محمد صابر

پاکستان ایک نظر میں 

محمد صابر
 سیاسیات کا ایک ادنی طالب علم ہونے کے ناطے اس وقت ملکی حالات اور خطے کی مجموعی صورت حال کو پیش نظر رکھا جائے تو بہت سے عوامل ہماری انکھوں کے سامنے نمودار ہونگے- پاکستان جغرافیائی طور نہایت اہمیت کا حامل ایک اسلامی فلاحی ریاست ہے – وطن عزیز میں دو قوتیں آپس میں باہم دست و گریبان ہیں – ایک گروہ یہ چاہتا کہ ہہ ملک سیکو لر لبرل مادر پدر آزاد ہو- جبکہ ایک طبقہ چاہتا ہے کہ ہہ ملک اسلام اور کلمہ کے نام پر ہمارے بڑوں نے بنایا تھا -لہذا اس میں اسلامی نظام قانون ہو- عدل وانصاف پر مبنی ایک ایسا نظام ہو جہاں امیر غریب سبہی کو یکساں موقع فراہم ہو- یہ قوم باقی ماندہ دنیا کے لیےایک مثال بنے- اپنے ہر ایک شہری کو مساوی حقوق دینے کی ضامن ہو- کوئی پنجابی کوئی پٹھان نہیں کوئی سندھی اور بلوچ نہیں – لیکن آج کا پاکستان ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے -اس کے بےشمار وجوہات ہیں- جیسا کہ جغرافیائی اعتبار سے ہمارے ارد گرد دوست بھی ہیں اور دشمن بھی-اس کے علاوہ افغان مہاجرین بھی ان ہی عوامل میں شامل ہیں – ہمارے ہاں مزہبی منافرت فرقہ واریت اور دہشت گردی میں براہ راست انڈیا ملوث ہے – جو کہ روز روشن کی طرح عیاں ہے – پاکستان بننے کے بعد سے ہی بھارت نے پاکستانی خطے میں مداخلت کی جسارت شروع کردی تھی ، جو کہ آج تک جاری و ساری  ہے- جس کی تازہ مثال انڈین آرمی کا حاضر سروس افیسر کلبوشن یادو ہے-پاکستان اور ہندوستان میں کئی بار جھنگیں بھی چیھڑ چکی ہیں- لیکن انڈیا بعض نہیں آیا – ایک طرف کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کی ہوئی ہے -تو ساتھ ساتھ مسلمانان ہندوستان کا جینا بھی محال کیا ہوا ہے – خطے میں دوسری بڑی طاقتیں بھی ہیں -مثال کے طور پر چین جو کہ پاکستان کا قریب ترین دوست ہے ازمایہ ہوا ساتهی ہے-چین پاکستان کی ترقی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا رہا ہے-چین سے ملحق برادر اسلامی ملک افغانستان ہے جو کی اپنی بقا کی جھنگ لڑ رہا ہے- افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات اتنے اچھے نہیں- باوجود 35 لاکھ افغان بھائی بہنوں کو ہم نے پناہ دی جس کا سلسلہ جاری و ساری ہے- پاکستان اور افغانستان کے بارڈر کےساتھ ایک اورملک جس کا نام ایران ہے – سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کو سب سے پہلے جس ملک نےتسلیم کیا وه ایران ہی تها- جس وقت شاہ پہلوی شاہ ایران تهے- دونوں ملکوں کے تعلقات بہت ہی مثالی تهے- بعد ازاں 1979 کے انقلاب ایران کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہو گئے – ستم ہہ کہ ہم سے اچھے اور بہتر تعلقات ایران کے بھارت کے ساتھ ہیں- قائد اعظم رح نے کہا تها کہ پاکستان قائم رہنے کےلیے بنا ہے اور یہ قائم رہے گا- ہم سبہی جانتے ہیں کہ نامساعد حالات میں پاکستان  کا بننا کسی معجزہ سے کم نہیں تها- اور آج کا پاکستان جن مشکلات کا شکار ہے– دشمن وطن عزیز کو ناکام ریاست بنانے کےلیے ہرایک ہربہ استعمال کر رہا ہے- مگر سلام ہےافواج پاکستان اور خاص کر ہماری isi کو جو دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکهے ہوئے ہیں . دعا ہے کہ
خدا کرے کہ میرے ارض پاک پر اترے
وه فصل گل جسے اندیشئے زوال نہ ہو
امین
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق