تازہ ترین

ایم این اے افتخارالدین نواز شریف کے ہم نوا بن گئے ہیں آل پاکستان مسلم لیگ کے ایم این اے کی حیثیت سے وہ اپنے سیٹ سے استعفیٰ دے۔جنرل سیکرٹری اے پی ایم ایل فیض الرحمن چیئرمین

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)جنرل سیکرٹری آل پاکستان مسلم لیگ ضلع چترال چیرمین فیض الرحمٰن نے اپنے ایک اخباری بیان میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے چترالی قوم کی بار بار تضحیک کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں صاحب کو پتا ہونا چاہئیے کہ چترال کے لوگ پوری دنیا میں مہذب تصور کئے جاتے ہیں جہاں پر تعلیم ہوگی وہاں پر تہذیب ہوگا جہاں پر تہذیب ہوگا وہاں کے لوگ باشعور ہونگے یہی وجہ ہے کہ چترال کے باشعور عوام نے نواز شریف کو کبھی بھی اپنا لیڈر تسلیم نہیں کیا، چترال کے عوام اس بات کی سخت مذمت کرتے ہیں کہ نوازشریف کی طرف سے چترالی قوم کی با ربا رتضحیک کے باوجود سٹیج پر موجود MNAچترال اور ڈسٹرکٹ ناظم چترال خاموش تماشائی بن کر تالیاں بجاتے رہے چترالی قوم اپنے ان دو نمائندوں سے بھی معافی کا طلب گار ہے ،پوری دنیا کے سامنے چترالی قوم کی توہین کرنے پر چترال کے لوگ میاں نوازشریف کو آئندہ کبھی بھی چترال کی سرزمین میں قدم رکھنے نہیں دینگے جہاں تک لواری ٹنل کے تعمیر کا تعلق ہے اس کو ہمارے محبوب قائد جنرل پرویز مشرف نے شروع کیا اور سب سے زیادہ رقم بھی اس نے خرچ کیا۔جون 2017میں ٹنل کا افتتاح چترال کے عوام اس وقت کے آرمی چیف کے ذریعے کروائیں گے، چترال میں جو چند مفاد پرست عناصر دوبارہ سے نواز شریف کو یہاں متعارف کرنے کی کوشش کررہے تھے اب ان کو سمجھ آنا چاہیئے اور خود کو نواز اینڈ کمپنی سے علحٰید ہ کرکے چترالی عوام کی صفحوں میں شامل ہو جانا چاہیئے ۔جہاں تک ایم این اے چترال کی دوہری پالیسیوں کا تعلق ہے تو موصوف کو چترال کے عوام نے محسن چترال جنر ل پرویز مشرف کے نام پر ووٹ دیا تھا بد قسمتی سے بقول میاں نواز شریف افتحارالدین نے چترالی قوم کی امانت میں خیانت کر کے پرویز مشرف کی محبت میں دیے گئے عوامی مینڈیٹ کو نوازشریف کی جولی میں ڈال کر چترالی عوام کو پرویز مشر ف کے سامنے شرمندہ کردیا،اب افتخارالدین چونکہ نواز شریف کے ہم نوا بن گئے ہیں مہربانی فرما کر آل پاکستان مسلم لیگ کے ایم این اے کی حیثیت سے اپنے سیٹ سے استعفیٰ دے بصورت دیگر اے پی ایم ایل کی مرکزی قیادت افتخارالدین کو اسمبلی کی سیٹ سے نا اہل کروانے کیلئے الیکشن کمیشن سے رجوع کریگی۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق