ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا …..کا بل اور دہلی کی قربت

……….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ………….


بین لاقوامی تعلقات کا ایک غیر تحریر ی اصول ہے جو سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہو کر ہم تک پہنچا ہے اصول یہ ہے کہ ’’ دشمن کا دشمن تمہارا دوست ہوگا ‘‘ اس اصول کو سامنے رکھ کا بل اور دہلی نے اپنی دوستی کو نئی بلند یوں تک پہنچا یا ہے گذشتہ روز افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں تین اہم فیصلے کئے پہلا فیصلہ یہ تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک پہنچا یا جائے گا جو پاکستانی کرنسی میں ایک کھرب روپے سے زیادہ ہے دو سرا فیصلہ یہ تھا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کر نے کے لئے مشترکہ حکمت علمی اختیار کی جائیگی اور تیسرا فیصلہ یہ تھا کہ پڑوسی ملک پاکستان کو نظر انداز کر کے ایران کی بندر گاہوں کے ذریعے تجارت کی جائیگی افغان صدر نے دورہ بھارت سے پہلے پاکستان کے خلاف تجارتی پابند یوں کا علان کیا تھا افغان حکومت نے پاکستان کی ا قتصادی نا کہ بندی کے لئے دو بڑے فیصلے کئے یہ ستمبر کے پہلے ہفتے کی بات ہے افغان حکومت نے تاجکستان ، تر کمانستان اور ازبکستان کے لئے پاکستانی مصنوعاتاور برآمد ات لیجانے والے ٹرکوں پر پابند ی لگائی ستمبر کے دوسرے ہفتے میں افغان حکومت نے ایک حکمنا مہ جاری کیا اور افغان تاجروں ، درآمد کنند ہ گان اور سرمایہ کاروں پر پابند ی لگائی کہ وہ پاکستانی مصنوعات کی تجارت نہ کریں ایک خاص مدت کے بعد افغانستان کے بازاروں میں پاکستانی مصنوعات کو چیک کیا جائیگا اگر کسی تاجر کے پاس پاکستانی مال برآمد ہوا تو اس کو سخت ترین سزا دی جائیگی افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا کہ کتنی بری بات ہے ہمارے بازاروں میں پاکستانی گھی ،آٹا اور سیمنٹ فروخت ہوتا ہے ہم ا س کو مزید برداشت نہیں کرسکتے پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر اشرف غنی ماہر اقتصادیات ہیں ان کو معلوم ہے کہ پشاور سے جلال آباد اور کوئیٹہ سے قند ہارکا فاصلہ دہلی اور کابل کے درمیان فاصلے سے کم ہے کرایے بھی کم ہیں مال سستا آجاتا ہے تاجر کا منافع زیادہ بنتا ہے صارفین کو سستا مال ملتا ہے اکنامکس میںیہ طلب اور رسد کا مسلمہ اصول ہے کہ جہاں فائد ہ ہوگا وہاں طلب بڑے گی ، رسد میں اضافہ ہوگا لیکن ڈاکٹر اشرف غنی اقتصادیات کے ماہر کی حیثیت سے پہئے کو اُلٹا گھمنا نا چاہتے ہیں 1978ء میں جنرل ضیا ء الحق نے پاکستان کو غلط خارجہ پالیسی دی چین ، روس ،ایران اور افغانستان کو خارجہ پالیسی کا محور بنانے کی جگہ امریکہ ، برطانیہ اور سعودی عرب کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنایا تینوں ممالک کا اس خطے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا وہ تینوں شکار کھیلنے آتے تھے شکار کھیلنے کے بعد مزدوروں کو مزدوری دے کر شکار کی ٹرافیاں اُٹھا کر اپنے اپنے ملک لے گئے۔ بینلا قوامی تعلقات میں مشترک مفادات کو دیکھا جاتا ہے ورکنگ پیپر اس بنیاد پر بنتے ہیں سفارتی تعلقات میں گرم جوچی اس بنیاد پر ہوتی ہے امریکہ ، برطانیہ اور سعودی عرب کا کوئی ایک مفاد بھی پاکستان کے ساتھ اشتراک نہیں رکھتا اسرائیل او ربھارت کے ساتھ تینوں ممالک کی گہری دوستی ہے فلسطین اور کشمیر کے مسائل پر تینوں ممالک کا نقطہ نظر پاکستان کے نقطہ نظر کے برعکس ہے اسلامی ممالک کے اتحاد اور مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کے حوالے سے تینوں ممالک پاکستان سے اختلاف رکھتے ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پاکستان میں آگ لگ جائے تباہی آجائے ، بر بادی چھا جائے تو امریکہ برطانیہ اور سعودی عرب کاکوئی نقصان نہیں ہوگا تینوں ممالک اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لینگے اللہ اللہ خیر صلا کیونکہ پاکستان ان کی خارجہ پالیسی میں روانڈا ، میانمر اور جییوتی کے برابربھی در جہ نہیں رکھتا ان کا کوئی مفاد پاکستان کے مفاد کے ساتھ اشتراک نہیں رکھتا یہی وجہ ہے کہ 1970 کے عشرے میں امریکہ اور برطانیہ کی جگہ چین ، روس ، ایران اور افغانستان کیساتھ دوستی کو اہمیت دی گئی ذولفقار علی بھٹو نے شاہ فیصل کے ساتھ ملکر امریکہ ،برطانیہ اور اسرائیل کو الگ تھلگ کر نے کی پالیسی اپنا ئی تھی دونوں رہنماؤں کو اس جرم کی پاداش میں قتل کر وایا گیا اپریل 1978 ء کا انقلاب ثور افغانستان کی تاریخ میں ایسا موڑ تھا جو پاکستان اور افغانستان کو قریب لانے ، دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی بنیاد رکھنے اور دونوں برادر پڑوسی ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بہترین موقع تھا اگر بھٹو اقتدار میں ہو تا تو اس موقع کو کبھی ضائع نہ کرتا جنرل ضیا ء الحق نے یہ نادر موقع ضا ئع کر دیا اور افغان قوم ، افغان ملت کے ساتھ دشمنی کی بنیاد وں کو مزید مستحکم کیا آج ہم اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں جنرل ضیا ء الحق کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج بھارت کو افغانستان میں قدم جما کر پاکستان کو مشرقی اور مغرب دونوں اطراف سے گھیر نے کا موقع مل گیا چند لوگوں کو دولت مند بنا نے کے لئے ملک کے مستقبل پر کاری ضرب لگائی گئی اردو میں کہتے ہیں ’’ کوئلے کی دلائی میں منہ کالا ‘‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایسا عبر تناک حشر ہوا ڈاکٹر اشرف غنینے ستمبر کے دوسرے ہفتے میں بھارت کا سرکاری دورہ کرکے پاکستان کوسفارتی زبان میں جو پیغام دیا ہے وہ چا ر نکات پر مشتمل ہے پہلا نکتہ یہ ہے کہ کشمیر کے بدلے کراچی اور بلوچستان کو توڑ نے میں افغانستان بھی بھارت کا ساتھ دے گا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈروٹ کے راستے کو پاکستان کی جگہ اب ایران سے گذارا جائے گا پاکستان میں 10لاکھ کی آبادی کا براہ راست روز گار اور دو کروڑ کی آبادی کا بالواسطہ روزگار فوری طور پر متاثر ہوگا آگے جا کر پاکستان کی معیشت کو ناقابل برداشت دھچکا لگےگا تیسرا پیغام یہ ہے کہ وسطی ایشیا ء تک جانے کے لئے پاکستان کو راستہ نہیں دیا جائیگا ایران اور وسطی ایشیا ء سے گیس پائپ کے منصوے ٹھپ ہو کر رہ جائینگے چوتھا پیغام یہ ہے کہ پاکستان کے وجود کو 1971 ء کی طرح خطرہ درپیش ہوگا کیونکہ مشرقی پاکستان کی صورت حال کی طرح اب تین اطراف سے بھارت نے پاکستان کو گھیرلیا ہے کا بل اور دہلی کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتیں کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہوسکتی ہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق