محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان……’’استاد کی ترقی‘‘

……محمد جاوید حیات


25سال ایک کیڈر میں جان کھپانے کے بعد ایک استاد کی ترقی ہوتی ہے ۔۔۔داڑھی میں سفیدی آگئی ہے ۔۔بدن میں چستی اور تروتازگی کم ہو گئی ہے۔۔استاد ہے کہ اردگرد کی دنیا سے بے خبر ’’بس کام ‘‘کرتا ہے ۔۔اس کو وقت کے جانے کی کوئی پرواہ نہیں ۔۔توکل، قناعت، شاگرد ،اورشاگرد کی محبت اس کی دنیا ہے۔۔۔۔وہ اپنی دنیا میں مست مست جھولتا رہتا ہے۔۔اس کی آنکھوں میں چمک اُتر آتی ہے۔ جب کلاس میں داخل ہوتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے۔۔۔وہ پتھر کے عجیب معاشرے میں زندہ ہے ۔اس کی صلاحیتیں بار بار دبائی جاتیں ہیں ۔۔اس کی خواہش کو اس وقت کچل دیا جاتا ہے جب وہ بچوں کو ’’بولنا‘‘سیکھانے کی کوشش میں مصروف ہوتا ہے ۔۔۔پتھر کے معاشرے میں صلاحیت دیکھی نہیں جا تی ہیں ۔۔ اردگردگونگے، بہرے ،لولے آندھے رھتے ہیں ۔۔استاد کو کلاس سے باہر دھوپ سینکنے کی عادت نہیں تھی ۔۔اس کی دنیاآباد تھی۔۔اس کے شاگرد اس کے سامنے آکر چہچہاتے ۔۔الفاظ بناتے ۔۔ ۔۔سینوں میں دلوں کو دھڑکاتے ۔۔۔رگوں میں خون کو گرماتے ۔۔۔۔استاد سر جھکانا ،منہ چھپانا اور ہاتھ پھیلانا نہیں جانتاتھا ۔۔وہ پتہ نہیں توکل کا پہاڑ کیوں ہوتا تھا؟ ۔۔دنیا کی چکاچوند اور کالے دھندوں سے بہت دور تھا ۔۔استاد عجیب تھا ۔۔اس کے سینے میں محبت بھرا دل تھا ۔۔شاگردوں سے محبت اس کی دنیا تھی ۔۔وہ ہر لمحہ اس فکر میں رہتا کہ اس نے کچھ کیا یا نہیں ۔۔اس کو اس بات کی کوئی پرواہ نہ تھی ۔کہ کوئی اس کی کوششوں کو سراہتا ہے یا نہیں ۔۔استاد اپنے آفسروں کی لاج رکھتا ٹوٹ کر ان کا احترام کر تا ۔۔مگر کبھی منت کش آفیسر نہیں ہوا۔۔ ۔۔ استاد کی محبت نے اس کا احترام بڑھا دیا تھا ۔۔کتنے شاگرد تھے کہ جن کی آنکھوں میں ان کو دیکھ کر چمک اتر آتی تھی ۔۔ان کے ذہنوں کی آبیاری میں استاد کا کردار تھا ۔استاد اپنی دنیا میں اکیلا تھا ۔۔اسکو اپنی ’ ’استادی‘‘ کے سوا کچھ آتا ہی نہیں تھا ۔۔تعلقات بڑھانا ،توجہ حاصل کرنا ،الفاظ کی لڑی میں کسی کو پرونا ،مزاج کے خلاف مضمون کی ہوا باندھنا ، ناتے جوڑ نا اس کو بلکل نہیں آتا تھا ۔۔وہ کوشش کرکے گمنام رہتا ۔۔سیاست کی کیچڑی پکتی۔۔اپنے آپ کو مخلص ،پاکیزہ ،وفادار ثابت کرنے کی مشقیں ہوتیں ،اپنا منہ میا ں میٹھو ہوتا ۔رنگ و بو کی دنیا بدلتی، آسمان رنگ بدلتا ،لیکن استاد اس خوش فہمی میں مبتلا رہتا کہ وہ کھرا سچا ہے ۔۔بے داغ ہے ۔دھندوں سے پاک ہے ۔۔۔پھر اس کو ہنسی آتی۔۔اس سمے اس کے سامنے معصوم چہرے ہوتے ۔۔اس کا دل خوشیوں کے بل اچھلنے لگتا۔۔۔اس کو یقین تھا کہ اس کا کام کسی کو نظر نہیں آتا ۔۔کیڑے نکالے جاتے ۔۔بہانے تراشے جاتے ۔۔سیاست کا مگرمچھ بڑھوں کی کرسیوں کو ہڑپ کر جاتا ۔۔تعلقات کا جادو چلتا ۔۔سیاسی وفاداریاں رنگ لاتیں ۔۔حمایت کی ڈوری مضبوط کی جاتی۔۔اور وہ گمنام استاد ترقی کے نام پر استحصال کا شکار ہوتا ۔۔انگشت بدندان ہوتا۔۔حیران و پریشان ہوتا ۔۔وہ اپنے آپ کو تسلی دینے کی کوشش کرتا ۔۔کہ اس نے اپنی زندگی کے 25 سال اس قوم کو دے دیا ۔اپنی جوانی،اپنا جوبن ،اپنی مستیاں ،اپنی رنگیں اوقات،اپنی صلاحیتیں ،اپنا آرام و سکون،سب اس قوم کی امانت سمجھ کر اس کو حوالہ کیا ۔۔استاد کے چہرے پر افسردگی چھا جاتی۔۔وہ پچھتاتا کہ وہ کیوں ایک بے زبان کے لیے زبان بنا ، ایک بے قلم کے لیے قلم بنا،ایک گونگے کے لیے الفاظ بنا ،ایک بے نام و نشان کا تعارف بنا ۔۔۔استاد کا جغرافیہ بدلا گیا تھا ۔کھٹن سفر کرکے نئے سکول میں پہنچا تھا۔بدن درد کر رہا تھا ۔۔اس کو سپنے دکھائے گئے تھے۔آقا نے اس کو خواب دکھایا تھا ۔پھر خواب کو ڈلیٹ کیا تھا اس کو اس چھوٹی سوچ پہ حیرانگی تھی آقا اس کے نزدیک بونا ہو گیا تھا ۔وہ اپنی کم مائیگی کو آفیسر کی سطحی سوچ سے ضرب دیتا تو چکنا چور ہو جاتا ۔۔کہ جب تعلیم کی تاریخ لکھی جائے گی تو یہ سب کچھ لکھی جائے گی ۔۔پھر مسکرا کر کہتا ہے ۔۔نہیں نہیں تاریخ ایسے ایسوں کو مٹاتی ہے ۔۔ان کا نام ونشان مٹ جاتا ہے جو وعدے کے جھوٹے ہوتے ہیں صلاحیتیں کچل دیتے ہیں ۔۔دنیا دو دن کی ہے ۔۔استاد مسکراتا ہے ۔۔آیاز کا جملہ یاد آتا ہے ۔۔۔۔’’یہ وقت بھی گذر جائے گا‘‘۔۔۔اس سمے ایک آواز گونجتی ہے ۔۔۔’’سر میرا نام فیصل ہے ۔۔سر آج میرا ایک خواب پورا ہو رہا ہے ۔۔سر میرا بھائی اپنا کمپیوٹر آن کرکے ہمیشہ اپ کے آرٹیکل مجھ سے پڑھواتے تھے ۔۔سر خدا کی قسم میں خوش قسمت ہوں کہ آپ کی شاگرد ہوں ۔۔تم میرے خواب تھے مجھے تمہاری شاگردی پر فخر ہے ۔۔۔میری ذات میں وہ سارے جوہر بھر دو جو تمہاری ذات میں ہیں ۔۔سر مجھے کندن بناؤ۔۔مجھے چمکا دو سر مجھے انسانیت کا وہ گل نسترن بنا دو کہ جس کی خوشبو سے گلشن انسانیت معطر ہو مجھے اخلاق و کردار کا تاج محل بنا دو ۔۔۔۔مجھے تمہارے قلم اور الفاظ کی قسم۔۔۔استاد جھٹ سے اپنا قلم جیب سے نکالتا ہے اور چوم لیتا ہے پھر اپنی استادی پر فخر کرتا ہے اس سمے اس کو یقین ہوجاتا ہے کہ اس کی ’’ترقی‘‘ ضرور ہوئی ہے ۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق