ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا…….سارک کا مستقبل ؟

……………ڈاکٹر عنایت للہ فیضی ؔ …………


صدا لبصحراساوتھ ایشین اسو سی ایشن فار ریجنل کو اپریشن (SAARC)جنوبی ایشاء کے ممالک کے درمیان علاقائی تعاون کی تنظیم ہے اس کی بنیاد اُس وقت رکھی گئی جب پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی بنگلہ دیش کے چیف مارشل لاء ایڈ منسٹر یٹر حسین محمد ارشاد نے سارک کی بنیاد رکھتے ہوئے ایک خوبصورت نظم میں سارک کی مقاصد پر روشنی ڈالی تھی وہ نظم سارک کے دستاویز کا حصہ ہے حسین محمد ارشاد نے اپنی نظم کے آخر میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ’’پودا تناور درخت بن کر پھل اور پھول دیگا جس کے جنوب ایشیاکے غربت زدہ عوام استفادہ کرینگے ‘‘26اگست کے اخبارات نے اسلام اباد میں سارک ممالک نے وزرا ئے خزانہ کی اہم میٹنگ جو خبریں شائع کیں ان خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ حسین محمد شاہ نے پودے کے پھلنے پھولنے کا جو خواب دیکھاتھا وہ خواب بکھر چکاہے پودے کی جڑیں بوسیدہ ہو چکی ہیں تنا سوکھ کر کانٹا بن چکا ہے او ر یہ پودا درخت ہونے سے پہلے زمین بوس ہونے والا ہے اسلام اباد کا وزارتی اجلاس انے والے نومبر میں اسلام اباد میں منعقد ہونے والے سارک سربراہ اجلاس کی تیاری کے سلسلے میں منعقدد ہوا تھا اجلاس کی میزبانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کی وزیر اعظم میاں محمد شریف نے آخری روز سارک وزرائے خزانہ کے اجلاس سے خطاب کیا تقریریں بہت خوب صورت تھیں مگر ان میں جان نہیں تھی سارک کے سکرٹری جنرل شیر بہادر تھاپانے اس امید کا اظہار کیا کہ نومبر میں ہونے والی انیسویں سارک سربراہ کانفرنس کا میاب ہوگی مگر کسی طرح کا میاب ہوگی سارک کے دو اہم ممالک بھارت اور بنگلہ دیش نے سربراہ کانفرنس کی تیاری کے سلسلے میں ہونے والے وزارتی اجلاس کا بائیکاٹ کیا اب تک سارک کے 18سربراہ اجلاس ہوتے ہیں ان میں صرف 3اجلاس ایسے منعقد ہوئے جن کے کسی رکن ملک نے بائیکاٹ نہیں کیا رکن ممالک کی تعداد بھی کوئی زیادہ نہیں پاکستان بھارت ،بنگلہ دیش ،سری لنکا ،مالدیپ ،بھوٹان اور نیپال اس کے ممالک ہیں افغانستان نے بعد میں روکنیت حاصل کی ہے 8ممالک کی اس تنظیم میں اس وقت پاکستان ،بھارت ،بنگلہ دیش اور افغانستان میں آپس میں دشمن ہیں اگر چہ افغان وزیر خزانہ نے وزارتی اجلاس کا بائیگاٹ نہیں کیا تاہم افغان صدر ڈاکٹراشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیوعبداللہ ،عبدللہ سربراہ اجلاس کے لئے پاکستان نہیں آئینگے ہوسکتاہے نیپال اوراور سری لنکا میں سے بھی کسی ایک ملک کو بائیکاٹ پر امادہ کیا جائے اس طرح اسلام اباد کا سارک سربراہ اجلاس کامیابی سے دو چار نہیں ہوگا اگر گزشتہ 18اجلاسوں کے نتائج پر غور کیا جائے تو تین عشروں پر محیط عرصے میں سارک کی کوئی ایسی کامیابی نہیں جس پر فخر کیاجاسکے باہمی تجارت ،وفود کے تبادلے ،اپس میں ویزا کی پابندیوں میں نرمی ،تعلیم ،صحت ،مواصلات کے شعبوں میں تعاون ،سیاحت اور کھیلوں کے فروغ کے لئے باہمی تعاون یا نوجوانوں کی فنی تربیت کے لئے آپس میں مفاہمت پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر کوئی ایک سمجھوتہ بھی سامنے نہیں آیا فلم ،ریڈیو ،ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ کے شعبوں میں کسی تعاون پر کبھی بات نہیں ہوتی باہمی تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرنے پر کوئی مفاہمت نہیں ہوئی سارک کو فوجی ،مالیاتی اور انتظامی کنفیڈ ریشن میں تبدیل کرنے کا مسئلہ کبھی نہیں اٹھایا گیا سارک کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ پاکستان نے بائیکاٹ کیا ،بھارت نے بائیکاٹ کیا ،سری لنکا نے بائیکاٹ کیا ،نیپال نے بائیکاٹ کیا ،مالدیپ نے بائیکاٹ کیا ۔وزارتی اجلاس بے نتیجہ رہا اور سربراہ اجلاس نا کام ہو ا 1960کے عشرے میں آرسی ڈی پی کے نا م سے پاکستان ایران اور ترکی کے درمیان تعان کی تنظیم بنائی تھی اس تنظیم اب کوئی نام بھی نہیں لیتا اس طرح اگلے 10سالوں میں سارک بھی عبرت ناک انجام سے دوچار ہو جائیگی میں سارک کو بد دعا نہیں دیتا حالات کو دیکھ کر سارک کا جو مستقبل مجھے نظر آتا ہے وہ سب کو نظر آنا چاہئے علاقائی تعاون تنظیموں میں سارک کی کہانی بھی ناکامی اور نامرادی کی عبر ت نا ک کہانی ہے اسلام اباد میں ہونے والے آئندہ سربراہ اجلاس کا ایجنڈا بھی کوئی انقلابی ایجنڈا نہیں ہے اس میں کسی بھی شعبے میں تعاون کی ٹھوس اور قابل عمل تجویز نہیں ہے مثلاًسارک کی یونیورسٹیوں کے ایک ہزار طلبہ و طالبات کے لئے وظائف فراہم کرے گا مثلاًنوجوانوں ،کھلاڑیوں ،فنکاروں ،شاعروں ،ادیبوں اور صحافیوں کے 200وفود اگلے 4سالوں میں 8سارک ممالک کا مطالعاتی دورہ کرینگے مثلاًسارک ممالک کے درمیاں تجارت کا حجم 200فیصد بڑھا یا جائے گا ایسی کوئی بات ایجنڈے میں نہیں ہے ہم نے چوتھی جماعت کی کتاب میں پڑھا تھا کہ‘‘اکسیجن بے رنگ ،بے بو،بے ذائقہ گیس ہے ‘‘سارک سربراہ کانفرنس کا ایجنڈا بھی ایسا ہی ہے اس میں نہ رنگ ہے نہ خوشبو ہے نہ ذائقہ ایسی باتیں ہیں جو کسی بھی جگہ ،کسی بھی فورم پر کسی بھی موضوع کے حوالے سے کہی جاسکتی ہیں مثلاًب باہمی تعاون اچھا کام ہے ایک دوسرے کا احترام ہونا چاہئے ایسی باتوں سے کون انکار کرتا ہے مگر سارک کے حوالے سے یہ باتیں غلط ہیں سارک کے ۳ ممبر ملکوں کے درمیاں پکی دشمنی ہے اس لئے سارک اکاایک ہی مستقبل ہے وہ یہ کہ سارک کی تنظیم کو باعزت طور پر تحلیل کر کے نا کامی کی کہانی کو یہاں ختم کر دیا جائے اس کہانی کو جتنا آگے بڑھائینگے اتنی ہی ناکامیاں نظر آئینگی بھارت ،بنگلہ دیش،افغانستان اور پاکستان ایک فورم پر کبھی اکھٹے نہیں ہو سکتے اس لئے سارک کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق