
فورتھ شیڈول میں موجود 2021 افراد کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے فورتھ شیڈول میں موجود دو ہزار سے زائد افراد سے وابستہ بینک کھاتوں کو فوری طور پر منجمد کیا جائے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تمام بینکوں کو ہدایات جاری کی گئیں ہیں کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے فورتھ شیڈول میں موجود دو ہزار 21 افراد سے وابستہ بینک کھاتوں جن میں لاکھوں روپے موجود ہیں کو منجمد کیا جائے۔
مرکزی بینک کے حکم نامے کے مطابق ’تمام بینکوں، ڈیویلپمنٹ فنانس انسٹیٹیوشن اور مائیکرو فنانس بینکوں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ قانون کے مطابق ان افراد کے خلاف کارروائی کریں جن کے نام نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم اتھارٹی کی جاری کردہ فہرست میں شامل ہیں۔‘
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اے ٹی اے کا سیکشن 11-O اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ بینک اور متعلقہ ادارے فہرست میں شامل افراد سے بلواسطہ اور
بلاواسطہ طور پر وابستہ رقم اور جائیداد ضبط کرسکتے ہیں۔
سٹیٹ بینک کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس اقدام کا مقصد متعدد فرقہ پرست اور کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال جولائی میں پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے 126 اکاؤنٹ سیل کیے گئے تھے، اور ان اکاؤنٹس سے ایک ارب روپے سے زائد کی رقم ضبط کی گئی تھی۔
