تازہ ترین

کوہاٹ میں شادی شدہ چترالی خاتون کو قتل کردیا گیا/لاش آبائی علاقہ میں سپردخاک کردی گئی؛ دروش میں احتجاجی جلسہ

دروش(نمائندہ چترال ایکسپرس) چترال سے تعلق رکھنے والی خاتون کو کوہاٹ میں نامعلوم افراد نے قتل کردیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اوسیک دروش سے تعلق رکھنے والی مسمۃ فرخندہ دختر نور محمد جنکی کوہاٹ کے علاقے میں مسمیٰ احمد نواز ولداعتبار خان کے ساتھ شادی ہو چکی تھی ۔ گذشتہ دنوں مقتولہ کی لاش انکے خاوند کے گھر کے قریبی علاقے سے ملی۔ لاش پر بے تحاشہ تشدد کے نشان پا ئے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ مقتولہ کے شوہر نے اس ضمن میں دو دن قبل اپنی اہلیہ کے گمشدگی کی اطلاع مقامی تھانے کو کی تھی ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مقتولہ اپنے شوہر کی دوسری بیوی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ خاتون کو چھپکے سے دفنایا جارہا تھا کہ اطلاع پر کوہاٹ کے جرما علاقے کی پولیس نے کاروائی کرکے لاش اپنی تحویل میں لی اور مقتولہ کے رشتہ داروں کے حوالے کیا۔
درایں اثناء مقتولہ کی لاش کو کوہاٹ سے چترال پہنچا کر آبائی علاقے میں سپردخاک کردیا گیا ۔ مقامی مشتعل افراد نے مقتولہ کی لاش ٹی ایچ کیو ہسپتال دروش پہنچائی تاکہ اسکا پوسٹ مارٹم کیا جائے۔ نماز ظہر کے بعد دروش چوک میں ایک احتجاجی مظاہر ہ بھی منعقد کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں مقامی لوگوں نے شرکت کی اور اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بغیر تحقیق کے زیریں اضلاع میں شادی کرانے پر مستقل پابندی عائد کی جائے اور اس حوالے ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے۔ احتجاجی جلسے سے معروف عالم دین و سماجی شخصیت قاری جمال عبدالناصر، ممبر ضلع کونسل مولانا انعام الحق، وی سی ناظم عمران الملک و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس ضمن میں انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں اور مقتولہ کے خاوند اور اسکے بیٹوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔ مقررین نے چترال سے باہر شادیوں اور بڑھتے ہوئے نا خوشگوار واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس ضمن میں عوامی آگاہی زور دیا۔
درایں اثناء انجمن دعوت عزیمت تحصیل دروش کے صدر صلاح الدین طوفان نے ٹیلی فون پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے مقتولہ کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا ہے وہ انتہائی ظالمانہ اقدام ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کے روک تھام کے اقدامات کئے جائیں۔



اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق