تازہ ترین

ضلع کونسل کے بجٹ اجلاس کے تیسرے روز ایوان کے اراکین کے درمیان تند وتیز جملوں کے تبادلے سے بدمزگی کا شکار ہوکر رہ گئی

چترال (ظہیر الدین سے) ضلع کونسل کے بجٹ اجلاس کے تیسرے روز ایوان کے اراکین کے درمیان تند وتیز جملوں کے تبادلے سے بدمزگی کا شکار ہوکر رہ گئی اور اجلاس کے آخر میں خواتین اراکین کونسل بھی ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ بدھ کے روز ضلع کونسل کا اجلاس کنوینر مولانا عبدالشکور کے زیر صدارت شروع ہوا تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد حسین اور پی ٹی آئی کے عبداللطیف کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور دونوں نے اپنے اپنے تقاریر میں ایک دوسرے کی پارٹی قیادت پر حملہ کردیا ۔ صورت حال کو بگڑتا ہوا دیکھ کر ضلع ناظم مغفرت شاہ نے فلور سنبھالتے ہوئے اتحاد واتفاق پر لمبی تقریر کرڈالی جس کے بعدغصے میں ڈوبے ہوئے ارکان کونسل کے جذبات معمول پر آگئے۔ انہوں نے کہاکہ اس ایوان کے تمام معزز ارکان پارٹی وابستگی رکھتے ہیں لیکن ہمیں اپنے ایک دوسرے کی مرکزی قیادت پر کیچڑ اچھالنے سے کوئی فائدہ حاصل ہونے کی بجائے نقصان اور خسارے سے دوچار ہوں گے کیونکہ اس صورت میں ہم علاقے کے مسائل پر بحث اور ان کے لئے حل ڈھونڈنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھاہونے میں وقت ضائع کردیں گے۔ا نہوں نے ارکان کونسل پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ ٹھوس حقائق کے ساتھ ایوان میں مسائل یا کسی سرکاری محکمے خلا ف شکایت بیا ن کریں۔ انہوں نے مختلف محکمہ جات کے بارے میں ایوان کے اسٹینڈنگ کمیٹیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹیاں ایوان کی آنکھ اور کان ہیں جوکہ حکومتی اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھتی ہیں۔ کنوینر مولانا شکور نے محکمہ جنگلات میں بھرتیوں سے متعلق یوتھ کونسلر عبدالوہاب کی شکایت پر میرٹ کی خلاف ورزی کی تحقیقات کے لئے اسٹنڈنگ کمیٹی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ کسان کونسلر رحمت الٰہی نے پشاور شہر میں چترال کے لئے گاڑیاں چلانے والی غیر قانونی اڈوں میں غیر معیاری سروس دینے اور کرائے کے نام پر مسافروں کو لوٹنے کے سلسلے کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگرچہ کروڑوں روپے کے فنڈز چترال بھیجے جاتے ہیں لیکن اکثر واٹر سپلائی اسکیم ناکامی سے دوچار ہیں جن میں ایون کا مثا ل انہوں نے پیش کیا۔ پی ٹی آئی کے لیڈر اور چرون سے رکن کونسل رحمت غازی خان نے اپنے خطاب میں ارکان کونسل میں افہام تفہیم اور بھائی چارے کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا انعام الحق نے سانحہ ارسون میں ابتدائی امداد کے بعد حکومتی امداد کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ علاقے میں انفراسٹرکچر کی بحالی پر کوئی کام نہیں ہوا ہے ۔ جے یو آئی کے مولانا عبدالرحمن نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں دوسرے سہولیات کی فقدان کے ساتھ ایمبولینس کی ناکارہ گاڑی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس گاڑی میں مریضوں یا زخمیوں کے ساتھ جانے والے تندرست افراد بھی پشاور پہنچ کر مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے چترال شہر میں مختلف دیہات کے لئے بس اڈوں کی زبوں حالی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ان میں سہولت نام کی کوئی چیز دستیاب نہیں۔ انہوں نے ایوان کو متعلقہ اصول وضوابط کے مطابق چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اے پی ایم ایل کے رکن شہزادہ خالد پرویز نے چترال کے طول وغرض میں وفاقی حکومت کی جانب سے کمیونیکیشن سیکٹر میں سڑکوں کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بڑے بھائی ایم این اے شہزادہ افتخارالدین نے بجلی گھر کی اپ گریڈیشن اور ضلعے کے مختلف علاقوں میں ٹیلی نار کے ٹاؤر نصب کرانے میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں محکمہ پولیس میں لیڈی کنسٹیبلوں کی بھرتی کے لئے خواتین میں دوڑ کا مقابلہ کرانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کے لئے اس سلسلے کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ کوشٹ سے پی ٹی آئی کے رکن کونسل غلام مصطفی ایڈوکیٹ نے ارکان کونسل پر زور دیا کہ وہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں دئیے گئے اختیارات کے مطابق ہی کسی محکمے کے بارے میں تحقیقات کرلیں۔ خاتون رکن کونسل حصول بیگم نے سرکاری محکمہ جات میں بھرتی کے لئے چناؤ کرنے والا ادارہ این ٹی ایس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے انٹرویو اور دوسرے کاموں کے سلسلے میں دور دراز دیہات سے چترال آنے والی خواتین کے لئے ضلعی حکومت کی جانب سے ایک ویمن ہاسٹل کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔ ایوان کی صورت حال اس وقت دوبارہ بگڑ گئی جب ایون سے جماعت اسلامی کے رکن کونسل مولانا عماد الحق نے اپنے تقریر میں خواتین کے لئے پردے کی شرعی احکامات بیان کرنا شروع کردیا ۔ اے پی ایم ایل کے رکن حصول بیگم نے ایوان سے واک آوٹ کرتی ہوئی دوسروں کو ترغیب دی لیکن ان کے ساتھ صرف ایک خاتون ایوان سے باہر چلی گئی لیکن چند منٹوں کے بعد تمام خواتین اٹھ کر چلے گئے ۔ کنوینر مولانا عبدالشکور نے ان کو مناکر واپس لانے کے لئے جماعت اسلامی کے امیر مولانا جمشید احمد اور جے یو آئی کے قاضی فتح الرحمن کو خواتین چیمبر بھیج دیا اور ابھی ان کو مناکر واپس لانے کی کوششیں جاری تھیں کہ نماز ظہر کے آذان کے ساتھ کنوینیر نے ایوان کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق