا یہاں حا ل یہ ہے کہ آئیں بائیں شائیں سے حالات نہیں سد ھر تے کام کرنا پڑتا ہے ووٹروں کو مطمئن کرنا پڑتا ہے آج کا میڈیا بیحد ظالم ہے آج کسی کا نے اور لنگڑے بادشاہ کو تندرست ، بینا اور توانا دکھانے والا مصور نہیں ملے گا الپ ارسلان والا مصور نہیں ملے گا الپ ارسلان کے گھوڑے کو سات آسمانوں سے اوپر لیجانے والا شاعر نہیں ملے گا مشہور حکایت ہے ایک بادشاہ ایک آنکھ سے کا نا تھا ایک ٹانگ سے لنگڑا تھا اُس نے اعلان کیا جو مصور میری ایسی تصویر بنائی جس میں دونوں عیب نظر نہ آتے ہوں میں اُس کو انعامات سے نوازوں گا اُس کا گھر سونے کے انبار سے بھر دونگا پورے ملک سے مصور آگئے مصوروں نے بڑی کو شش کی مگر ایسی تصویر نہ بن سکی جو حقیقت کے قریب ہو اور عیبوں سے پاک ہو آخر میں ایک لڑکا آیا اُس نے کہا میں ایسی تصویر بناونگا بادشاہ نے موقع دیا لڑکے نے تصویر ایسی بنائی جس میں بادشاہ بندوق لیکر شکار کیلئے نشانہ باند ھ رہا ہے ایک آکھ بند ہے اور لنگڑے ٹانگ کو دُہر ا کر کے اس پر بیٹھا ہوا ہے تصویر ایسی تھی جو حقیقت کے قریب تھی اور بادشاہ کے دونوں عیب چھپائے گئے تھے مصور کو اتنا انعام ملا کہ اس کا گھر سونے کے انبار سے بھر دیا گیا پی ٹی آئی کے بادشاہ کو موجودہ دور میں ایسا مصور کوئی نہیں ملے گا آج کا میڈیا بھی ظالم ہے ووٹر بھی ظالم ہے مجھے سجاد حیدر یلارم کا مضمون یاد آرہا ہے جس کا عنوان تھا ’’ مجھ میر ے دوستوں سے بچاؤ ‘‘ عمران خان ہمارا قومی ہیر و ہے 1992 ؁ء میں انہوں نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تھا اُ ن کو اپنے د روازے پر جلی حروف میں لکھنا چاہیے ’’ مجھے مُشیروں سے بچاؤ ‘‘

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق