تازہ ترین

پی ٹی آئی کے عبدالطیف کے مناظرے کی چیلنج کودیکھ کرہنسی آئی، وہ پی ٹی آئی کی کونسی کارکردگی کولیکرمجھے چیلنج دیتے ہیں۔ایم پی اے سلیم خان

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس)چیئرمین ڈیڈک ورکن صوبائی اسمبلی چترال سلیم خان نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی سابق ضلعی صدرعبدالطیف کے مناظرے کی چیلنج کودیکھ کرہنسی آئی کہ وہ پی ٹی آئی کی کونسی کارکردگی کولیکرمجھے چیلنج دیتے ہیں۔جبکہ پی ٹی آئی کی تین سالہ کارکردگی سب کے سامنے عیان ہے ۔نئے پاکستان بنانے کے دعودار پرانے پاکستان کوبھی نست نابودکرنے کے درپے ہیں ایک طرف پی ٹی آئی انصاف کانعرہ لگاتاہے جبکہ دوسری طرف صوبے میں پسماندہ اضلاع کے ساتھ ناانصافی کاانتہاہوچکاہے۔ضلع چترال کی مثال سب کے سامنے ہے ۔گذشتہ سال سیلاب اورزلزلے کی وجہ سے چترال کے انفراسٹرکچرکوبُری طرح نقصان پہنچا ،سرکاری عداد شمارے کے مطابق چترال ضلع کو پندرہ ارب روپے کانقصان پہنچاہے۔42چھوٹے اوربڑے پل گرچکے ہیں ،سڑکیں کھنڈارت کامنظرپیش کررہے ہیں، کئی نہریں اورپائب لائن سیلاب بردہوچکے ہیں کئی ہسپتال اورسکولوں کی عمارت گرکرتباہ ہوچکے ہیں،سب ڈویژن مستوج کاواحدبجلی گھر(ریشن ہائڈروپاؤر اسٹیشن)سیلاب کی نظرہوکرڈیڑھ سال گزرگئے اورسب ڈویژن کی تین لاکھ آبادی تاریکی میں زندگی گزرنے پر مجبورہوچکے ہیں۔عبداللطیف کاآ بائی علاقہ کوشٹ کاپل گرکرایک سال مکمل ہوگیا۔جس میں تین قیمتی جانیں بھی ضائع ہوگئے ہیں۔مگرافسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ خودپی ٹی آئی کے لیڈرعمران خان اوروزیراعلیٰ کے بلندبانگ اعلانات کے باوجود ابھی تک سیلاب کی بحالی کیلئے ایک روپیہ بھی چترال کونہیں ملاہے ۔کیایہ سب عبدالطیف کونظرنہیںآرہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ چترال میں بلالمشافہ ملاقات میں جب یہ ساری باتیں ان کوسنائی توعمران خان لاجواب ہوگئے۔ڈی سی آفس چترال میں جب میں نے عمران خان کوسب عمائدین کے سامنے کہاکہ کیایہ انصاف ہے کہ نوشہرہ کواس سال کے اے ڈی پی میں 50ارب روپے ملے،صوابی کو20ارب روپے،دیرلوئیراوراپرکو25ارب روپے اورچترال کوسیلاب کی بحالی کے لئے صرف تین کروڑروپے ملے ۔توخودعمران خان نے ہنس کربولاکہ جب رقم نوشہرہ ،صوابی اوردیرسے بچ جائیں گے توچترال کوملیں گے۔جب اس منظرمیں میں نے عمران خان کولاجواب کردیاتوانہوں نے بات کوگول مول کرتے ہوئے کہاکہ میں ڈونرزکواپیل کرونگاکہ وہ چترال میں آکرسیلاب اورزلزلے کی بحالی میں کام کریں گے ۔تاحال اس ڈونرکانفرنس کابھی پتہ نہیں چلا۔اگرمیں عمران خان کولاجواب کرتاہوں توعبدلطیف کیاچیزہے ۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے MPAsاسمبلی کے فلورمیں روزانہ اپنی حکومت کی ناکامی کاروناروتے ہیں ۔توعبدالطیف کویہ سب کیوں نظرنہیںآتے ہیں،صوبے کو بدحالی اورپسماندگی کی طرف دکھیلنے میں اتحادی حکومت میں شامل جماعت اسلامی اورقومی وطن پارٹی بھی برابرکے شریک ہیں۔پی ٹی آئی گذشتہ تین سالوں میں دھرنوں سے ہی فارع نہیں ہواہے۔توصوبے کی غریب عوام کی کیاخدمت کرے گی۔اُنہوں نے کہا کہ میں عبدالطیف کوبرادرانہ مشورہ دیتاہوں کہ اُن کے پاس اب بھی وقت ہے پی ٹی آئی کوخیربادکہہ کرکسی اوراچھے پارٹی میں شامل ہوجائے تواسی میں اُن کی عزت بچ جائے گی۔ورنہ 2018کے الیکشن میں اگرتحریک انصاف کا نام لیا توچترال کے اندرہرجگہ جوتے کھانے پڑیں گے۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق