ذاکر محمد زخمی

جشن شندور ۲۰۱۶ ؁ ء کے ایک رنگ!

ذاکر محمد زخمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…………….
ایک سال کی تعطل کے بعد اس سال جشن شندور اپنی روایتی جوش و جذبہ اور رنگ سے بھی بڑھ کر منعقد ہوئی ۔اس سے پہلے ۲۰۱۴ ؁ میں گلگت بلتستان کی شرکت نہ کرنے کی بنا وہی جوش اور خوبصوراتی کہیں نظر نہیں ائی تھی جو شندور میں ہوا کرتا تھا بس ایک روٹین سی ہی ہوئی تھی۔اس کے بعد ۲۰۱۵ ؁ جشنِ شندور سیلاب کی نذر ہوگئی ۔لیکن اس سال گلگت کی بھر پور انداز میں شرکت سے نہ صرف وہ پرانے رنگ بحال ہوئے ۔بلکہ یہ کہا جائے تو کوئی مبالعہ ارائی نہ ہوگا کہ شندور کی تاریخ میں اتنی زیادہ تماشائی اور شائقین شائد پہلی بار ائیے ہو ۔گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں کو تو اسی دن کا انتظار رہتا۔ہے کہ کب جشنِ شندور منعقد ہو گی کیونکہ سال میں یہ ہی ایک موقع میاثر اتی ہے کہ اپنی روایتی،تاریخی رشتوں، محبتوں کی تجدید اور انہیں زندہ رکھنے کا، اور کندھے سے کندھا ملا کے شندور کے سبزہ زار میں نہ صرف میچ سے لطف اندوز ہونے کابلکہ اپنی روایتی تاریخ اور مشترکہ ثقافت کو بھی از سنر نو پرکھنے کا ۔چترال اور جی۔بی کے لوگ ۱۲۵۰۰ فٹ بلندی پر دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم امن پسند لوگ ہیں ہمارے سرشت میں امن و محبت شامل ہے، ہم ایک تھے ،ایک ہیں اور ایک رہینگے ۔ہمارے درمیان کو ئی فاصلہ نہیں کوئی تنازعا نہیں کوئی دوری نہیں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے تو یہ ان کی غلط سوچ ہے اگر کوئی اس کوشش میں ہے کہ ان کے درمیان خلا پیدا کی جائے خلش پیدا کی جائے گی تو انہیں اپنے سوچ پر نظر ثانی کرنا چاہیے ۔ جشن سے قبل جو کچھ میڈیا یا اخبارت کے ذریعے دیکھنے کو ملی وہ شندور کے سبزہ زار میں کہیں بھی نظر نہیں ائی وہاں تو سارے ایک فیملی کی طرح تمام حالات سے لطف اندوزہو رہے تھے چاہے پولو ہو، ثقافتی محفل ہو یا عام نشست و بر خاست کہیں نفرت نام کی کوئی چیز نہیں تھی بس محبت ہی محبت، اپنائیت،خلوص،ہمدردی سب کچھ وہاں تھی بس کچھ نہیں تھی تو نفرت۔ہم حیران تھے کہ یہ نفرت صرف میڈیا تک محدود ہے اور دونوں علاقے کی لوگوں کی عملی زندگی میں دور تک اس کا کوئی اثر نہیں۔یہ ہمارے لیے شکر کا ہی مقام تھا کہ دونوں علاقے کے عوام با شعور ہیں وہ اپنے درمیاں فاصلہ پیدا کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
قلم قبیلہ چترال اور سی ۔وائی ۔سی فار پیڈ چترال کو ٹورزم کار پوریشن کی طرف سے جشنِ شندور ۲۰۱۶ ؁ ثقافتی محفل سجھانے کی زمہ داری دی گئی تھی ۔قلم قبیلہ چترال اور چترال یوتھ کلب فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ مشترکہ طور پر شندور میں اس محفل کو یادگار بنانے کی بھر پور کوشش کی او ر اس میں کتنی کامیابی ہوئی یہ تو وہاں حاضرین کے رائے پر ہی منحصر ہے ۔قلم قبیلہ چترال اور چترال یوتھ کلب کویہ اعزاز حاصل رہا کہ شندور کی تاریخ میں پہلی بار ٹورزم کارپوریشن خیبر پختونخواہ ان پر بھر پور اعتماد کیا۔ اور پروگرام کو مکمل ان کی مرضی پر چھوڑا۔دوسرے سالوں میں ان جیسے پروگرامات میں چترال کو معمولی سا حصہ دیا جاتا تھا یا بالکل حصہ ہی نہ دیا جاتا۔لیکن اس سال چترال اور کھوار کی ایک محسن کی کوششوں سے چترال کو نہ صرف نمائیندگی دی گئی بلکہ پروگرام کی کامیابی کے جملہ زمہ دار یاں قلم قبیلہ چترال اور سی۔وائی۔سی کوحولہ کرکے ان پر اعتماد کیاگیا ۔ٹورزم کارپوریشن کے جنرل منیجر محترم محمد علی سیدؔ ہر حالات پر سمجھوتہ کرنے والا شریف النفس شخصیت ہیں وہ اپنی کسی مرضی کو مسلط کرنے کے قائل ہرگز نہیں بلکہ پروگرامات کو منظم کرنے، کامیاب بنانے کی ہر تجویز کو خندہ پیشانی قبول فرماکر پروگرام کو یادگار بنانے میں بھر پور معاونت کے قائل ہیں ۔اپنے اوپر انتہائی زمہ دارویوں کے بوجھ کے باوجود ہمہ وقت ان کو حاضر اور مستعید پایا ۔ منتظمین اپنے طرف سے پروگرام کو یادگار بنانے کی بھر کوشش کی تاہم کوتہیاں نہ ہونے اور کم و بیشیاں اتنی بڑی پروگرام میں نہ ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا۔ پھیر بھی چترال کے معروف فنکار، مزاحیہ فنکار اور نوجواں ابھرتے ہوئے فنکار اس پروگرام کو رونق دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔منصور علی شبابؔ ، انصار نعمانیؔ ، شجاعت علی صہباؔ ،حسیب ثانیؔ ۔ مزاحیہ فنکار صوبیدار تواکل،عبد الجبار غمگینؔ ،منورشاہ رنگینؔ اور افسر علی آبادؔ اور دیگر نوجوان فنکار محفل کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بنی اور گلگت بلتستان سے کھوار کے معروف فنکار رحمت علی اور سنیئر فنکار نادر خان اس پروگرام میں خصوصی طور پر شرکت کرکے رونق کو دوبالاکیے اورا پنے بہترین فن اور چترال سے خصوصی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس محفل کو عزت بخشی اور دونوں علاقے کے شائقین انہیں دل کھول کر داد دی۔ ان کی شرکت سے یہ بات واضح ہو گئی کہ شندور کے آر پار کے لوگ ایک دوسرے سے لازوال قربت رکھتے ہیں۔ان کے الفاظ سے دونوں علاقوں کے لیے محبت اور جذبہ کی عکاسی ہوتی ہے ۔پروگرام کے دوسرے رات کئی ایک وی۔ائی۔پیز بھی پروگرام میں شرکت کرکے پروگرام کی رونق کو دوبالا کیے ۔ قم قبیلہ چترال اور سی۔وائی۔سی فار پیڈ جملہ حاضٗرین کے ساتھ تمام وی۔ائی۔ پیز کا مشکور ہے جو وہاں تشریف لاکر ہمیں عزت اور پرگرام کو رونق بخشی ا ور اپنے علاقے کی روایتی ثقافت سے محبت کا اظہار کیا ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

إغلاق