محمد صابر

تین اسلامی ممالک 

ــــــــــ محمد صابر ـــــــــ گولدور چترال ـ
تین  اسلامی  پڑوسی ممالک پاکستان کے خلاف ہیں ـ پاک بھارت کشیدہ صورت حال میں ـ بنگلا دیش حکومت نے تو واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ موجود صورت حال میں وہ بھارت کا ساتھ دینگے ـ یادیں پھر سے تازہ ہوتی ہیں ـ  جب عوامی لیگ کے شیخ مجیب الرحمن کو باوجود باری اکثریت کے ساتھ پاکستانی پارلیمنٹ میں تسلیم نہیں کیا گیا تھا  ـ  جب بھٹو صاحب نے کہا ادھر ہم ادھر تم ـ ـ ـ
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں چند کوتاہیوں کی وجہ سے بنگلا دیش اور افغانستان شک کی نگاہ سے پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں ـ حالانکہ بھارت افغانستان میں عدم استحکام میں ملوث ہے ـ پراکسی وار کے ذریعے افغانستان سے ہمارے خلاف جنگ کا محاز گرم ہے ـ  ہمارے افغان عوام کے ساتھ روایتی اور مذہبی گہرے مراسم ہیں ـ ہم نے افغانستان کے ساتھ ملکر  اس وقت کے سوپر پاؤر سویت یونین کو شکست سے دوچار کیا تھا ـ مگر بدقسمتی سے افغانستان حکومت کی وفاداریاں بھارت کے ساتھ ہیں ـ
 اس صورت حال میں تیسرا اسلامی ملک اسلامی جمہوریہ ایران بھی پیچھے نہیں رہا ـ 2003  میں ایران نے بھارت کے ساتھ ایک ڈیل ایران بھارت لوجسٹک سپورٹ سائن کیا تھا ـ جو کہ واضح طور پر پاکستان کےلیے جنگ کا پیغام تھا ـ اصل میں ہونا یہ تھا کہ ان تین پڑوسی اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کرکے دشمن کے خلاف ایک صف پر آنا چاہئے تھا ـ
آخر یہ دن بھی آئے جب امریکی کانگریس پارٹی نے پاکستان کو دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانے والا ملک قرار دینے کےلیے  بل پیش کیا اور زور دیا کہ پاکستان پر پابندیاں عائد کیے جائیں  ـ اگر یہ پابندیاں لگ جاتی ہیں تو اس سے پاکستانی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچے گا ـ ہمارے اسٹوک اکسچینج میں امریکن ڈولر 104 کی بجائے 200 کا ہو جائے گا ـ
 سی پیک شروع دن سے ہی پاکستان کا خواب ہے ـ جسے ہر حال میں شرمندہ تعبیر ہونا ہے ـ مگر اس کی حفاظت اور اس کی سکیورٹی بھی نہایت اہم پہلو  ہے ـ سی پیک کے فنکشنل ہونے سے جہاں کثیر زر مبادلہ پاکستان کے حصے میں آئے گا وہی روزگار کے ہزاروں مواقع بھی پیدا ہونگے ـ یہ ٹریڈ زون ڈائریکٹ چائنہ سے پاکستان کو  لنک کرے گا ـ
مگر !!!!
کیا ہم ابھی بھی سوئے ہوئے ہیں ـ اگر حالات اسی طرح رہے تو پھر ہم ایک دن چین جیسے مخلص دوست کا ساتھ بھی کھو دینگے ـ ﷲ نہ کرے پھر سعودی عرب جیسے زبردست حلیف جس نے شروع ہی دن سے پاکستان کا ساتھ دیا ، کا ساتھ بھی ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ جائے گا ـ  حکومت پاکستانی کو چاہئے کہ پڑوس کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دےـ یمن وار میں سعودی عرب فوج نا بھیجوانے پر متحدہ عرب امارات اور ہمارے امارات کے ساتھ  تاریخی تعلقات میں دراڑ آئی تھی ـ جو کہ 34 اسلامی ممالک کے کولیشن بننے کے بعد سے قدرے بہتر ہوئی ہے ـ
پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے ـ جس کے تینوں جانب کے بارڈرز حالت جنگ میں ہیں ـ پھر بھی اس ملک کا دبدبہ دشمنوں پر قائم ہے ـ
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق