تازہ ترین

الیکشن2018 میں ANPبھر پور کامیابی حاصل کرکے صوبے میں حکومت بنائے گی. سابق صوبائی وزیرتعلیم سردار حسین بابک

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) عوامی نیشنل پارٹی ANPکے جنرل سکریٹری اور سابق صوبائی وزیرتعلیم سردار حسین بابک نے چترال میں شمولیتی جلسے اور دروش میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت عوام کی نظریں عوامی نیشنل پارٹی میں پر لگی ہوئی ہیں ۔ہم نے اپنے دور میں وہ ترقیاتی کام کئے ہیں جن کی مخالفین بھی معترف ہیں۔ جس وقت ہمارے لوگ شہید ،مدرسے اور سکول جلائے جا رہے تھے ہم خاموش نہیں رہے بلکہ صوبے میں دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کی وجہ سے سب سے زیادہ شہادتیں ہم نے دیں۔جبکہ دوسری پارٹیاں اُس وقت خاموش بیٹھی ہوئی تھیں۔ نواز شریف اور عمران خان دونوں کا پنجاب سے مفادات وابسطہ ہیں اس معاملے میں دونوں ایک ہیں وزیر اعظم نواز شریف کو صوبہ خیبر پختونخوا سے کوئی دلچسپی نہیں ۔عمران خان کو وزیر اعظم بننے کا شوق ہے اپنے صوبے کے عوام کے مسائل بھول کر ڈھول دماموں، ناچ گانوں، دھرنوں اور شہروں کو بند کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اُن کے وزراء ہمارے دور کے کئے گئے منصوبوں پر تختیاں لگا رہے ہیں۔جبکہ کئی میگا پراجیکٹس بند کر دئیے گئے ہیں۔ بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے تحت آپنوں کو نوازا گیا ہے اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے ملک کو لوٹا گیا ہے احتساب کمیشن بے اختیار ہو کر رہ گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب مصنوعی رشتے اور مذہب کے نام پر ووٹ لینے کا دور گزر چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ANPایک سیاسی جماعت ہے اس کی جڑیں عوام کے اندر ہیں۔عوام موجودہ حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہو کر جوق در جوق دوسری پارٹیاں چھوڑ کر ANPمیں شامل ہو رہے ہیں ۔2018 کے الیکشن میں ANPبھر پور کامیابی حاصل کرکے صوبے میں حکومت بنائے گی۔ چترال کے عوام نے سندھیوں ،پنجابیوں اور آمروں کی سپورٹ کر کے دیکھ لی مگر اُنہوں نے چترال کے لئے کچھ نہیں کیا اس مرتبہ کارکردگی کی بنیاد پر لالٹین کو ووٹ دے کر دیکھ لیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ورکرز ہمارے قیمتی اثاثہ ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں اُس وقت کے چیف منسٹر نے 8مرتبہ چترال کا دورہ کیا ۔ پارٹی قائد امیر حیدر خان ہوتی اس ماہ کے اخر میں چترال کا دورہ کرین گے۔ جس سے ضلع میں ANPکو مذید تقویت ملے گی۔اُنہوں نے کہا کہ چترال کے ساتھ انتہائی ظلم ہو رہا ہے کہ چترال پشاور اور پشاور کراچی کا کرایہ برابر ہے چترال روٹ پر PIAکے کرایوں میں کمی کرکے عام لوگوں کی پہنچ تک رکھا جائے تو زیادہ سے زیادہ سیاح چترال آئیں گے جس سے روزگار کے نئے نئے مواقع میسر آئیں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ضلع چترال گذشتہ سال قدرتی آفات زلزلوں اور سیلابوں سے نقصانات سے دوچار تھے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی بے حسی کی وجہ سے اب بھی متاثریں قاقلشٹ کے مقام پر بے یارو مدد کھلے آسمان تلے پڑے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔حکومت کی طرف سے مالی امداد کا اعلان تو بہت ہوا مگر ملا کچھ نہیں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے 17ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا مگر سڑکیں اب بھی کھنڈرات کا نمونہ پیش کر رہی ہیں۔
اس موقع پر درجنوں افراد اپنے سیکڑوں افراد خانہ کے ہمراہ جماعت اسلامی،JUIپیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن چھوڑکرANPمیں شمولیت اختیار کی جنہیں سردار حسین بابک نے سرخ ٹوپیاں پہنائیں۔ اس موقع پر ANPکے صوبائی نائب صدر حاجی محمد جاوید یوسفزئی اور ملاکنڈ ڈویژن خواتین ونگ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری خدیجہ سردار بھی موجود تھے

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى