محمد صابر

سندھ طاس معاہدہ  (ایک قطرہ خون ایک قطرہ پانی)

 ـ ـ ـ ـ ـ محمد صابر گولدور چترال ـ ـ ـ ـ ـ
کافی عرصے سے پاکستان میں پانی کا موجودہ  بحران مسلسل مجھے بے چین کیے جارہا  ہے ـ جب بھی اس حوالے سے سوچتا ہوں اور بھارت کے ساتھ  آبی تقسیم یعنی سندھ طاس معاہدہ پر نظر دوڑاتا ہوں تو بھارت کی  غیر منصفانہ اقدامات دیکھ کر بہت غصہ آتا ہے اور ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاسی قیادت کی لاپرواہی اور غیر سنجیدگی پر بھی بہت افسوس ہوتا ہے ـ  آنے والے دنوں میں ہماری نئی نسل کی زندگی پانی کے بغیر کتنی دشوار ہوگی اور ملک قحط سالی کا شکار ہو گا یہ سوچ کر دل افسردہ ہو جاتا ہے ـ  موجود صورتحال میں پانی کا بحران آنے والے دنوں میں کیسا شکل اختیار کرے گا کسی نے نہیں سوچا  اور کوئی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتاـ  جب ماضی کی جانب دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے ـ  ماضی میں جو ظلم و بربریت اس پیارے وطن  پاکستان کے ساتھ  روا رکھا گیا شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک کے ساتھ رکھا گیا ہو ـ جب وطن عزیز شروع کے دنوں میں جب نیا بنا تھا ـ پڑوسی ملک نے اپنی شر انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ستلج ، بیاس اور دریائے راوی کا پانی روک دیا ـ یہ تین دریا بھارت سے ہوکر پاکستان میں داخل ہوتے تھے ـ اس وقت کے  وزیراعظم خان لیاقت علی خان نہایت زیرک اور دور اندیش انسان تھے انہیں معاملے کی حساسیت کا اندازہ ہوگیا تھا ـ چنانچہ خان لیاقت علی خان نے علی الاعلان بھارت کو کرارا جواب دیا اور اعلان کیا ” ہم پانی کے ایک ایک قطرے کی خاطر اپنے خون کا ایک ایک قطرہ دے دیں گے ” تب اس وقت عالمی برادری سامنے آئی اور دونوں ممالک  کے درمیان مذاکرات کا دور شروع ہوا ـ  یہ مذاکرات کئی عرصے تک جاری رہے یہاں تک کہ بالآخر ورلڈ بنک  ثالثی کے طور پردونوں ملکوں کے درمیان میں آیا اور اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو صدر ایوب خان کے ساتھ نشست کےلیے  قائل کیا ـ  وہ پاکستان تشریف لائے 9 ستمبر 1960 کو دونوں ملکوں کے بیج پانی کی برابر تقسیم کا  معاملہ طے پایا معاہدے کی روح کے مطابق ستلج ،راوی اور دریائے بیاس کا پانی بھارت اور چناب ،جہلم اور دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے حصے میں آئی ـ یہ معاہدہ سندھ طاس معاہدہ  کہلاتا ہے ـ   اس کے بعد پاکستان نے صرف دس برس کے قلیل عرصے میں دنیا کے مشہور دیمز بنا ڈالے دریائے جہلم پر منگلاڈیم ، ڈریائے سندھ پر تربیلا ڈیم اور کئی دوسرے بڑے رابطہ نہریں بنا کر دنیا کو محو حیرت  میں ڈال دیاـ پڑوسی ملک نے جب قلیل عرصے میں اتنی تیزی کے ساتھ  پاکستان میں ٖڈیمز بنتے دیکھا تو ان سے رہا نہ گیا پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا یعنی ایک سازش کے تحت پاکستانی قوم کو آپس میں لڑا کر مزید ڈیمز کی راہ روک دی گئی ـ  اس کےلیے باقاعدہ مہم چلائی گئی اور اس پر سرمایہ کاری کی گئی ـ چونکہ ڈیمز بننے سے پانی کا کافی حصہ اس ڈیم کے نظر ہو جاتا ہے اور تقسیم کے عمل میں بھی فرق آجاتا ہےـ مگر دوسری جانب بھارت ڈیمز پر ڈیمز بناتا گیا ـ بگلیہار ڈیم  جس کی وجہ سے ہماری لاکھوں ایکڑ زرعی زمینیں بنجر ہورہی ہیں ـ قصہ یہاں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ کشن گنگا ہائڈرو الیکٹرک پراجیکٹ اور ریتلے ہائیڈرو پروجیکٹ جیسے کئی نام سامنے آئے جو ہماری خون چوسنے کے مترادف ہیں ـ جن کی وجہ  سے پنجاب اور  سندھ کے زرعی زمینیں بنجر ہوتی گئی  بلکہ کسی حد تک بنجر ہو چکی ہیں ـ ہم ابھی بھی سوئے ہوئے ہیں ابھی بھی وقت ہے کہ بھارت کی ابھی جارحیت کے خلاف فوری طور پر اقدامات اٹھائے جائیں ـ ہم گزشتہ پچیس تیس سالوں سے کالا باغ ڈیم کے چکر میں پہنسے ہوئے ہیں کہ کالا ڈیم بننا چاہے کہ نہیں ؟
کالا باغ ڈیم کو اس قدر متنازع  بنایا گیا جس کی وجہ سے اندرون ملک پھوٹ اور انتشار پھیلائی گئی ـ کالاباغ ڈیم پر سیاست کی گئی ـ کالا باغ ڈیم سمیت دوسرے نئے پراجیکٹس پر کام شروع کیا جانا چاہئے تھا  ـ تاکہ ہمارے حصہ کا پانی ضائع نہ ہو اور ہم اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ـ
 آج آپ کو سارا پاکستان تاریکی میں میں دوبا ہوا نظر آئے گا وجہ  اس کی صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم نے اپنے آنے والی نسلوں پر رحم نہیں کیا اگر ہم اپنی نسلوں پر رحم کرتے تو ہم بجلی امپورٹ کرنے کی بجائے اکسپورٹ کرتے ـ ابھی سے ہی اگر حکومت ہنگامی بنیادوں پر ڈیمز پرکام شروع کرے تو دس سالوں کے اندر اندر مزید ڈیمز بن سکتے ہیں ـ جن سے توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ پانی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے ـ آخر میں یہ بات میں بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں اگر  ہم نے ابھی بھی کچھ نہیں کیا تو آنے والے دنوں میں سوائے جنگ کے کچھ اور نہیں کرسکتے ہیں ـ  مگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے لہذا ملک کی خوشحالی کی خاطر ہمیں اتفاق رائے کے ساتھ مل جل کر کام کرنا ہوگا ـ
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق