تازہ ترین

قومی اسمبلی کے سٹینڈنگ کمیٹی برائے مواصلات کے ممبران 22اگست سے چترال کا چار روزہ دورہ کریں گے۔شہزادہ افتخار الدین

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس) ممبر قومی اسمبلی چترال شہزادہ افتخارالدین نے کہا ہے ۔کہ قومی اسمبلی کے سٹینڈنگ کمیٹی برائے مواصلات کے ممبران 22اگست سے چترال کا چار روزہ دورہ کریں گے ۔ جو کہ چترال کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا اہم دورہ ہو گا ۔ اسٹینڈنگ کمیٹی چترال میں اپنے قیام کے دوران لواری ٹنل کی وزٹ کرے گا ۔جس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام تعمیراتی کام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیں گے ۔ کمیٹی چترال گرم چشمہ روڈ ، چترال بمبوریت روڈ اور اپر چترال روڈ کا جائزہ بھی لے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کمیٹی 22،23 تاریخ کو لواری ٹنل ، گرم چشمہ اور بمبوریت کا دورہ کریں گے ۔ جبکہ 24تاریخ کو شندور اور بروغل کے فضائی دورے کے بعد واپسی ہو گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے اقتصادی راہداری اور چترال تاجکستان روٹ کے حوالے سے بات کرنے کا یہ بہترین موقع ہے ۔ نیز چترال کے مسائل و مشکلات کے بارے میں معزز اراکین کو قریبی مشاہدہ کرنے کا موقع ملے گا ۔ انہوں نے کہا ، کمیٹی میں واٹر اینڈ پاورکے ممبران بھی شامل ہیں ۔ اس لئے چترال میں بجلی کے حوالے سے موجودہ وقت میں درپیش مسائل اور مستقبل کے بارے میں اقدامات کے سلسلے میں چترال کے مطالبات پیش کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اُن کی کوششوں سے چترال میں سو فیصد الیکٹریفیکیشن کیلئے سروے کا کام مکمل ہو چکا ہے ۔ اور تعمیری کام کا آغاز بھی کیا گیا ہے ۔ اس لئے چترال کا کوئی بھی گھر بجلی کی نعمت سے محروم نہیں رہے گا ۔ ایم این اے شہزادہ افتخار نے کہا ۔ کہ وفا قی حکومت کی طرف سے چکدرہ ٹو چترال روڈ تعمیر کے مراحل میں داخل ہو چکا ہے ، 10ارب20کروڑ روپے کی لاگت سے اکتوبر میں تعمیر کا کام چترال سے شروع کیا جائے گا ۔ جس کے بعد چکدرہ ٹو تیمرگرہ اور آخر میں تیمرگرہ ٹو لوئر دیر روڈ تعمیر ہوگی ۔ انہوں نے کہا ،کہ لواری ٹنل اور چکدرہ چترال روڈ وفاقی حکومت کی طرف سے چترال کیلئے سب سے بڑا تحفہ ہیں۔ اس سے چترال میں تجارت اور معاشی استحکام کی راہیں ہموار ہوں گی ۔ اور چترال ایک تابناک دور میں داخل ہوگا ۔ جبکہ اقتصادی راہداری اور چترال تاجکستان روٹ کی تعمیر سے یہ خطہ عالمی تجارتی منڈی کی حیثیت حاصل کرے گا ۔ جس کی موجودہ دور میں ضرورت ہے ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق