ارشاد اللہ شاد

(رموزِشادؔ )………’’معراج میرے استاد تھے اور میں اُن کا عقیدت مند شاگرد‘‘

……….. تحریر: (ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)


16اگست2016کی کیلنڈر کی بہت سی تاریخوں میں سے ایک تاریخ ہی نہیں، صدق و صفا کا مظہر اور عہدو وفا کی تکمیل کا بھی دن ہے۔ اس روز استاد محترم جناب معراج الدین صاحب مرحوم کا حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اس دارفانی سے رخصت ہوگئے۔
وہ اک شجر سایہ دار ، ابر گوہر بار، شہر علم کے مینار اور میدان سیاست کے شہسوار تھے۔ اب فضا ساکن ، ہوا ساکت ، صبا دم بخود اور وقت اداس ہے۔ علم و دانائی و اجتہاد کا ماتم ہے۔
جناب معراج الدین صاحب مرحوم کی شخصیت حُسن و خوبی کے رنگارنگ پھولوں سے حسین گلدستہ تھی، ان کی نمایاں حسن حرکت و عمل اور جہد مسلسل تھا۔
’’بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا‘‘
اس خاکسار پر مبالغہ آرائی کی تہمت نہ لگائی جائے تو میں یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کرتا کہ استاد معراج الدین صاحب مرحوم دیکھنے میں تو واقعی ایک انسان نظر آتے تھے لیکن ان کے خصائص اور صفات سو انسانوں کے نہ سہی پچاس انسانوں کے عمل سے باہر کی چیز تھے۔ ان کی وجود گرامی اللہ کی قدرت کا شاہکار تھا اور ایسے شاہکار روز بروز پیدا نہیں ہوتے۔ احمد ندیم قاسمی صاحب نے اس بات کو کیسے خوبصورت انداز میں پیرائے میں بیان کیا ہے۔
’’جس بھی فنکار کے شاہکار ہو تم
اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا‘‘
وہ چونکہ مجموعہ کمالات اور کامل صفات کے مالک تھے۔ آہ اقلیم علم کا تاجدار رخصت ہوگیا ہے اور سینکڑوں طلّاب وقت یتیم ہوگئے۔ معراج الدین صاحب مرحوم ہمیشہ ہر اچھے کام اور اچھی تحریک کے موئد رہے ۔ وہ نہ صرف اپنے مکتبہ فکر کے طلبہ اور اساتذہ کیلئے سرمایہ تھے بلکہ معاشرے کے ہر جملہ افراد کے نزدیک محترم اور معتبر شخصیت کے حامل تھے۔ ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوگیا ہے اس کا پُر ہونا اگر ناممکن نہیں تو دشوار ضرور ہے۔ معراج الدین صاحب مرحوم کی خدمات اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہونگے انشاء اللہ ، انہوں نے بہت اخلاص اور جذبے کے ساتھ درس و تدریس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔
اللہ کریم نے معراج صاحب مرحوم کو جس نمایاں وصف سے نوازا تھا اور جس کی بدولت وہ آفتاب علم بن کر چمکے وہ ان کی عملی جستجو و تلاش اور اس راہ میں محنت اٹھانے کا جذبہ تھا ۔ تدریس کو زندگی کا مقصود اصلی بنایا تھا اور اس وجہ سے وہ اپنی تمام مشغولیات پر اس کو ترجیح دیتے تھے۔ اسلئے آپ تدریس اور افادہ علم کو خصوصی اہمیت دیتے تھے۔
راقم الحروف بھی 9thکلاس میں اس کی سرپرستی میں زیر تعلیم رہا تھا۔ سر معراج الدین صاحب مرحوم جب کلاس روم میں داخل ہوتے تو تمام طلباء ادب کے ساتھ کھڑے ہو کر سلام کرتے ۔ اور مرحوم صاحب اسباق کے تمام متعلقات کو جمع کرکے ان کو ایسی ذہنی ترتیب دیتے تھے کہ جو طلباء کے ذہنی اور علمی سطح کے مطابق ہوتی تھی۔ اور پھر دورانِ کلاس اس کو اس انداز سے بیان کرتے کہ نہ تو اسباق میں تشنگی محسوس ہوتی تھی اور نہ ہی طالبعلم اس کو اپنے لئے بار سمجھتا، بلکہ اعتدال اور توازن اور طالبعلم کی علمی ضروریات کا بھر پور لحاظ رکھتے تھے۔
معراج الدین صاحب مرحوم کو قناعت کی صفت سے وافر حصّہ ملا ہوا تھا۔ اس کا خاص وصف جس کی وجہ سے وہ دیگر ہم عصروں سے ممتاز نظر آتے تھے وہ ان کی انکساری اور تواضع تھی۔
فروتنی کا یہ عالم تھاکہ ہر ایک سے جھک کر ملتے تھے ۔ آپ کے ملنے کا طرز ہر خاص و عام اور عالم و جاہل کے ساتھ ایک جیسا تھا۔ معراج الدین صاحب مرحوم سچائی کی سیاست کو دین کا ایک اہم شعبہ سمجھتے تھے اسلئے آپ عملی نہیں بلکہ نظریاتی سیاست کے بہت بڑے علمبردار تھے۔تنظیم اساتذہ چترال کے کئی بار صدر رہ چکے تھے اور تحریک اسلامی کے سرگرم کارکن تھے۔
المختصر یہ کہ جناب معراج الدین صاحب مرحوم وہ بے ضرر شخصیت کے مالک تھے جس کے کردار سے کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچا تھا۔ آج ہم میں استاد محترم مرحوم صاحب جو علم و عمل کا وہ پہاڑ موجود نہیں ہے۔ وہ مسکراتا چہرہ موجود نہیں ہے۔ اگر ہیں تو ان کی باتیں یا پھر لو دیتی ہوئی یادیں ۔ لیکن یہ بھی تو کچھ کم سرمایہ نہیں بس صرف محسوس کرنے والا دل اور دیکھنے والی آنکھ چاہیے ۔ تو پھر وہ کہیں نہیں گئے۔
’’ جانے والے رہے گا برسوں
دل سے نزدیک آنکھ سے دور‘‘
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہے کہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں اور ان کی تمام لغرشوں کی مغفرت فرمائیے اور اپنی برکت سے ان پر رحمت فرمائیں اور انہیں اپنا قربت عطا فرمائیں۔ اور حورعین سے ان کا نکاح فرمائیں اور ان کے اہل و عیال ، متعلقین اساتذہ و تلامذہ کو صبر جمیل عطا فرمائیے اور بے شک اللہ ہی کیلئے ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کیلئے ہے جو وہ عطا کرے اور ہر چیز کیلئے اس کے پاس ایک وقت مقرر ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق