محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان……… ’’گھر انگن‘‘

…………..محمد جاوید حیات…………..


کبھی جب سوچنے لگتا ہوں تو سراپا الفاظ بن جاتا ہوں ۔۔مشہور جملہ ہے کہ مکان کی زینت مکین سے ہوتی ہے ۔۔اگر مکین ذمہ دار ہے مکان سے محبت کرنے والا ہے تو وہ اپنے مکان کو رشک جنت بناتا ہے ۔۔زندہ قوموں کی حقیقت یوں ہے کہ وہ اپنے گھر پھر گلی کوچے،پھر گاؤں ،پھر شہر،پھر صوبہ ،پھر ملک کو اپنا مکان سمجھتی ہے۔۔حکومت کا فرض مکان بنانا ہے ۔۔مکان کی حفاظت کا فرض مکینوں پر ہوتی ہے۔۔سکول میں سویئپر،دفتر میں خاکروب،گھر میں خاتون خانہ، پھر محکمہ صفائی،میونسپل کمیٹی،پھر ضلعی حکومت،پھر آگے حکومتیں اپنا مکان سجانے کیلئے ہوتی ہیں ۔۔مگر سکول میں ہیڈ ماسٹر پرنسپل اپنے سویپر سے کام نہیں لے سکتا اس کے حکم نہ ماننے پہ دھائی دیتا ہے ۔۔میونسپل کمیٹی کے چیرمین کے حکم پر کسی کی توجہ نہیں ہوتی،حکومتوں کے اہلکاروں کی آنکھیں بند رہتی ہیں ۔۔ادارے بے بس ہیں سسٹم فیل ہے قوم کے پیسے ضائیع جارہے ہیں۔اداروں کے درودیوار ہنستے ہیں کہ یہ عہدہ کس لیے۔۔یہ کرسی کس لئے۔۔اس میں بیھٹنا کیوں ؟حکم نہیں چلتا کام نہیں ہوتا ۔۔اس کو لا وارث کیوں بنا تے ہو ۔۔اس کے لئے کوئی وارث ڈھونڈو ۔۔اس کے لئے اچھا سا محافظ دھونڈو۔۔ایسے محافظ جو زندہ لاش نہ ہوں وہ کام سمجھیں کام سمجھائیں ۔۔وہ حکم سمجھیں حکم سمجھانے کی صلاحیت رکھیں ۔۔وہ من مانی سے دور ہوں ۔۔وہ خلوص کا احساس کر سکیں بات اس مکین کا ہے ۔۔مگر وطن عزیز کے جس ادارے میں جاؤ اس ادارے کے مکینوں کی غفلت نظر آتی ہے ۔۔ہسپتال جاؤ ہر طرف غفلت نظر آئے گی۔۔ادھر کاغذ پڑی ہے ادھر پیپسی کی بوتل ہے ۔وہاں کوڑا کرکٹ ہے ۔۔مکا ن گندہ ہے ایسا نہیں لگتا کہ اس میں کوئی مکین ہے ۔۔۔حکومت بلڈنگ بناتی ہے قوم کا پیسہ خرچ ہوتا ہے ۔۔اس کی حفاظت بدقسمتی سے نہیں ہوتی۔۔لیکن سوچنے کی بات ہے کہ سکول کے پرنسپل کا اپنا گھر صاف ستراہے ۔چیف آفیسر کا اپنا گھر صاف سترہ ہے ایم ایس کا اپنا گھر صاف شفاف ہے ۔میونسپل کمیٹی کے ہر اہلکار کا گھر صاف ہے لیکن کسی کو اپنے گھر سے باہر کی گندگی نظر نہیں آتی۔۔میں ششدر ہوں کہ کیا یہ پاک دھرتی ہمارا گھر نہیں ہے کیا اس کی صفائی ہمارا فرض نہیں ۔۔کیا یہ خوبصورت اور پاک دھرتی ہمارے ہاتھوں صاف نہیں ہوتی ۔۔میں سوچتا ہوں کہ میں سکول جاتے ہوئے راستے سے کاغذاٹھاؤں۔۔ میں سوچتا ہوں کہ میں کالج جاتے ہوئے راستے سے تنکے اٹھاؤں ۔۔میں سوچتا ہوں کہ اے سی صاحب اپنی گاڑی بازار میں روکے گاڑی سے اترے کوڑا کرکٹ کے ٹکڑے اٹھائے ڈسٹ بن میں ڈالے لوگ دیکھ کر غش غش کر اٹھیں ۔۔میں سوچتا ہوں کہ ڈی سی صاحب اپنی گاڑی روکے اترے راستے میں پڑے کاغذ کے ٹکڑے اٹھائے لوگ افرین کریں ۔صفائی کا عملہ لرزہ برآندام ہو۔۔کاش صوبے کا حکمراں اپنی گا ڑی روکے اترے اور کہدے کہ میرے شہر کو گندہ نہ کرو ۔۔سوچتا ہوں کہ کیا یہ میرے خواب ہیں ۔۔ کیا یہ زندہ قوموں کی نشانیاں نہیں ہیں ۔۔کیا یہ ہماری تربیت کا حصہ نہیں ہیں ۔ہمارے احساسات کیوں مر گئے ہیں ۔۔یہ ہم سرکاری اداروں کا کیا حال بنا رکھا ہے ۔۔ہم کسی چیز کو اوون کیوں نہیں کرتے یہ پاک دھرتی ہماری ہے ۔ہم اسی کی وجہ سے زندہ ہیں ہم اسی پاک مٹی پہ چلتے ہیں کسی دن اسی مٹی میں سر رکھ کے سو جائیں گے۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق