تازہ ترین

تقرریاں مکمل میرٹ کی بنیا د پر کی گئی ہیں غلط بیانی کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے۔۔۔۔۔ایم۔ایس چترال

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)ڈی۔ایچ ۔ کیو ہسپتال چترال میں حالیہ تقرریاں مکمل میرٹ کی بنیا د پر کی گئی ہیں اور کچھ لوگ بے بنیاد الزام تراشیاں کر رہے ہیں۔ اکیلا ایم۔ایس تقرری کا مجاز نہیں ان باتون کا اظہار خیال ایم۔ایس ، ڈی۔ایچ۔کیو ہسپتال چترال ڈاکٹر ٖ فیض الملک جیلانی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا۔ اُس نے کہا کہ الزام تراشوں کے خلاف ہتک عزت کا دعوی اور قانونی کاروائی بھی کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمیٹی تقرریاں کرتی ہے جسمیں ڈسٹرکٹ ناظم ، ڈپٹی کمشنر، ڈ ی۔ایچ۔او اور ڈی۔جی۔ ایچ۔ ایس پشاورکے نمائندے شامل ہوتے ہیں ۔اور تمام ممبران بشمول ایم۔ایس انٹرویو کے بعد گورنمنٹ کے دیے ہوئے گائڈ لائن کے تحت ہی تقرری کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ انٹرویو کو مزید شفاف بنانے کے لئے ہسپتال ہذا کے دو ڈاکٹروں کو بطور COOPTED ممبر ز شامل کیا گیا جو کہ تقرریوں کی شفاف ہونے کا وا ضع ثبوت ہے۔ مزید یہ کی ریٹن ٹیسٹ ایک اسکریننگ ہے جس میں شامل امیدوارکی قابلیت کو دیکھا جاتا ہے ۔ اس ٹیسٹ میں 50 % سے اُوپر نمبر لینے والے امیدواران ہی انٹرویو کے لئے منتخب ہوتے ہیں ۔ ٹیسٹ کے مذکورہ سیلکشن میں کوئی نمبر نہیں۔ کوالیفیکیشن کے لحاظ سے نمبر سیلکشن پروسس میں دئے جاتے ہیں جن کی کلکولیشن کے بعد ہی میرٹ لسٹ بنا یا جاتا ہے اور اس میں غلطی ناممکن ہے۔ صرف میٹرک میں فسٹ اور سیکنڈ ڈویژن کے لئے نمبر مخصوص ہوتے ہیں اُنہی پہ ہی فیصلہ ہوتا ہے اور بیان دینے والے APPLICANT کا میٹرک میں سیکنڈ ڈویژن ہے اور جو میرٹ پہ آیا ہے اُسکی فرسٹ ڈویژن بنتی ہے جو کہ اپنے آپ ہی بیان دینے والے کے قابلیت کی عکاسی کرتی ہے کہ اُس کے بیا ن میں کتنی صداقت ہے۔ مقرر ہ تاریخ تک و صول کی گئی درخواستیں سیلکشن پروسس میں شامل کی گئی اور یہ الزام بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد بھی درخواستیں وصول ہوئیں ۔ تمام ریکارڈز دفتر ہذا میں موجود ہیں جو کہ انتہائی سیکرٹ دستاویزات ہیں۔ اور ان کو کسی کو بھی دیکھانے کا ایم ایس پابند نہیں ہے بہر کیف لوگوں کے شکوک وشبہات کو دور کرنے لئے اُن لوگوں کو دیکھانے کے لئے بھی تیار ہیں اور وقت آنے پر کورٹ میں بھی پیش کیے جائیں گے۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق